ملک گیر سروے کے حیران کن نتائج

کراچی (ویب ڈیسک) اپوزیشن اتحاد پر مبنی پاکستان ڈیموکریٹک الائنس جلد انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے لیکن مڈ ٹرم انتخابات کروانے کی صورت میں بھی کوئی سیاسی جماعت اکیلے حکومت تشکیل نہیں دے پائے گی ، الیکشن آج ہوں تو ن لیگ کو پی ٹی آئی پرسبقت ہوگی تاہم مخلوط حکومت ہی تشکیل پائے گی،

اکثریت کا ماننا ہے کہ حکومت کا ہدف مخالفین ہیں بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ، 53؍ فیصد کی رائے کہ نشانہ مخالفین ہیں جبکہ 31؍ فیصد کا کہنا ہےکہ نشانہ مالی بدعنوانی ہے ۔ اس بات کا انکشاف انسٹیٹیوٹ آف پبلک اوپینین ریسرچ کے ملک بھر میں کیےگئے سروے میں ہوا۔ جس میں 2 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔ پی ڈی ایم کی مطالبے کے مطابق فوراً مڈ ٹرم انتخابات ہونے کی صورت میں سروے میں 26؍ فیصد افراد نے پاکستان مسلم لیگ نواز کو ووٹ دینے کا کہا۔ 25فیصد نے پاکستان تحریک انصاف ، 9فیصد نے پاکستان پیپلز پارٹی ، 3فیصد نے جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان ، 2فیصد نے تحریک لبیک پاکستان ، ایک فیصد نےعوامی نیشنل پارٹی ، 1فیصد نے آل پاکستان مسلم لیگ ، 1فیصد نے پاکستان مسلم لیگ ق، جبکہ 1فیصد نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو ووٹ دینے کا کہا۔ 12فیصد نے کہا کے وہ کسی کو ووٹ نہیں دیں گے ۔ 8فیصد نے کہا انہوں نے ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا جبکہ 3فیصد نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ کریں گے۔ 9؍ فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انسٹیٹیوٹ آف پبلک اوپینین ریسرچ کے مطابق الیکشن 2018ء کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں 07؍ فیصد کمی آئی ہے ۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی مقبولیت میں 2؍ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت 4فیصد کم ہوئی ہے ۔ اس سوال سے حاصل عوامی آراء کو صوبائی بنیادوں پر دیکھا جائے تو

ریسرچ کمپنی آئی پور کے مطابق مڈ ٹرم انتخابات کی صورت میں کوئی تبدیلی متوقع نہیں ۔ صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن سب سے آگےہیں اور اسے ووٹ دینے کا کہنے والوں کی شرح39 فیصد ہے ، جبکہ پی ٹی آئی 26 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو صوبے سے 05 فیصد ، ٹی ایل پی کو 2 فیصد، جبکہ 1 فیصد پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ق کو ووٹ دینا چاہتے ہیں ۔ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف آگے ہے اور فورا انتخابات کی صورت میں 34 فیصد اس کےلیے ووٹ کرنا چاہتے ہیں ۔صوبے سے 12 فیصد پاکستان مسلم لیگ نواز، 08 فیصد جے یوآئی ف، 3 فیصد اے این پی ،4 فیصد پی پی پی 3 فیصدجماعت اسلامی اور 2 فیصد ٹی ایل پی کو صوبے میں ووٹ دینے کا ارادہ رکھتےہیں ۔ سندھ کو دیکھا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی22 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ جس کے بعد دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی ہے جسے 13 فیصد ووٹ دینا چاہتے ہیں ۔ 09 فیصد پاکستان مسلم لیگ نواز، 03 فیصد جماعت اسلامی ، 03 فیصد ہی جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان ، 2 فیصد ٹی ایل پی اور 1 فیصد صوبہ سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو ووٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ سروے میں 45 فیصد افراد پی ڈی ایم کے ملک میں فوراً انتخابات کروانے کے مطالبے کے بھی حمایتی نظر آئےجبکہ 31 فیصد نے حکومت کو مدت مکمل کرنے کےلیے مکمل سپورٹ کرنے کا ارادہ کیا۔ 24 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔آئی پور نے سروے میں یہ بھی نوٹ کیا کے 49 فیصد افراد کا خیال تھا کے پی ڈی ایم کی تحریک سویلین بالادستی کے لیے ہے ۔ جبکہ 32 فیصد کا خیال تھا کے اس تحریک کے ذریعے پی ڈی ایم میں موجود جماعتیں اپنی مالی بدعنوانی کو چھپانے کی کوشش کررہی ہیں ۔ 19 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ سروے میں یہ بھی دیکھا گیا کے 53 فیصد افراد یہ سمجھتے ہیں موجودہ حکومت مالی بدعنوانی کے خاتمے کی آڑ میں اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے ۔ جبکہ 31 فیصد کا خیال ہے کے حکومت مالی بدعنوانی ن کے خاتمے کےلیے خلوص نیت سے کوشش کررہی ہے ۔ 16 فیصد نے اس پر کوئی رائے دینے سے گریز کیا۔ مالی بدعنوانی کی آڑ میں مخالفین کو نشانہ بنانے کی سوچ صوبہ سندھ میں سب سے زیاد ہ نظر آئی جہاں 72 فیصد اس رائے کے حامی جبکہ 16 فیصد مخالفت میں کھڑے نظر آئے ۔ جس کے بعد پنجاب سے 50 فیصد اس رائے کے حامی تو 33 فیصد مخالف نظر آئے۔جبکہ خیبر پختونخوا سے عوامی رائے بنٹی ہوئی نظر آئی اور 43فیصد نے اس کی حمایت تو 43فیصد نے رائے کی مخالفت کی ۔ بلوچستان سے 35 فیصد رائے کے حامی تو 40 فیصد مخالف تھے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *