معاون خصوصی عامر ڈوگر کا تازہ ترین بیان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ملک عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم جنرل فیض حمید کو عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے تھے، انہیں یہ شکوہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے تقرر کا اعلان وزیر اعظم آفس سے

ہونا چاہیے تھا لیکن یہ پنڈی سے کردیا گیا، گزشتہ رات آرمی چیف اور وزیر اعظم کی طویل ملاقات میں معاملات طے پاگئے ہیں، اب وزارتِ دفاع کے ذریعے تین سے پانچ نام آئیں گے جن میں سے ایک کی منظوری وزیر اعظم عمران خان دیں گے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عامر ڈوگر نے کہا کہ پورے پاکستان کی نظریں ڈی جی آئی ایس آئی کے مسئلے پر لگی ہوئی ہیں۔ کابینہ کی میٹنگ میں وزیر اعظم نے تفصیل کے ساتھ بات کی اور کہا کہ ان کے جنرل باجوہ سے مثالی تعلقات ہیں، آج تک کسی وزیر اعظم اور آرمی چیف کے اتنے اچھے تعلقات نہیں تھے۔عامر ڈوگر کے مطابق وزیر اعظم نے کابینہ ارکان سے کہا کہ افغانستان کا ایشو چل رہا ہے اور ہمارا اس میں اہم کردار ہے، وزیر اعظم کی خواہش تھی کہ جب تک افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا تب تک جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ رہتے۔گزشتہ رات وزیر اعظم اور آرمی چیف کی تین سے چار گھنٹے کی تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں ساری چیزیں اچھے ماحول میں سیٹل ہوگئیں، اب تین یا پانچ نام آئیں گےجن میں سے ایک نام کی منظوری دے دی جائے گی۔عامر ڈوگر نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی کوئی انا نہیں ہے،وزیر اعظم کی اپنی عزت ہے اور آرمی چیف کی اپنی عزت ہے۔ ہندوستان ہماری طرف منہ کھول کر بیٹھا ہوا ہے تو ایسا تاثر نہیں جانا چاہیے کہ ہم فوج کو کو انڈر مائن کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو شکوہ ہے کہ پنڈی سے پہلے اناؤنسمنٹ ہوگئی حالانکہ یہ اعلان وزیر اعظم آفس سے ہونا چاہیے تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جنرل ندیم احمد انجم بہت پروفیشنل آدمی ہیں ، ان کے نام پر کوئی اعتراض نہیں ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ انہی کے نام کی منظوری دے دیں۔عامر ڈوگر نے بتایا کہ اب سمری واپس جائے گی جس کے بعد وزارتِ دفاع کے ذریعے وزیر اعظم کے پاس نام آئیں گے جن میں سے ایک کی منظوری دے دی جائے گی۔