ملک میں نیا انتشار شروع ہونے کی پیشگوئی کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک ) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اپوزیشن نے صدارتی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ روایت بھی ہمارے ہاں ہی مستحکم ہوئی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ سے بالا بالا کوئی حکم جاری کرتی ہے، پھر وہ سپریم کورٹ میں چیلنج

ہوتا ہے، ایک مدت تک اس کی سماعت جاری رہتی ہے، جس سے ملک میں بے یقینی اور ابہام پیدا ہوتا ہے، سیاسی کشیدگی علیحدہ بڑھتی ہے۔ تین سالہ مدت میں حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف سے قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ایک بھی سنجیدہ کوشش بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔اس دوران اسمبلیوں میں جو کچھ ہوتا رہا وہ بھی سب نے دیکھا، شاید ہی کوئی ایک اجلاس ایسا ہوا ہوجس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے باہم مشاورت سے کوئی قانون سازی کی ہو، وگرنہ ہڑبونگ، ہنگامہ آرائی، گالم گلوچ اور مار دھاڑ کے مناظر ہی دیکھنے کو ملے۔ اس وقت بداعتمادی کا یہ عالم ہے کہ حکومت اپوزیشن کو منہ نہیں لگاتی اور اپوزیشن حکومت سے بات کرنے کی روادار نہیں، کہنے کو ہم جمہوری عمل سے گزر رہے ہیں مگر درحقیقت اس وقت جمہوریت نام کی کوئی چیز ہمارے ہاں موجود نہیں۔ جمہوریت میں معاملات کو افہام و تفہیم سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ اپوزیشن بھی حکومت کی بات سنتی ہے اور حکومت بھی اپوزیشن کی باتوں پر توجہ دیتی ہے، لیکن یہ وہ دور ہے جس میں قومی اتفاق رائے کی بات کرنا بھی ایک کارِ دشوار ہو گیا ہے۔ آج وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری یہ کہتے ہیں نیب کے آرڈیننس میں پچاس فیصد تجاویز تو وہ ہیں جو اپوزیشن نے دی تھیں، حیرت ہے وہ یہ بات تو کرتے ہیں لیکن ان کی حکومت نے اس دوران اپوزیشن کو اس معاملے پر ایک بار بھی ملاقات کی دعوت نہیں دی اور چند حکومتی وزرا اور ماہرین قانون نے اس کا مسودہ تیار کرا کے آرڈیننس جاری کر دیا۔

جہاں تک وزیراعظم عمران خان کی اس بات کا تعلق ہے آئندہ انتخابات لازماً الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ہوں گے، تو اسے ایک بڑے انتشار کی شروعات قرار دیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے ان کی نیت میں اخلاص ہو اور واقعی دل سے چاہتے ہوں کہ انتخابات صاف و شفاف طریقے سے ہونے چاہئیں مگر ایسے امور میں یک طرفہ اتفاق رائے کبھی اہمیت نہیں رکھتا۔ حکومت تو ابھی تک الیکشن کمیشن کو اس بارے میں قائل نہیں کر سکی، جس نے انتخابات کرانے ہیں، اپوزیشن کا معاملہ تو دوسرا ہے۔ ایک متنازعہ طریقے سے اگر انتخابات کرا بھی دیئے گئے تو ان پر یقین کون کرے گا۔ ایک بات اگر انتخابات سے پہلے ہی مشکوک قرار پائے گی تو بعد میں دھاندلی کے الزامات کیسے نہیں لگیں گے؟ وزراء کی طرف سے الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں اور الیکشن کمیشن نے انہیں نوٹسز بھی جاری کئے ہوئے ہیں۔ اب وزیراعظم عمران خان بھی اگر یہی کہیں گے کہ انتخابات ووٹنگ مشین کے ذریعے ہی ہوں گے اور الیکشن کمیشن سے جبر سے یہ بات منوائی جائے گی تو اس سے ماضی کی نسبت زیادہ خرابیاں جنم لیں گی۔ 2018ء کے انتخابات کو اپوزیشن نے آج تک تسلیم نہیں کیا،حالانکہ الیکشن کمیشن انہیں شفاف قرار دیتا ہے، اب اگر ووٹنگ مشین سے الیکشن کمیشن ہی مطمئن نہیں تو انتخابات کی شفافیت کا دفاع کون کرے گا؟جس طرح اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، اسی طرح اتفاق رائے بھی جمہوریت کے لئے ضروری ہے، مگر لمحہء موجود میں اتفاق رائے ہماری جمہوریت سے نکل گیا ہے اور ہر طرف انتشار اور ہڑبونگ کا دور دورہ ہے۔