ملکہ ترنم نے ایسا کیا کہا کہ سب کی آنکھیں چھلک پڑیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ ملکہ ترنم نور جہاں کی وفات پر اپنے کالم میں، میں نے لکھا تھا ”روز قیامت جب اللہ کے سامنے وہ پیش ہوں گی اور اللہ نے اُن سے پوچھا ” میں نے تمہیں دنیا میں اِس لیے بھیجا تھا تم جاکر گانے گاﺅ؟“…

. وہ اپنے روایتی معصومانہ انداز میں اللہ سے پوچھے گی ” اے میرے مالک پہلے تُو بتا تُونے مجھے اتنی خوبصورت آواز کیوں بخشی تھی؟“….اُن کی زندگی کے آخری لمحات میں، میں اور ملک معراج خالد (نگران وزیراعظم) اُن کی عیادت کے لیے کراچی آغا خان ہسپتال گئے، اُن کے پورے جسم پر چادر تھی، وہ اتنی کمزور ہو گئی تھیں ہمیں لگا اُن کا نوے فی صد جسم پہلے ہی اللہ کے پاس جاچکا ہے، اُن کی آنکھیں بھی تیزی سے بجھتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں، ماحول بڑا سوگوار تھا، سوگواری کچھ کم کرنے کے لیے ملک معراج خالد نے اُن سے پوچھا ”میڈم جی کچھ یاد ہے آج تک کتنے گانے گائے ؟“….دوموٹے موٹے آنسواُن کی آنکھوں سے بہے، بڑی آہستگی سے بولیں ”ملک صاحب میتھوں گانیاں داتے گناہواں دا حساب نہ پوچھو“…. اللہ اکبر…. بہت یادیں ہیں پر میں مزید نہیں لکھوں گا، مجھے وہ لمحات یاد آگئے جب اُنہوں نے یہ جملہ بولا …. اُن کی وصیت کے مطابق اُن کے آخری دیدار کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہ چاہتیں تھیں اُن کا خوبصورت چہرہ ہی لوگوں کو یاد رہے….”سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں…. خاک میں کیا کیا صورتیں ہوں گی جو پنہاں ہوگئیں“!!

Comments are closed.