معنی خیز پیشگوئی کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) مجھے سی سی پی او آفس کی دیواروں نے دلچسپ بات بتائی کہ لاہور کے ایک سینئر رپورٹر ( نام لکھنا ضروری نہیں ) نے عمر شیخ کے سی سی پی او لگنے کے ساتھ ہی ان کی مختلف جگہوں پر تعریفوں کے انبار لگانے شروع کر دئیے حالانکہ اس وقت پوری سول سوسائٹی

ان کے موٹر وے واقعے کی خاتون کو رات کے وقت کسی مرد کو ساتھ لے کر سفر کرنے کے مشورے پر شدید برہم تھی، نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے بھی اس پر طنزیہ کالم ’ ہم شیخ عمر کے عہد میں زندہ ہیں‘لکھا تھا۔ہمارے اس ساتھی نے ان تعریفوں کے ساتھ ہی اپنا ایس ایچ او لگوانے کی سفارش کر دی۔واقفان حال کے مطابق اس کا جواب یہ تھا کہ اب میڈیا اہم نہیں رہا بلکہ اس کی بجائے سچ اہم ہو گیا ہے،میڈیا سے کہیں جو لکھنا ہے لکھ لے اورجو کہنا ہے کہہ لے،حق اور سچ کو پبلک ریلیشنگ کی کسی ٹیم کی ضرورت نہیں۔ میں خود یہ سمجھتا ہوںکہ اب میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا آچکا ہے جہاں ایک لمحے میں کاو¿نٹر فیکٹس اورآرگومنٹس آجاتے ہیں اور یوں جھوٹ بے نقاب ہوجاتا ہے۔توپیارے قارئین! میری رائے میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے بہت سارے فیصلے غلط ہوسکتے ہیں اورآپ کی رائے میں عمرشیخ ،چلبل پانڈے بھی ہوسکتے ہیں اورمنابھائی ایم بی بی ایس بھی۔ یہ بات ماننے والی ہے کہ ان کا کام کرنے کا اندازبڑے بڑے ڈی ایم جی اور پی ایس پی افسران جیسا نہیں ہے اور یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ان کاسٹائل رزلٹ دے رہا ہے اورہمیں پولیس میں نتائج ہی چاہئیں۔ میرے مطابق خدشہ صرف ایک ہے کہ موجودہ حکومت اپوزیشن کے خلاف جس طرح پولیس کو استعمال کررہی ہے عین ممکن ہے کہ عمر شیخ کی تمام تر کامیابیاں ان سیاسی ایف آئی آروں اور گرفتاریوں میں چھپ جائیں جو’ اوپر‘ کے احکامات پر ریکارڈ تعداد میں ہور ہی ہیں۔پھر کہوں گا، سیاست سے ہٹ کر، موجودہ صورتحال یوں ہے کہ وہ پولیس جو کسی سے نہیں ڈرتی تھی اب اپنے ہی سی سی پی او کی پولیسنگ آف دی پولیس سے ڈرنے لگی ہے۔ میری طرف سے یہی کہا جا سکتاہے کہ لگے رہو عمر شیخ، ہوسکتا ہے کہ عام آدمی کے لئے پولیس ڈپیارٹمنٹ میں عزت اور انصاف ملنے کا جو کرشمہ سات عشروں میں نہیں ہوسکا،وہ اب ہوجائے۔

Comments are closed.