مصباح الحق کے استعفے کی اندرونی کہانی

لاہور(ویب ڈیسک) مصباح الحق نے چیف سلیکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا مگر اس کے پیچھے کیا وجہ تھی وہ اب ظاہر ہو گئی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ سے ایک ذمہ داری واپس لینے کے بعد مصباح الحق کو سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر والا معاہدہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مصباح کے پرانے معاہدے کو از سر نو شکل دی جائے گی۔ایک موقر روزنامہ اخبار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو مجبور کیا کہ وہ ایک ذمے داری چھوڑ دیں۔قومی ٹیم کے ہیڈکوچ نے پہلے مزاحمت کی پھر پی سی بی حکام کاموڈ دیکھ کر وہ ایک عہدہ چھوڑنے پر رضامند ہوگئے مصباح کو بتادیا گیا کہ اگر آپ ایک عہدے سے دستبردار نہ ہوئے تو ہمیں خود اعلان کرنا ہوگا جس سے آپ کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔مصباح کو ایک عہدہ چھوڑنے کے لئے باعزت راستہ دیا گیا۔پی سی بی کے حددرجہ ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ مصباح الحق نے جمعے کو لاہور میں پی سی بی چیئرمین احسان مانی اور چیف ایگزیکٹیو وسیم خان سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں پی سی بی حکام نے مصباح الحق کو پیشکش کی کہ ایک عہدہ چھوڑ دیں ورنہ پی سی بی انہیں ایک ذمے داری سے سبکدوش کرنے کا تہیہ کرچکا ہے۔پی سی بی حکام کو مصباح الحق کی سلیکشن کے انداز پر تحفظات تھے۔پی سی بی حکام چاہتے تھے کہ مصباح الحق نئے کھلاڑیوں کو گروم کریں لیکن مصباح الحق پرانے اور آزمودہ کھلاڑیوں پر انحصار کررہے تھے۔احسان مانی اور وسیم خان کی میٹنگ میں پی سی بی کے بڑوں نے انہیں صاف صاف بتادیا کہ آپ کو اب صرف ہیڈ کوچ کی ذمے داریاں نبھانا ہیں۔یہ انکشاف مصباح کی ایک سالہ کارکردگی پر عدم اعتماد تھا۔پھر مصباح کی تنخواہ کا معاملہ زیر بحث آیا۔مصباح الحق چاہتے تھے کہ ان کی تنخواہ میں کٹوتی نہ جائے۔لیکن وسیم خان نے ان پر واضح کردیا کہ ان کی تنخواہ میں سے چیف سلیکٹر کے پیسے کاٹ لئے جائیں گے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق مصباح الحق کی تنخواہ میں دس لاکھ روپے سے زائد کٹوتی ہوگی۔اس وقت وہ 34لاکھ روپے لیتے ہیں اور پی سی بی میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے ملازم ہیں۔مصباح کی تنخواہ وسیم خان سے بھی زیادہ ہے۔پریس کانفرنس میں مصباح نے اعتراف کیا کہ مجھے جو معاوضہ چیف سلیکٹر کی مد میں ملتا تھا وہ اب نہیں ملے گا جو معاوضہ ہیڈ کوچ کی مد میں ملتا تھا وہ ملتا رہے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *