مطیع اللہ جان ہمارا کیا نقصان کررہا تھا ۔۔۔۔۔؟

لاہور (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران اپوزیشن کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ جو مرضی چاہے کر لیں، مجھے ان کی کوئی فکر نہیں، باہر بیٹھ کر فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ دباؤ بڑھا کر کسی نہ کسی

طرح بیٹھ کر مشرف کی طرح این آر او مل جائے۔‘اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے کیے گئے استعفے کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم استعفیٰ دے گا تو ان کی چوری بچ جائے گا اور باقیوں سے یہ ڈیل کریں گے جو نہیں ہو گا، ان کے پاس پرامن احتجاج کا حق ہے۔‘مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کے لیے حکومتی منصوبے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے فوری منصوبہ بنایا ہے، برطانیہ کی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ انھیں واپس بھیج دیں، ایک جھوٹ بول کر مجرم باہر گیا، کسی مجرم کو ایسی چھوٹ نہیں دی جاتی لیکن ہم نے انسانی بنیادوں پر باہر جانے کی اجازت دی۔‘وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف باہر کے لوگوں سے باقاعدہ مل رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف سازش کر رہیں ہیں، ہم ان کو واپس بلا رہے ہیں۔’جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دینے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے قانون میں فرق کیا تو ہمارا ملک کبھی بھی آگے نہیں بڑھے گا، اگر کسی نے کوئی مزید سوال کیا تو ہم ان سے تفتیش کریں گے۔‘عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میری نظر میں اپنے اور دوسروں کے چوروں اور بدعنوان لوگوں میں فرق کرتے ہیں تو احتساب ختم ہو جاتا ہے، اگر جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کے حوالے سے کسی نے سوال کیا تو تفتیش کریں گے اور ضرورت پڑی تو ایف آئی اے کے حوالے کریں گے۔‘سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمے پر وزیراعظم نے کہا کہ ’ایسٹ ریکوری یونٹ میں ایک چیز آئی ہم نے عدلیہ کو بھیج دی، یا تو کہیں اس ملک میں کوئی مقدس گائے ہے، ایسا ہوا تو احتساب نہیں ہوگا۔‘انھوں نے کہا کہ ’ایسٹ ریکوری یونٹ میں چیزیں آئیں تو شہباز شریف کے خلاف کیسز بنے اسی طرح یہاں بھی بات آئی لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا بلکہ عدلیہ کو بھیج دیا کہ آپ فیصلہ کریں۔‘صحافیوں کے لاپتہ ہونے سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’مطیع اللہ جان کے معاملے پر ہماری حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، اس سے ہمیں کیا فائدہ ملا اور وہ ہمیں کیا نقصان پہنچا رہے تھے کہ ہم لاپتہ کرتے یا کسی اور کو گم کریں۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *