منظور سے نامنظور ہوتے دیر نہیں لگتی ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار میاں غفار احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اقتدار کی غلام گردشوں میں دو چار ’’ اعظم خان‘‘ ہر دور میں موجود رہے ہیں ۔حکمران بدلے مگر غلام گردش کے لوگ نہ بدلے ۔ماضی میں ایک بیورو کریٹ خواجہ صدیق اکبر ہوا کرتے تھے ۔

انہیں سانپوں والی سرکار کے نام سے یاد کیا جاتاتھا انہوں نے بطور ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ اپنے سرکاری گھر میں بھی سانپ پال رکھے تھے ۔ وہ خود کو نوا ز شریف کا وفادار ثابت کرنے کیلئے جن الفاظ کا چناؤ اپنے لئے کیا کرتے تھے میں وہ الفاظ لکھ بھی نہیں سکتا اور بیوروکریسی میں مشہور تھا کہ نواز شریف کے ساتھ پنجاب بھر میں خواجہ صدیق اکبر سے بڑھ کر کوئی مخلص ہو ہی نہیں سکتا، یہ اخلاص اور محبت کا عروج اس وقت تک چلتا رہا جب تک نوازشریف وزیراعظم رہے۔نواز شریف کا اقتدار ختم ہوا پیپلز پارٹی اقتدار میں آگئی تو ایک روزاخبار میں دو کالم خبر شائع ہوئی کہ وزیراعظم نے خواجہ صدیق اکبر کو وفاقی سیکرٹری داخلہ مقررکردیا ۔گویا نواز شریف کے سب سے زیادہ مخلص اور وفادار خواجہ صدیق اکبر آصف علی زرداری کی غلام گردش کے اہم ترین رکن بن چکے تھے۔ ایک کشمیر ی خواجہ جت بلوچ کو بہت زیادہ پیارا ہوچکا تھا اور آصف علی زرداری کے ساتھ انکے اتنے گہرے مراسم بن چکے تھے کہ زرداری ان پر بھرپور اعتماد کرتے تھے اور جس طرح وہ کبھی نواز شریف کے چہیتے ہوا کرتے تھے۔چشم فلک نے دیکھا کہ وہ اس سے بھی دو ہاتھ بڑھ کر آصف علی زرداری کے چہیتے قرار پائے ۔وزیراعظم کے ساتھ ترین گروپ کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی ملاقات کوئی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی تو میں نے ان ملاقات کرنے والوں میں سے کسی ایک سے پوچھا کہ کوئی درمیانی راستہ نکل سکتا ہے تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم تو

درمیانی راستہ نکالنے گئے تھے لیکن وزیراعظم درمیانی راستے کے بجائے اپنے راستے پر چلانے کیلئے ہمیں قائل کرتے رہے۔ایک ہندو بنیے کی دکان پر کسی نے جا کر شکایت کی کہ تمہارا بیٹا بھرے بازار میں گر گیا اور اس نے سر پر جو دودھ کا بھرا ہوا مٹکا رکھا ہوا تھا وہ بھی گر کر ٹوٹ گیا جس سے سارا دودھ ضائع ہوگیا ہے ۔ ہندو دکاندار نے کہا بنیے کا بیٹا ہے کچھ دیکھ کر ہی گرا ہوگا ۔ تھوڑی دیر بعد بیٹا دکان پر پہنچ گیا تو باپ نے پوچھا کیا ماجرا ہوا؟ بیٹے نے جواب دیا کہ زمین پر سونے کا سکہ پڑا تھا میں اٹھاتا تونظروں میں آجاتا میں نے سر سے مٹکا گراد دیا اور اس کے ٹکڑے ہٹانے کے چکر میں سکہ اٹھا لیا۔ باپ نے کہا میں نہ کہتا تھا کہ بنیے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرا ہوگا۔ ایک سیاستدان ہمیشہ کم از کم سیاسی طور پر اگلے الیکشن تک کی دوراندیشی تو رکھتا ہے ۔ترین گروپ میں شامل اراکین اسمبلی نے کم از کم اگلے الیکشن کی منصوبہ بندی تو ضرور کر رکھی ہوگی اور جناب وزیراعظم سے ملنے وا لے اراکین اسمبلی لازمی طور پر اپنی نظریں اگلے الیکشن پر جمائے بیٹھے ہیں اور پھر یہ بات بھی طے ہے کہ انہیں کہیں نہ کہیں سے کوئی اشارہ ضرور دیا گیا ہے کہ انکے اعتماد کا لیول ضرورت سے کُچھ زیادہ ہی بلند ہے۔ ملاقات کرنے والے ایک رکن اسمبلی سے جب میں نے پوچھا کہ آپ وزیراعظم کو قائل تو نہ کرسکے اور وزیراعظم آپ کو قائل نہ کرسکے تو پھر اگلا مرحلہ کیا ہوگا تو وہ ہنستے ہنستے کہنے لگے میاں صاحب آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا…ابھی بجٹ بھی تو آنا ہے بجٹ منظور نہ ہوا تو بہت کچھ نا منظور ہو جائیگا

Comments are closed.