منزل انہیں ملی جو شریک سفر تھے ۔۔۔۔!!!

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔معروف بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے طویل آرٹیکل میں سراج حقانی کو اچھا شیئر ملنے پر سخت پریشانی اور فرسٹریشن ظاہر کی ہے۔ ملا برادر کو نائب وزیراعظم بنایا گیا ہے۔ ایک لحاظ سے ان کے سائز کو کچھ کم کیا گیا۔

پہلے ملا برادرہی افغان وزیراعظم سمجھے جا رہے تھے۔ ان پرمگر ملا حسن اخوند کو ترجیح دی گئی۔ ملا برادر کے ساتھ ایک اور نائب وزیراعظم بھی بنایا گیا، ایک لحاظ سے یہ اس عہدے کی قوت میں مزید کمی کا اشارہ ہے۔ یہ منصب ملا عبدالسلام حنفی کو ملا ہے جو کہ نسلا ً ازبک اور تالبان تحریک کے پرانے ساتھی ہیں۔ ان کا تعلق شمال کے صوبے جوزجان سے ہے، ازبک وارلارڈ رشید دوستم بھی اسی صوبے سے تعلق رکھتا ہے۔دوحا مذاکرات کی سربراہی بھی ایک مرحلے پر ملا برادر سے لے کر ملا عبدالحکیم حقانی کو دی گئی تھی ۔ ملا عبدالحکیم حقانی کو اب وزارت قانون دی گئی ہے۔ وزارت خارجہ کے لئے شیر عباس ستانک زئی کو کنفرم امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔ وہ اچھی انگریزی بول لیتے ہیں اور عالمی سطح پر اچھا خاصا ایکسپوژر رکھتے ہیں۔ انہیں بھی توقع سے کم عہدہ ملا۔وزارت خارجہ کی ذمہ داری ملا امیر محمد متقی کو دی گئی ۔ افواہ نما خبر کے مطابق ستانک زئی صاحب کے زلمے خلیل زاد کے ساتھ ذاتی مراسم اور ماضی میں بھارتی ملٹری اکیڈمی میں تعلیم آڑے آئی۔امیر متقی صاحب نرم خو آدمی ہیں، تالبان تحریک کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ہیں، ملا عمر کی حکومت میں وہ وزیر اطلاعات رہے تھے۔ مذاکراتی کمیٹی میں بھی یہ رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ان کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں وہ ہزارہ شیعہ رہنمائوں کو قائل کر رہے تھے کہاصلبان کے نظریات آئسز جیسے تکفیری نہیں اور تالبان حکومت میں اہل تشیع کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ دیگر اہم وزارتوں میں ملا خیر اللہ خیر خواہ کو اطلاعات کا وزیر بنایا گیا۔ یہ بھی پرانے تالبان رہنماہیں اور انہوں نے کئی سال تک گوانتاناموبے میں قید کاٹی، سابق تالبان دور میں یہ وزیر داخلہ بھی رہے ۔ ملا ہدایت اللہ بدری کو وزارت خزانہ دی گئی ۔ ان کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ سابق تالبان دور میں زکوۃ جمع کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے ۔ تالبان کی نئی حکومت میں دو اہم چیزیں نظر آئیں۔ پرانے، تجربہ کار اور قربانیاں دینے والوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ محاذ پر وقت گزارنے اور گوانتا ناموبے میں قید وبند کی سختیاں سہنے والوں کو افغانستان سے باہر وقت گزارنے والوں پر فوقیت دی گئی۔ تالبان کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔ آگے آگے وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر طویل جدوجہد کی تھی۔ یہ ایک مثبت فیکٹر ہے۔ تالبان نے سردست دنیا کو مطمئن کرنے کے بجائے اپنی تنظیم، لڑاکوں اور کمانڈروں کو خوش اور مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔

Comments are closed.