ملکی سیاست میں نیا موڑ آگیا

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عدالت کو اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میرا جینا مرنا پاکستان کے لئے ہے ، اس لیے 2004 میں پاکستان آیا تھا۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق شہباز شریف نے عدالت کو بتایا جنر ل مشرف نے 2005 میں واپس سعودی عرب بھیج دیا تاہم جب میں

لندن گیا تو وہاں سوچا کہ کرایہ دے کر رہنا ممکن نہیں اور 2005 میں فیصلہ کیا کہ پیسے ختم ہو جائیں گے تو برطانیہ کی ملکہ کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائوں گا اس لیے وہاں پہلی پراپرٹی خریدی۔احتساب عدالت نے نیب کو حکم دیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ایک ہفتے میں تحقیقات مکمل کرے ۔عدالت نے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں سات روز کی توسیع کردی ۔احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے شہباز شریف اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس پر سماعت کی ۔نیب حکام نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد شہباز شریف کو عدالت کے روبرو پیش کیا ۔کمر ا عدالت میں شہباز شریف نے ایک بار پھر نیب کے خلاف شکایات کے انبار لگا دئیے اور کہا جج صاحب مجھے کمر کی تکلیف ہے ، نیب حکام نے میری گھر سے منگوائی خصوصی کرسی چھین لی ہے اور عام کرسی فراہم کی ہے جس پر بیٹھ کر نمازپڑھتا اور کھانا کھاتا ہوں نیب کے اس اقدام سے کمر کی تکلیف مزید بڑھ گئی ہے ، نیب نے عمران خان نیازی اور شہزاد اکبر کے کہنے پر کرسی غائب کی ہے ۔ عمران خان سے ویسے مجھے ایسی ہی امید تھی وہ میرے خلاف جانے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *