مظہر عباس نے اندر کی کہانی بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج کل سنا ہے راولپنڈی، اسلام آباد میں سردی بہت ہے۔ ایسے میں مولانا فضل الرحمٰن اور حزبِ اختلاف کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی ’’چائے پانی‘‘ کی درخواست کو فوراً قبول کر لینا چاہئے۔

اِس سرد موسم میں سیاست کی گرمی نے مزہ دوبالا کردیا ہے مگر حیرت ہے جو کام PDMکے حامیوں نے اسلام آباد میں کرنا تھا، وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی امریکی دارالحکومت میں کررہے ہیں۔ فرق اتنا ضرور آیا ہے کہ وہاں ہزاروں کی تعداد میں نیشنل گارڈز طلب کرلئے گئے ہیں اور یہاں ’’ریڈزون‘‘ میں مظاہرہ کرنیکی اجازت دے دی گئی۔جمہوریت تو آگئی نا۔ رہی بات سیاست کی تو ’’براڈشیٹ‘‘ نے پورے نظام کو ہی چارج شیٹ کردیا ہے، کیا مشرف اور کیا نواز، زرداری یہاں تو موجودہ حکمرانوں پر بھی سوالات اٹھ گئے۔میاں صاحب اور کمپنی نے تو سب سے پہلے لندن کورٹ کے فیصلے کو اپنی بےگناہی سے تعبیر کردیا حالانکہ ان کی اپیل کا فیصلہ آنا باقی ہے۔دوسری طرف ’’براڈشیٹ‘‘ یا براڈ چارج شیٹ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ سیاست میں کیسے ’’مداخلت‘‘ ہوتی رہی ہے۔ کون سا الیکشن ہے حضور جس میں انتخابات سے پہلے اور بعد میں معاملات کہیں اور نہیں طے ہوتے؟ کراچی کا شمارتو خیر اب کسی گنتی میں ہی نہیں، یقین نہ آئے تو حکومتی اتحادیوں سے ہی پوچھ لیں یا پاک سرزمین پارٹی والوں سے معلوم کر لیں۔ جی، میں 2018کے الیکشن کی بات کررہا ہوں مگر یہاں بات پنجاب کی ہورہی ہے۔اب چوہدری برادران کتنے ہی عمران خان سے ناراض یا عثمان بزدار سے بےزار ہوں، مجال ہے PDMکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں۔ رہ گئی بات باقی ماندہ اپوزیشن کی تو اُن کے لئے ایک زرداری صاحب ہی کافی ہیں۔ کہاں حزبِ اختلاف حکومت گرانے نکلی تھی اور کہاں خود کو بچانا مشکل ہورہا ہے۔ زرداری صاحب نے استعفوں سے پیچھے ہٹ کر نہ صرف اپنی سندھ حکومت بچا لی بلکہ سینٹ انتخابات میں حصہ لے کر تحریک کو ویسے ہی بٹھا دیا۔ اب کم از کم وزیراعظم عمران خان کو ان کا شکریہ تو ادا کرنا چاہئے۔خان صاحب بھی کیا کریں؟ تحریک انصاف کو ابھی ایک دریا اور پار کرنا ہے اور وہ ہے فارن فنڈنگ کا۔ ویسے میں الیکشن کمیشن پر بھی حیران ہوں۔ شاید ہی اِس کمیشن کی تاریخ میں کسی درخواست پر چار سال لگا دیے گئے ہوں۔ حزبِ اختلاف کا احتجاج اپنی جگہ، معاملہ اتنا آسان ہوتا تو اتنے سال نہ لگتے۔کاش خان صاحب 2013میں پارٹی الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی پر جسٹس وجیہہ الدین کی رپورٹ یا بعد میں تسنیم نورانی کی بات ہی مان لیتے تو آج PTIکے کئی بانی رکن اُن کے ساتھ ہوتے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.