ملالہ یوسفزئی کی خصوصی سفارش:

واشنگٹن(ویب ڈیسک)افغانستان کے معروف ٹی وی چینل پر کسی تالبان رہنما کا پہلی بار لائیو انٹرویو کرنے والی خاتون نیوز اینکر اپنا وطن چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہوگئیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق افغانستان کی نیوز اینکر بہشتا ارغند نے اہل خانہ سمیت اپنا وطن چھوڑ دیا ہے اور بیرون

ملک منتقل ہوگئی ہیں۔سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بہشتا ارغند نے بتایا کہ ہزاروں لوگوں کی طرح میں نے بھی افغانستان تالبان کے خوف سے چھوڑا تاہم ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب میں اپنے وطن لوٹوں گی۔24 سالہ نیوز اینکر بہشتا ارغند نے کابل پر قبضے کے بعد طلوع نیوز پر تالبان رہنما مولوی عبدالحق حمد کا انٹرویو کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔اس انٹرویو سے امید ہو چلی تھی کہ تالبان خاتون صحافیوں کو پردہ اسکرین پر آنے اور ملازمتیں کرنے کی آزادی دیں گے تاہم چند روز بعد ہی نجی ٹی وی کی خواتین صحافیوں کو کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔مولوی عبدالحق حمد کے بعد بہشتا ارغند نے ملالہ یوسف زئی کا بھی انٹرویو کیا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ ملالہ نے ہی خاتون نیوز اینکر کو ملک چھوڑنے میں مدد کی ہے۔

Comments are closed.