مظہر عباس کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہباز کی سیاست بھی کمال کی سیاست ہے کبھی بس مس ہوجاتی ہے کبھی فلائٹ۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی طیارہ کیس میں سزا (عمر قید) بڑے بھائی کو ہوئی اور شہباز بری ہوگئے۔ 10سال کی ڈیل ہوئی

تو شہباز کے نہ جانے کے اصرار کے باوجود انہیں بھی سعودی عرب جانا پڑا۔لگتا یہی ہے کہ کچھ قوتیں شہباز کو باہر بھیجنے کے حق میں تھیں مگر جو لوگ ’کپتان‘ کو کرکٹ کے زمانے سے جانتے ہیں انہیں پتا ہے کہ وہ تو سلیکٹرز کی بنائی ہوئی ٹیم بدل دیتا تھا، اگر اسے پسند نہ آئے۔ لگتا ہے یہاں کپتان نے، نواز شریف کو جس انداز میں بھیجا گیا اس کا غصہ چھوٹے بھائی پر اتار دیا۔ ایسا لگتا ہے اس بار ’شریفوں اور سلیکٹرز‘ کے بیچ رکاوٹ خود عمران خان ہے۔اب شہباز صاحب کے پاس آپشن ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وقت شہباز شریف سمیت بڑی جماعتوں کے سربراہ کم و بیش 70سال کے لگ بھگ ہیں اس لئے 2023 کا الیکشن ان میں سے بیشتر کا یہ آخری الیکشن ہوگا۔ لہٰذا اگر اس بار شہباز صاحب کابس نہ چل سکا تو وہ بحیثیت 12ویں کھلاڑی ہی ریٹائر ہو جائیں گے۔حال ہی میں شہباز صاحب کو ایک قریبی ساتھی نے مشورہ دیا کہ بڑے میاں صاحب کو بتائیں کہ ’نئی غلطیاں ضرور کریں پرانی نہ دہرائیں۔‘ 1993 میں سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ان کی حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے بحال کیا مگر صدر غلام اسحاق خان نے فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔میاں صاحب نے ’ڈکٹیشن نہ لینے‘ کی ولولہ انگیز تقریر کے بعد ’ڈکٹیشن‘ لیا اور صدر اسحاق خان کے ساتھ استعفیٰ دیدیا جسے بعد میں کاکڑ فارمولے کا نام دیا گیا۔ ایسا ہی کچھ جنرل مشرف کے دور میں ہوا۔ ایک سال دونوں بھائیوں نے قید کاٹی۔

بیگم کلثوم نواز مرحومہ نے تحریک کا آغاز کیا اور بہت سے پارٹی لیڈروں کو تھوڑی شرم بھی دلائی اور جب تحریک زور پکڑنے لگی تو وہ ایک ایسی ڈیل کر بیٹھے جس میں 10سال سیاست نہ کرنے کا وعدہ شامل تھا۔ شہباز باہر جانے کو تیار نہیں تھے مگر انہیں زبردستی جہاز میں بھائی کی برابر والی سیٹ پر بٹھا دیا گیا۔اس بار بھی میاں صاحب باہر ہیں اور شہباز ’اندر۔ باہر۔‘ اب وہ پارلیمانی سیاست تک محدود ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ حال ہے کہ وہ خود ہی لڑ رہی ہیں، دست و گریباں ہیں کپتان سے کیا لڑیں گی۔ پچھلے پورے تین سال میں ایک بار بھی حکومت کو اپوزیشن سے کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ حکومت کو جو بھی خطرہ ہے وہ ’اپنوں‘ سے ہی ہے۔ کبھی میں تفصیل سے لکھوں گا میاں نواز شریف کی سیاست کاریوں پر۔ ایک بڑی پارٹی کھڑی کرکے خود ہی بیٹھ جاتے ہیں۔لیڈر فرنٹ سے لیڈ کرتا ہے۔ اب دیکھیں میاں صاحب اور بیٹی مریم نواز کی اپیلوں کا کیا فیصلہ آتا ہے۔ اگر یہ مسترد ہو گئیں تو تب بھی میاں شہباز میاں 12 ویں کھلاڑی ہی رہیں گے اور منظور ہوگئیں تب بھی الیکشن جیتنے کی صورت میں عثمان بزدار کی جگہ لے سکتے ہیں۔ جب موقع ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی شاہد خاقان آجاتا ہے۔ بدقسمتی سے مخدوم امین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ جب پورا یقین تھا کہ وزیراعظم بن جائیں گے تو یوسف رضا گیلانی آگئے وہ بھی سیاست کے 12ویں کھلاڑی ہی رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *