معاہد ہ متنازعہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کا معاملہ کسی معاہدے تک پہنچنے سے قبل ہی متنازع ہوگیا ہے جس سے ملک کے موجودہ سیاسی نظام کے گرد بحران پیدا ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ حکومت نے دلیل دی ہے کہ اس کا مقصد ملک میں

پائیدار امن لانا اور بدامنی پر مبنی د تنازع ختم کرنا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں شہریوں بشمول اہلکاروں نے قربانی دی تاہم، ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ کئی تنازعات کا شکار ہوچکا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ریاست پاکستان کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ ماضی میں بھی حکومتیں، جن کے دعوے بہت عظیم تھے، نے بھی یہی کوششیں کی ہیں۔ تاہم، ٹی ٹی پی کے ساتھ کی گئیں ایسی تمام تر کوششیں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدے کی کوشش کی تھی اور یہ بات اس وقت سامنے آئی جب شرپسندوں نے کراچی میں جناح ایئرپورٹ پر دھاوا بولا تھا ۔ اب حکومت اور ٹی ٹی پی نے لڑائی بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔ اقتدار میں اہم شخصیات کا اصرار ہے کہ مذاکرات اسی صورت ہونگے جب شرپسند ہتھیار ڈال دیں گے۔ یہ وہیں باتیں جو پیپلز پارٹی کی حکومت میں یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں کی گئی تھیں۔ انہوں نے بھی ٹی ٹی پی کے ساتھ خفیہ معاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ بھی کامیاب نہ ہو پائیں۔ مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد بھی ٹی ٹی پی نے اہلکاروں، اسکولوں اور اقلیتوں پر اٹیکس بڑھا دیے۔ اپنے عروج کے دنوں میں بھی ٹی ٹی پی ایسے علاقوں میں ریاست کی عملداری ختم کرنے میں ناکام رہی جہاں یہ تنظیم مضبوط سمجھی جاتی تھی۔ تاہم، بعد میں اس تنظیم نے پاکستان میں اپنی مرضی و منشاء کے مطابق اٹیکس کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی۔ نتیجتاً، ملک کی سیاسی و فوجی قیادت کی نظر میں ٹی ٹی پی سے درپیش خطرہ بڑھ گیا جس کے بعد اے پی ایس پشاور میں ہونے والے واقعہ میں 150؍ بچوں اور اساتذہ کی افسوسناک موت ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد سیاسی و فوجی قیادت نے مل کر ٹی ٹی پی کے خطرے کو کچلنے کا فیصلہ کیا اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت وزیرستان میں بھرپور فوجی کارروائی کی جس سے ریاست کی نگرانی اور انسداد شر کی کوششوں کو تقویت ملی۔ کچھ وقت کیلئے ٹی ٹی پی کے نیٹ ورکس کو تباہ اور ٹھکانوں کا قلع قمع کر دیا گیا ، ملک بھر میں بدامنی کی لہر میں کمی آئی۔ فوجی ایکشن کے بعد میڈیا میں ایک مہم شروع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان نے بدامنی کیخلاف لڑائی جیت لی ہے تاہم باضابطہ طور پر فتح کا اعلان نہیں کیا گیا۔

Comments are closed.