مظہر عباس کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) اسی مہینہ میں حال ہی میں قائم ہونے والے حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے تحریک کا آغاز کیا جارہا ہے جس کا پہلا جلسہ 16؍اکتوبر کو گوجرانوالہ، 18اکتوبر کو کراچی، پھر 25؍اکتوبر کو کوئٹہ میں طے پایا ہے۔یہ جلسے کسی تحریک کی

شکل اختیار کرتے ہیں کہ نہیں یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہے مگر یہ طے ہے کہ ان کی کامیابی یا ناکامی میں حکومت کا حصہ شامل ہوگا۔نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تحریک کے لئے مہنگائی کا ڈیزل حکومت مہیا کرتی رہی اور زور زبردستی کی تو وہ خود ہی اس کو کامیاب کروا دے گی۔اسی مہینہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک سابق وزیر اعظم اشتہاری قرار پائے اور اب ان کا نہ صرف اشتہار ملک کے دو بڑے اردو اور انگریزی کے اخبارات jang اور ڈان میں شائع ہوگا بلکہ لندن کے بڑے اخبارات میں بھی دیا جائے گا۔ اگر FIA کے سابق DG بشیر میمن کا یوٹیوب پر ایک صحافی کو دیا گیا انٹرویو سامنے نہ آتا جس کی تصدیق میں نے خود میمن صاحب سے کی تو میں یہ نا کہتا کہ وہ کتنے دبائو میں رہے ہیں؟ پورے شریف خاندان کو قید میں ڈالنے کے لئے یہ سارے کام تحمل اور برداشت کے ساتھ بھی ہوسکتے تھے۔غداری اور بغاوت، منی لانڈرنگ سب ہی تحقیقات چل تو رہی ہیں مگر کیا کہیں ’’قصرِ شاہی سے یہ حکم صادر ہوا‘‘ یاد ہے نہ جالب کا یہ مصرع بھٹو صاحب کے زمانے میں کہا تھا ’’لاڑکانہ چلو ورنہ تھانہ چلو‘‘۔ بس شہر بدلتے رہے، نام بدلتے رہے۔ سب کا اندازِ حکمرانی کم و بیش ایک ہی جیسا رہا ہے۔آپ بھی کالم پڑھتے ہوئے سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے اس کا عنوان ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کیوں رکھا؟ دراصل بشیر میمن نے مجھے بتایا کہ اس

نے استعفیٰ دیتے وقت ایک طویل خط بھی تحریر کیا تھا جو وہ تمام سرکاری افسران کو بھیجنا چاہتا تھا جس کا عنوان تھا ، ’’پاکستان زندہ باد‘‘۔’’مظہر بھائی، میں ایک سرکاری ملازم تھا اور جواب دہ میں ریاست کو تھا، جس کسی نے مجھے خلافِ قانون جانے اور اپنے اختیار سے تجاوز کا کہا میں نے اُسے منع کردیا اور معذرت کرلی۔ اب سرکار اس پر ناراض ہوگئی، میری پنشن روک لی۔ 68لاکھ روپے کا چیک میرے اکائونٹ میں جمع کراکر واپس لے لیا جائے اور مجھے عدالت جانا پڑے تو میں کیا کروں؟ کیا یہ ہے میری اور میرے جیسے باوقار انداز میں کام کرنے والوں کی سزا‘‘؟مجھے یاد ہے کہ بشیر میمن نے اصغر خان کیس میں پچھلے سال عدالت میں رپورٹ جمع کرائی تھی کہ جن لوگوں نے پیسے دیے اُن میں سے کچھ ملک سے فرار ہوگئے اور پیسے لینے والے سیاست دان بشمول میاں نواز شریف انکاری ہیں۔میمن نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف بےنامی اکائونٹ کی تحقیقات میں بھی اہم کام کیا مگر ایک ملاقات میں اس پر وزیر اعظم نے، ان کے بقول، ان سے جو کہا وہ میں یہاں بیان نہیں کرسکتا کیونکہ وہ بات آف دی ریکارڈ ہے۔ استعفیٰ میں تو خیر انہوں نے صرف اتنا لکھا کہ ’’حکومت میرے کام سے خوش نہیں لہٰذا میں یہ استعفیٰ بھیج رہا ہوں‘‘۔اب آپ بتائیں ناصر درانی، طارق کھوسہ، اے ڈی خواجہ یا کلیم امام اور ایسے افسران کی کہانیاں سن کر بشیر میمن کے انٹرویو کو دیکھ کر اور ان سے بات کرکے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکمرانی چاہے کسی کی بھی ہو ’’طرز حکمرانی‘‘ ایک جیسا ہی ہے۔اب سیاسی جماعتیں ’’میثاق جمہوریت‘‘ کرلیں یا ’’میثاق پاکستان‘‘ جب تک آپ خود مثال قائم نہیں کریں گے، اپنے اندر جمہوریت نہیں لائیں گے، ہر دور میں کوئی ایک افسر ضرور کھڑا ہوگا اور آپ کو بےنقاب کرے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *