مظہر برلاس کی ایک شاندار سیاسی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) میں نے پچھلے پچیس تیس برسوں میں پارلیمنٹ کے اندر پیپلز پارٹی کے اراکین سے بہتر پرفارم کرتے ہوئے لوگ نہیں دیکھے۔ کیا اِس پوری پارلیمنٹ میں اعتزاز احسن جیسا کوئی ہے، جس کی تقریر سے دانشوری جھلکتی ہے، جس نے دو جملوں میں لیگی چوہدری نثار علی خان

کو فارغ کر دیا تھا۔ نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اِس وقت پوری پارلیمنٹ میں کسی اور پارٹی کے پاس شیری رحمٰن جیسی لائق فائق خاتون ہے، قومی اور بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والی، پُراعتماد لہجے میں گفتگو کرنے والی شیری رحمٰن جیسی سمجھدار رہنما کسی اور پارٹی میں نہیں ہے۔پیپلز پارٹی کے لوگ کتاب سے رشتہ نہیں توڑتے، بھٹو صاحب اور بےنظیر بھٹو نے بھی کتابیں لکھیں، اعتزاز احسن، شیری رحمٰن، یوسف رضا گیلانی اور رضا ربانی نے بھی کتابیں لکھیں اور تو اور رحمٰن ملک بھی چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ سسی پلیچو کو ادب اور ثقافت پر دسترس حاصل ہے، خاص طور پر سندھی ادب اور ثقافت سسی پلیجو کے لہجے میں بولتے ہیں۔ کیا شازیہ مری قانون سازی میں کسی سے پیچھے رہتی ہیں۔ کیا راجہ پرویز اشرف اور خورشید شاہ کی تقریریں باقی اراکین سے بہتر نہیں ہیں۔ راجہ پرویز اشرف تو کئی زبانوں میں تقریر کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی تیسری صف میں کھڑے قادر پٹیل بڑے بڑوں کو چپ کروا دیتے ہیں۔ کیا نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا معیشت کے زاویوں سے باقی اراکین سے زیادہ واقف نہیں ہیں۔ سلیم مانڈوی والا نے اسحاق ڈار کی معاشی پالیسیوں میں سے اس وقت نقائص نکالے تھے جب باقی سب چپ تھے۔ہم نے پچھلے پچیس برسوں میں رحمٰن ملک سے بہتر، متحرک اور دلیر وزیر داخلہ نہیں دیکھا۔ یوسف رضا گیلانی سے زیادہ پارلیمنٹ میں حاضری کا پابند وزیراعظم بھی نہیں دیکھا گیا۔ ن لیگ کی طرف سے پس پردہ ملاقاتوں کے حوالے سے محمد زبیر کا نام سامنے آیا ہے۔

اس سلسلے میں بھی پیپلز پارٹی آگے ہے۔ پس پردہ مذاکرات میں ڈاکٹر قیوم سومرو سے زیادہ ماہر کسی اور پارٹی کے پاس نہیں۔ سینیٹ میں دبنگ انداز سے بےباک بولنے والا مصطفیٰ نواز کھوکھر پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ پنجاب اسمبلی جانتی ہے کہ پوری پنجاب اسمبلی میں سید حسن مرتضیٰ سے بہتر عوامی ترجمانی کرنے والا کوئی نہیں، سید حسن مرتضیٰ پنجابی میں تقریر کرتا ہے مگر عوامی نبض پر ہاتھ رکھنا نہیں بھولتا۔کیا سندھ سے اُٹھنے والی چار آوازوں میں ناصر شاہ، سعید غنی، مرتضیٰ وہاب اور شہلا رضا کا کوئی توڑ کسی سیاسی جماعت کے پاس ہے؟ کیا مولا بخش چانڈیو کا دبنگ انداز لوگ بھول گئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو زرداری کی تقریروں میں بھی بہت بہتری آئی ہے اور آصف علی زرداری کی سیاست کے تو اپنے رنگ ہیں۔خواتین و حضرات! آپ دوسری جماعتوں کی خواتین اراکین سے پوچھ لیں، وہ یہ ضرور کہیں گی کہ خواتین کے حوالے سے پیپلز پارٹی سے بہتر کوئی جماعت نہیں۔ اقلیتوں کے حوالے سے بھی پیپلز پارٹی کا نام سرفہرست ہے۔اِس جماعت نے اقلیتوں کے لئے بھی بہت کام کیا ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ سے باہر بھی جھانکیں تو مخدوم فیصل صالح حیات، قمر زمان کائرہ، فیصل کریم کنڈی اور چوہدری منظور جیسے اچھی گفتگو کے حامل لوگ کسی اور پارٹی میں نہیں ملیں گے۔ اسی طرح سید نیر بخاری، فرحت اللہ بابر اور نوید چوہدری جیسی سمجھدار شخصیات شاید دوسری پارٹیوں میں نہیں ہیں۔ پلوشہ خان ہو، نفیسہ شاہ، شرمیلا فاروقی ہو یا پھر ناز بلوچ، ٹی وی چینلز پر پارٹی کا بھرپور دفاع کرتی ہیں۔صاحبو! پنجاب کے دولت مندوں نے آمریت کی طاقت کے سہارے پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کو بہت کچلا مگر اب وقت کیسے تبدیل ہوا ہے، آج وہی دولت مند طبقہ بلاول بھٹو زرداری کے لئے بڑے جلسے کا اہتمام کر رہا ہے۔ اس جلسے سے بلاول بھٹو کا خطاب بہت کچھ سمجھا دے گا لیکن یاد رہے کہ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں، پیپلز پارٹی جمہوریت کو گرنے نہیں دے گی۔ بقول سرور ارمان ؎ہم تو موجود تھے راتوں میں اجالوں کی طرح۔۔لوگ نکلے ہی نہیں ڈھونڈنے والوں کی طرح۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *