ملالہ یوسفزئی نےاپنا نکاح پڑھانے والے قاری صاحب کو کیا تحفہ دیا ؟

برمنگھم (ویب ڈیسک) نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نکاح پر نکاح خواں کو مٹھائی کی ٹوکری تحفے میں دی گئی جب کہ نکاح خواں نے ملالہ اور ان کی والدہ کو قرآن مجید کی تفاسیر ہدیہ کیں۔ملالہ یوسفزئی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہائی پرفارمنس سنٹر کے جنرل منیجر عاصر ملک کا نکاح پڑھانے والے

علامہ قیام الدین کا کہنا ہے کہ ملالہ کا نکاح ان کے برمنگھم میں واقع گھر میں ہوا جس میں دونوں خاندانوں اور ملالہ کی کچھ سہیلیوں نے شرکت کی۔ ایک ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں علامہ قیام الدین نے بتایا کہ وہ ملالہ اور ان کے شوہر کیلئے اردو میں قرآن مجید کی تفسیر کا تحفہ لے کر گئے۔ انہیں میڈیا سے پتہ چلا کہ ملالہ کی والدہ پشتو میں بات کرتی ہیں تو اس لیے وہ ان کیلئے پشتو زبان میں تفسیر کا تحفہ لے کر گئے۔ ملالہ کے گھر سے انہیں مٹھائی کی ٹوکری تحفے میں دی گئی۔نکاح خواں کے مطابق ملالہ کے گھر میں بھی ایسا ہی ماحول تھا جیسا عام گھروں میں ہوتا ہے۔ ان کے والدین بھی عام والدین کی طرح اپنی بیٹی کی شادی پر خوش اور جدائی کا سوچ کر غمزدہ تھے۔ انہیں ایک ہفتہ پہلے ہی نکاح کی اطلاع دے دی گئی تھی تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی کو نہیں بتایا ، یہاں تک کہ ان کے اپنے گھر والے بھی اس شادی سے بے خبر ہی رہے اور انہیں بھی ملالہ کی تصاویر سے شادی کا پتہ چلا۔ایک اور ویب سائٹ کے مطابق علامہ قیام الدین برمنگھم میں ملالہ کے گھر کے نزدیک اسلامک سنٹر میں درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ وہ ایک اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر اور ایک اور تعلیمی ادارے کے نائب پرنسپل کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان خاص کے محلہ رستم خیل سے ہے اور وہ گزشتہ چھ، سات سال سے برمنگھم میں مقیم ہیں۔

Comments are closed.