موجودہ حالات میں مریم نواز کی بچت اور بقا کس چیز میں ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خورشید ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس نظام میں نون لیگ کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ شہباز شریف صاحب کے لیے بھی نہیں۔ اقتدار ایک طرف رہا، مریم کا معاملہ تو یہاں تک آ پہنچا کہ ‘جان بچی سو لاکھوں پائے‘۔ واقعہ یہ ہے کہ

ڈارون کا نظریۂ حیاتیات میں سچ ثابت ہوا یا نہیں، سماجیات میں اس نے خود کو منوا لیا ہے۔ ‘فطرت‘ کی بے رحم قوتوں سے جینے کا حق چھیننا آسان نہیں۔ کوئی آپ کی جان بخشی کے لیے تیار نہیں، الا یہ کہ آپ خود میں اپنے دفاع کی اہلیت پیدا کریں۔ اقتدار کے کھیل میں یہ اہلیت کیسے ثابت کی جائے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا نواز شریف صاحب اور مریم نواز کو فوری جواب چاہیے۔مجھے آج سیاست وہاں کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں 1979ء میں تھی اور جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ولی خان مرحوم نے کہا تھا کہ قبر ایک ہے اور آدمی دو۔ باقی تاریخ ہے جس سے سب واقف ہیں۔ میرے نزدیک یہ صرف عوامی قوت اور پذیرائی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بعد، مریم کی بقا کی ضامن ہے۔ کوئی سوال اٹھا سکتا ہے کہ یہ قوت ذوالفقار علی بھٹو کو کیوں نہ بچا سکی۔ میرا جواب ہو گا کہ 2021ء اور 1979ء کے مابین بیالیس سال کا فرق ہے۔ ایک فرق پنجاب اور سندھ کا بھی ہے۔ اس باب میں تھوڑے کو بہت جانیں۔نون لیگ کے پاس ایک راستہ ہے۔ وہ خود کو دو حصوں میں تقسیم کر لے۔ ایک مسلم لیگ وہ جو صرف اصولی سیاست کرے۔ یہ سیاسی جماعت سے زیادہ، تحریکِ پاکستان کی طرح ایک تحریک ہو۔ دوسری مسلم لیگ وہ جو پاور پالیٹکس کرے۔ پہلی مسلم لیگ نواز شریف صاحب کی راہنمائی میں منظم ہو جس کی عملی قیادت مریم نواز کے پاس ہو۔ دوسری مسلم لیگ وہ جس کی قیادت شاہد خاقان یا کسی دوسری شخصیت کے پاس ہو جو مقتدر حلقوں کو گوارا ہو۔

حمزہ شریف کے لیے بھی اس مسلم لیگ میں جگہ بن سکتی ہے مگر قیادت کی سطح پر نہیں۔اصولی مسلم لیگ کا ایک ہی ہدف ہو: نوازشریف کا بیانیہ کس طرح عوامی بیانیہ بن جائے، جس طرح تقسیمِ ہند یا پاکستان کا بیانیہ عوامی سطح پر مقبول ہو گیا تھا۔ اس مسلم لیگ کا میدان سماج ہو نہ کہ ریاست۔ یہ اس طرح کام کرے جس طرح کوئی مصلح یا اصلاحی تحریک کام کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں مریم نواز کم از کم فی الوقت، وزیرِ اعظم نہیں بن سکتیں۔دوسری مسلم لیگ پاور پالیٹکس کرے۔ اس کی حکمتِ عملی میں جوڑ توڑ، ساز باز، سیاسی اتحاد جیسے سب طریقے شامل ہوں جو زمینی حقائق کا مطالبہ ہیں۔ غیر سیاسی قوتوں کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنا ہوگا۔ آج عملی سیاست اس کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ مسلم لیگ اگراقتدار کے کھیل میں شریک رہے گی تو جان کو تحفظ مل سکے گا۔ مریم نواز اس سے باہر رہ کر اس سماجی تبدیلی کی راہ ہموار کر سکیں گی، جس کے بغیر اس ملک میں جمہوریت نہیں آسکتی۔نوازشریف صاحب اور ان کے حقیقی حریفوں نے سیاست کو وہاں پہنچا دیا ہے جہاں مفاہمت کی جگہ باقی نہیں رہی۔ مفاہمت کی صورت میں لازم ہے کہ ایک فریق کا سیاسی کردار ختم ہوجائے اور فی الحال کوئی اس پرتیار نہیں۔ اس لیے جسے اصولی سیاست کرنی ہے، وہ پاور پالیٹکس سے الگ ہوجائے۔ پاور پالیٹکس میں اصول کی بات تختہ دار تک توپہنچا سکتی ہے، ایوانِ اقتدار تک نہیں۔ تاریخ اس باب میں دوٹوک ہے۔ پی ڈی ایم یا اتحادوں کی سیاست میں نوازشریف یا مریم نواز کے لیے کچھ نہیں رکھا۔ یہ صرف زرداری صاحب کو سازگار ہے یا اس کے لیے جو سیاست میں میکیاولی کو اپنا امام مانتا ہے۔جس کام کا آغاز 26 مارچ کو ہونا تھا، اس کی شروعات 15 مارچ کو ہو گئی۔ پی ڈی ایم کا قصہ ختم ہوا۔ اس پر مزید اصرار میت خراب کرنے کے مترادف ہو گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *