مظفرگڑھ : شہر میں ان دنوں موضوع بحث کیس کا ڈراپ سین ہو گیا

مظفر گڑھ(ویب ڈیسک) پولیس افسر کے ہاتھوں غلط کاری کا شکار ہونے والی مطلقہ خاتون نے پیسے لے کر عدالت میں ملزم کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا۔خبروں کے مطابق گزشتہ جمعے کے روز 26 نومبر کو مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے علاقے پرہاڑ شرقی میں پولیس اے ایس آئی نے

مبینہ طور پر مطلقہ خاتون مبینہ طور پر غلط کاری کا نشانہ بنایا، متاثرہ خاتون کے بیان پر 4 اہلکاروں کے خلاف تھانہ سٹی کوٹ ادو میں مقدمہ درج کرلیا گیا اور پولیس نے اے ایس آئی امتیاز سہرانی کو گرفتار کرکے عہدے سے معطل کردیا تھا، تاہم اب کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا ہے، اور مبینہ طور پر غلط کاری کا نشانہ بننے والی خاتون کیخلاف مقدمہ درج کرکے اسے بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون نے اے ایس آئی امتیاز سہرانی کے خلاف پہلے غلط کاری کا مقدمہ درج کرایا اور بعد میں اس سے لاکھوں روپے لے کر پہچانے سے انکار کر دیا، خاتون نے ملزمان سے مبینہ طور ساز باز کرتے ہوئے 50 لاکھ روپے وصول کرکے ملزم اے ایس آئی کو عدالت میں پہچاننے سے انکار کردیاتھا۔عدالت نے خاتون کی جانب سے پیسے بٹورنے کے بعد غلط کاری کے ملزم کو مقدمے میں بری کروانے کی کوشش پر متاثرہ خاتون کے خلاف کاروائی کی، اور اسے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، جب کہ پولیس نے پولیس نے خاتون کو حراست میں لے لیا اور اس کی نشاندہی پر ملزمان سے وصول کی گئی بھاری رقم بھی برآمد کرلی۔26 نومبر کو خبر سامنے آئی تھی کہ مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے علاقے پرہاڑ شرقی میں پولیس اے ایس آئی نے مطلقہ خاتون کو مبینہ غلط کاری کا نشانہ بناڈالا، متاثرہ خاتون نے پولیس کو بیان دیا کہ اے ایس آئی امتیاز سہرانی نے کسی خاندانی کیس کے حوالے سے معلومات لینے کے لیے متاثرہ خاتون کا نمبر لیا تھا، 24 نومبر کی رات کو اے ایس آئی نے ملزمہ خاتون کی گرفتاری کے لیے ساتھ چلنے کو کہا، رات ہونے کے باعث گھر کی خواتین نے اکیلے ساتھ جانے سے منع کیا تو اے ایس آئی امتیاز اور 3 اہلکار گھر میں داخل ہوگئے، اور اہلخانہ کے سامنے غلط کاری کا نشانہ بنایا، اور سنگین وارننگز دیکر فرار ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کے بیان پر 4 اہلکاروں کے خلاف تھانہ سٹی کوٹ ادو میں مقدمہ درج کرلیا گیا، اور اے ایس آئی کو گرفتار کرکے عہدے سے معطل کردیا گیا۔

Comments are closed.