مظہر عباس کا تہلکہ خیز سیاسی تبصرہ

لاہور (وب ڈیسک) ہمارے حکمران اکثر غافل رہتے ہیں زمینی حقائق سے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے سب اچھا ہے۔ جو ایجنسیاں ان کو رپورٹ کرتی ہیں، وہ انہی پر اعتماد کرنے لگتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے یہ کہا تھا کہ وہ I.B سے تحقیقات کرواتے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بارے میں

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی کروائی تھیں مگر جب ایک ان کے ہم نام اینکر عمران نے سامنے کچھ حقائق رکھے تو وہ بزدار کایہ کہہ کر دفاع کرنے لگے کہ آخر ان کے حلقے والوں کا دبائو بھی ہوتا ہے۔بظاہر عمران خان ایک طاقتور وزیراعظم نظر آرہے ہیں۔ ریاستی ادارے بھی یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ ہیں مگر حال ہی میں خلاف توقع ہونے والا ظہرانہ اس طرف اشارہ تھا کہ سب اچھا نہیں ہے۔اتحادیوں کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے گو کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں مگر کسی اصول پر نہیں، کسی کے کہنے پر۔گجرات کے چوہدریوں کی ناراضی تاحال برقرار ہے اور انہوں نے خان صاحب کا ’’نمک‘‘ کھانے سے انکار کردیا شاید وہ باربار کسی اور کا نمک کھانے کو تیار نہیں۔ رہی بات متحدہ قومی موومنٹ کی تو وہ ڈھائی سال میں کوئی ایک سیاسی مطالبہ منوانے میں ناکام رہی، ان کی ڈور بھی کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ جب بھی وہ کوئی ناراضی کا اظہار کرتے ہیں تو ڈور کھینچ لی جاتی ہے۔عمران خان کسی بھی صورت میں حزبِ اختلاف سے بات کرنے کو تیار نہیں اور ہر بار وہ NRO کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ ان کو پورا یقین ہے کہ حزب اختلاف میں وہ دم خم نہیں ہے جو انہیں استعفیٰ یا نئے انتخابات پر مجبور کردے۔انہیں یہ بھی یقین ہے کہ طاقتور ریاستی اداروں کا کوئی حلقہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پیچھے ہے۔ ایک بار جب مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو خان صاحب کو شک ہوا تھا اور

انہوں نے اداروں کے افسران پر ناراضی کا بھی اظہار کیا کہ یہ اسلام آباد تک کیسے پہنچے۔اب اگر PDM کے پیچھے کوئی ’’قوت‘‘ نہیں ہے اور بغیر کسی اشارے کے وہ ایک بار پھر اسلام آباد کا رخ کررہے ہیں تو پھر اس تحریک کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ کیا حزب اختلاف یہ موڈ بنا کر آرہی ہے کہ ریاستی ادارے غیر جانبدار ہوجائیں، اتحادیوں کی ڈور کاٹ دیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو شاید آئینی طریقے سے پہلے پنجاب میں اور پھر بلوچستان اور وفاق میں عدم اعتماد کی تحریکیں لائی جائیں۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو بات تصادم کی جانب جاسکتی ہے جس کیلئے کم ازکم جے یو آئی اور مسلم لیگ ن تو تیار ہیں۔ اگر پی پی پی کو کوئی بڑا ریلیف نہ ملا تو وہ بھی شاید ’’اینٹ سے اینٹ نہ سہی پتھر سے پتھر‘‘ تک تو ساتھ دے دے گی۔۔ رہ گئی بات اسمبلیوں سے استعفوں کی تو وہ بھی صرف اس صورت میں آسکتے ہیں کہ یہ یقین ہوجائے کہ حکومت جارہی ہے۔اینٹ سے اینٹ بجا دینے والا بیان دے کر زرداری صاحب نے 2015ء میں اپنے لئے بڑی مشکلات کھڑی کرلی تھیں اس وقت بھی انہوں نے میاں صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ ’’کراچی آپریشن کو بے لگام نہ چھوڑیں، سب لپٹ جائیں گے۔میاں صاحب! جو آج ہمارے ساتھ ہورہا ہے، وہ کل آپ کے ساتھ بھی ہوگا۔‘‘ یہ 2015ء کی بات ہے۔ظاہر ہے جب آدمی وزیراعظم ہوتا ہے تو وہ بات کو ایک کان سے سنتا ہے اور دوسرے سے نکال دیتا ۔ ویسے تو ہماری سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں مگر بظاہر میاں صاحب کی واپسی اتنی ہی ناممکن ہے جتنی الطاف حسین کی ۔مگر اب تک مسلم لیگ کا قائم رہنا اور بڑے بڑے جلسے اور میاں صاحب کا غیر لچکدار رویہ خان صاحب کیلئے کچھ نہ کچھ سوچنے کیلئے کافی ہے۔اگر یہ تحریک اشاروں پر نہیں چل رہی تو اس کا ٹارگٹ بھی عمران خان نہیں ہیں۔ یہ کچھ کچھ مجھے ایم آر ڈی یا تحریک بحالی جمہوریت کی طرح کا اتحاد نظر آرہا ہے۔بہتر ہے کہ وزیراعظم مسائل کو پارلیمنٹ میں لے جائیں اور پارلیمانی طریقے سے مذاکرات کا آغاز کریں۔ اپنا ایجنڈا اپوزیشن کو بھیجیں، PDM اگر انکار کرتی ہے اور کوئی غیر آئینی اقدام کی طرف صورتحال کو لے جاتی ہے تو یہ ’’خطرے کی گھنٹی‘‘ جس کا آخر میں الزام مجموعی طور پر سیاستدانوں پر ہی آئے گا اور کوئی بھی جمہوری سوچ رکھنے والا شخص ایک اور 5؍جولائی 1977 ءنہیں چاہتا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *