ملک عدنان کی پریانتھا کو بچانے کی کوششیں مشکوک ،تہلکہ خیز حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) سیالکوٹ میں پریانتھا کمارا کو بچانے کا سہرا باندھنے والے ملک عدنان کا معاملہ کافی مشکوک ہے حیرت کی بات ہے کہ ہجوم نے پریانتھا کو زدوکوب کرکے زندگی سے محروم کر ڈالا اور جو بندہ کہتا ہے کہ وہ اس کو بچانے کے لیے اس کے اوپر گرا ہوا تھا

اسے اس سارے عمل میں خراش تک نہیں آئی۔ نامور صحافی چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر وہ سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش میں جان سے جاتا تو ایوارڈ کا حقدار تھا اگر زخمی ہو کر ہسپتال منتقل ہوتا تو بھی کوئی بات تھی اس کی تو شرٹ کا لالر بھی نہیں پھٹا ۔ اس موقع پر وہاں بنائی گئی ایک ویڈیو ملاحظہ کریں جس میں ملک عدنان کی فرنچ کٹ داڑھی نظر آ رہی ہے مگر جب وہ وزیراعظم سے ملتا ہے تو وہ کلین شیو ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں ملک عدنان کا موقف یہ تھا کہ پریانتھا کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا جائے اور توہین رسالت کا مقدمہ درج کرایا جائے۔ حالانکہ توہین رسالت تو ہوئی ہی نہیں جس پوسٹر کی بات ہو رہی ہے اس پر صرف سلام یا حسین ؑ لکھا تھا اور سری لنکن اردو نہیں جانتا تھا۔ اس وجہ سے ملک عدنان دراصل ان کا ہی ساتھی تھا البتہ ہجوم اور اس کے طریقہ کار میں فرق تھا۔سری لنکن شہری کے بارے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وہ سیالکوٹ کی اس کمپنی کا ملازم نہیں تھا بلکہ امریکی گارمنٹس انٹرنیشنل برانڈ NIKE کا ملازم تھا جو کہ سیالکوٹ والی کمپنی کی Client تھی اور معاہدے کے مطابق امریکی کمپنی نے سیالکوٹ کمپنی کو پابند کر رکھا تھا کہ پراڈکٹ کی کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہمارا کوالٹی کنٹرولر فیکٹری میں ساری پروڈکشن کی نگرانی کیا کرے گا کمپنی کے مالکان اور ملازمین سارے اس سے تنگ تھے کیونکہ وہ معاہدے کے مطابق کوالٹی اور Finishing چاہتا تھا اور میرٹ پر زور دیتا تھا۔

یہاں پر سوال یہ ہے کہ ملک عدنان اگر واقعی پریانتھا کو بچانا چاہتا تھا تو اس نے کمپنی کے گارڈز کو کیونکہ استعمال نہیں کیا یا پھر پولیس کو اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ فیکٹری کیے ہتھیاروں سے لیس گارڈز کے ذریعے پریانتھا کو زندہ ریسکیو کیا جا سکتا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ جب حکمران جماعت کو احساس ہوا کہ اس واقعے سے پاکستان کا بین الاقوامی امیج کس بری طرح سے مجروح ہوا ہے تو فوری طور پر Damage Control کے لیے انہوں نے ایک کیریکٹر وضع کر لیا جو ملک عدنان تھا اور اصل خبر سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا میں ہر جگہ اسے آگے آگے پیش کیا جا رہا ہے تا کہ اصل خبر نیچے دب جائے یہ سیاسی و سفارتی حربہ صرف کاسمیٹک حد تک چل سکتا ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ ملک عدنان کی نہ تو پاکستان میں سری لنکن سفیر نے خدمات کا اعتراف کیا ہے نہ ہی سری لنکن شہری کی فیملی کی طرف سے کچھ کہا گیا ہے اور نہ ہی حکومت سری لنکا نے اس کے اقدام کی تائید یا تعریف کی ہے۔ حالانکہ سری لنکا نے کرکٹ ٹیم پر اٹیک میں حقیقی مدد کرنے والے ڈرائیور خلیل احمد کو اپنے سر اور آنکھوں پر بٹھایا تھا۔ اگر سری لنکن حکومت عدنان کے لیے کسی قومی ایوارڈ کا اعلان نہیں کرتی تو سمجھ لیں کہ یہ من گھڑت ہیرو ہے۔ خبریں اور ہوتی ہیں پس پردہ حقائق اور ہوتے ہیں مگر خبر کے پیچھے چھپے حقائق تک پہنچنا عام قاری کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ آج کا میڈیا بہت پیچیدہ ہو چکا ہے ففتھ جنریشن وار کی طرح قومی سیاست میں بھی حکومت اور اپوزیشن میڈیا کو بطور میدان لڑائی استعمال کرتی ہے۔

Comments are closed.