ملتان والے عثمان بزدار سے خوش کیوں ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اس وقت ساری نظریں پنجاب پر لگی ہوئی ہیں جب سے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں کیا ہوگا۔ یہ سوال بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی ساری توجہ بھی اب پنجاب پر ہے اور انہوں نے شفقت محمود اور خسرو بختیار کے ذریعے پارٹی کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کا فوری فیصلہ بھی کیا ہے، تاہم گھوم پھر کے بات عثمان بزدار پر آتی ہے کیونکہ پنجاب کی پگ ان کے سر ہے۔ شفقت محمود نے ان سے لاہور میں ملاقات کی ہے اور جلد ہی خسرو بختیار بھی ان سے ملیں گے۔ اگر عثمان بزدار نے اس طرح کارکنوں سے رابطے بڑھا لئے اور پنجاب بھر کے دورے کرکے تنظیم سازی کے عمل میں اپنا کردار اد اکیا تو بلدیاتی نتائج خیبرپختونخوا سے مختلف ہوں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ پارٹی کی گروپ بندی میں بھی شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے ہر ایک کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔ ان کے بارے میں یہ شکایات تو سامنے آتی ہیں کہ وہ بعض شہروں کو وقت نہیں دیتے، تاہم یہ شکایت کبھی نہیں آئی کہ وہ کسی شہر میں خاص گروپ کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ یہ تاثر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کے بارے میں موجود ہے اور اس کا نقصان بھی ہوا ہے، جس طرح وزیراعظم عمران خان کے لئے یہ ممکن نہیں وہ کسی خاص گروپ کی طرف جھکاؤ ظاہر کریں، کیونکہ وہ سب کے وزیراعظم اور چیئرمین ہیں، اسی طرح کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کے لئے بھی یہ کلیہ اپنانا ضروری ہے۔ عثمان بزدار اتحادیوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھے ہوئے ہیں اور ان کی مخالف جماعتوں کے ارکانِ اسمبلی میں بھی پذیرائی موجود ہے،

مسلم لیگ (ن) کے کئی ارکانِ اسمبلی ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور اپنے تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پنجاب حکومت کے منصوبے جاری ہیں۔ ملتان والے اس لئے خوش ہیں کہ یہاں نشتر ہسپتال ٹو بن رہا ہے، جواب تکمیل کے قریب ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں کارڈیالوجی ہسپتال کا منصوبہ تیزی سے مکمل ہو رہا ہے۔ مارچ تک نیا پاکستان صحت کارڈ پورے پنجاب کو مل جائے گا، جس سے دس لاکھ روپے سالانہ تک مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی۔ سکولوں کی اَپ گریڈیشن کے حوالے سے عثمان بزدار کا دعویٰ ہے شہبازشریف کے دور میں صرف پندرہ سو سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا جبکہ ان کی حکومت اگلے دو برس میں مجموعی طور پر 27ہزار سکولوں کو اپ گریڈ کرے گی۔ رواں سال 8ہزار سکول اپ گریڈ ہوں گے۔ ایسے بہت سے کام بلدیاتی انتخابات میں بہت مفید ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو پہنچتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کا پنجاب میں انعقاد درحقیقت مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے خدوخال متعین کرے گا۔ اگر وزیراعلیٰ عثمان بزدار، شفقت محمود اور خسرو بختیار سے مل کر بلدیاتی انتخابات میں بہتر کارکردگی اور نتائج دکھانے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ اس کے لئے سب سے اہم ضرورت پارٹی کے اندر موجود گروپ بندی کو ختم کرنے کی ہے جو بڑی حد تک سرایت کئے ہوئے ہے۔ اگرچہ عمران خان نے اپنی نگرانی میں یہ سب امور دیکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے،

تاہم وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر ذمہ داری اس لئے زیادہ ہے کہ وہ صوبے کے انتظامی سربراہ ہیں اور براہ راست معاملات میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ ان کی سیاسی بصیرت اور جوڑ توڑ کا امتحان بھی ہے۔ وہ اتحادیوں کو تو ساتھ ملانے کی کامیاب حکمت عملی رکھتے ہیں، البتہ پارٹی کے اندر مختلف گروپوں کو ایک جگہ بٹھانے میں وہ کیا کردار ادا کرتے ہیں، یہ اہم بات ہے۔مہنگائی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ خیبرپختونخوا میں جہاں پارٹی کی گروپ بندی نے نقصان پہنچایا وہیں مہنگائی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ مہنگائی پنجاب میں بھی موجود ہے اور لوگ اس سے بہت تنگ ہیں، ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والے بے خوف ہو کر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر پنجاب حکومت گڈ گورننس کے ذریعے مصنوعی مہنگائی کے عناصر پر قابو پا لیتی ہے تو اس کا بھی ایک اچھا تاثر جائے گا۔ پچھلے دنوں چیف سیکرٹری پنجاب کامران فضل ملتان آئے ہوئے تھے، انہوں نے انتظامی افسروں کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایسی ہی ہدایات جاری کیں، تاہم صرف ہدایات جاری کرنے سے بات نہیں بنتی، جب تک عملی اقدامات کے ذریعے نتائج کو یقینی نہ بنایا جائے۔ عثمان بزدار کی یہ بات بہت اچھی ہے کہ وہ پنجاب میں رونما ہونے والے ہر چھوٹے بڑے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہیں۔ خاص طور پر امن و امان کے حوالے سے ان کی گہری نظر ہے۔ اگر وہ عوام کو پولیس اور بااثر افراد کے مظالم سے نجات دلانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں تو عام آدمی تک اس کا ایک مثبت تاثر جائے گا اور احساس تحفظ میں بھی اضافہ ہوگا۔ عثمان بزدار کو اپنے اقتدار کے اس مرحلے پر یہ بات ضرور پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی انہیں عمران خان کا وسیم اکرم پلس ثابت کر سکتی ہے تو ناکامی ناقابلِ تلافی نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ صوبے کا کپتان ہونے کی حیثیت سے ٹیم کی اچھی پرفارمنس ان کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے انہیں اچھا کھیلنے کے لئے کمر کس لینی چاہیے۔

Comments are closed.