موجودہ حالات پر سلیم صافی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم جیسے ظالم اور انسانی زندگیوں کے بارے میں بے حس لوگ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں پائے جاتے ہوں ۔ہمارا ملک اُس چین کا پڑوسی اور قریبی ترین دوست ہے جس نے کورونا کو سب سے پہلے

کنٹرول کیا اور ہم چاہتے تو اس کی دوستی اور تعاون سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو سب سے پہلے کورونا سے پاک کرسکتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے کورونا کے معاملے میں بھی وہی کیا جو بی آر ٹی پشاور کے معاملے میں کرتی رہی۔اسی حکومت کے دو وزرا کی کارستانیوں سے کورونا پاکستان میں آیا۔ پھر ڈاکٹرز اور ماہرین کچھ کہتے رہے اور حکومت کچھ کرتی رہی۔ جو لاک ڈاون کئے وہ بھی برائے نام تھے ۔یہ حکومت صرف اور صرف پروپیگنڈے کے زور پر چل رہی ہے اور وزیراعظم سے لے کر عام ایم این اے اور ایم پی اے تک ہر ایک وزیراطلاعات ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کورونا سے متعلق سازشی نظریات کا رَد کرسکی اور نہ قوم کو مناسب اندازمیں ایجوکیٹ کرسکی۔این سی او سی، اسمارٹ لاک ڈائون اور اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کرتی ہے لیکن اگلے روز وزیراعظم جلسہ کرنے پہنچ جاتے ہیں ۔ فون کال ملائیں تو قوم کو حکومت کی طرف سے نصیحت کی جاتی ہے کہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ رکھیں لیکن وزیراعظم اور وُزرا ٹی وی اسکرینوں پر ماسک کے بغیر ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے نظر آتے ہیں۔کئی وزرا توچوری چھپے ویکسین لگواچکے ہیں اور اب ماسک لگائے بغیر گھوم پھر کر قوم کو غلط پیغام دے رہے ہیں ۔ جب ایس اوپیز پر عمل درآمد کے لئے ٹائیگر فورس بنائی گئی تو میں نے اس وقت کہا تھا کہ اس کا مقصد کارکنوں کا انتظامیہ پر رعب جمانے کے لئے جواز ڈھونڈنے کے سوا کچھ نہیں لیکن اب وہ ٹائیگر فورس کہیں نظر نہیں آتی۔

اس فورس کے سربراہ عثمان ڈار خود ڈسکہ الیکشن کی انتخابی مہم میں ایس اوپیز کی دھجیاں اڑاتے نظر آئے ۔ایسی بے حس حکومت ہے کہ روزانہ پچاس ساٹھ لوگوں کی ہلاکتوں کی خبر دیتی ہے حالانکہ حقیقتاً یہ تعداد ہر روز سینکڑوں میں ہے (کیونکہ پاکستان میں پانچ دس فی صد لوگ بھی ٹیسٹ نہیں کراتے اور کورونا سے انتقال کرنے والے زیادہ تر لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کورونا ہوگیا ہے) حکومت صرف اور صرف سیاست میں مصروف ہے ۔پاکستان شاید صومالیہ اور افغانستان کے بعد دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ویکسین خریدنے کے لئے ایک روپے کا بجٹ مختص نہیں کیا۔ چین نے مہربانی کی اور دس لاکھ ڈوز ویکسین کے بھجوادئیے لیکن حکومت کے پاس اسے لگوانے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ۔ پہلے پنجاب کی وزیر صحت نے کہا کہ لوگ اپنے رسک پر لگائیں ۔دوسرے وزیر نے کہا کہ یہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لئے مناسب نہیں ۔ چنانچہ اتنا ابہام پیدا کیا گیا کہ بعض ڈاکٹر اور طبی عملے کے دیگر لوگ بھی ویکسین لگانے سے گریز کرنے لگے ۔آکسفورڈ کی ویکسین آسٹرازینیکا کے ڈیڑھ کروڑ ڈوزز ہمیں ڈبلیو ایچ او کے خیراتی منصوبے کووکس کے تحت ملنے ہیں جس کی ادائیگی برطانیہ کی حکومت کرے گی لیکن ابھی پتہ نہیں کہ وہ کب پہنچتی ہے اور جب پہنچے گی تو پھر معلوم نہیں کہ حکومت اس کے لگانے کا کیا انتظام کرے گی؟ حکومت ویکسین خود نہیں خرید رہی تھی تو پھر دوسرا راستہ یہ تھا کہ نجی کمپنیوں کو جلدازجلد درآمد کی اجازت دی جاتی لیکن آج تک یہ حکومت اس سلسلے میں بھی لائحہ عمل نہیں بناسکی ۔

کئی کمپنیاں ویکسین منگوانے کو تیار ہیں اور حکومت کو درخواست دے رکھی ہے لیکن اس حوالے سے اسد عمر کچھ کہتے ہیں ، وزیر صحت کچھ اوردیگر وزرا کچھ۔ تین ماہ سے میٹنگز ہورہی ہیں لیکن یہ حکومت اس کی قیمت اور طریق کار کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ۔ادھر سے تیسری تباہ کن لہر آگئی ہے۔ اسپتال پھر بھر گئے ہیں اور حکومت سیاست میں لگی ہے ۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکہ میں 96ملین، چین میں 52ملین ،انڈیا میں 26ملین، برطانیہ میں 25ملین، متحدہ عرب امارات میں7ملین، بنگلہ دیش میں 5ملین اور کینیڈا میں 3ملین افراد کو ویکسین لگ چکی لیکن پاکستان جو 23کروڑ آبادی کا ملک ہے ، میں ابھی تک ایک ملین افراد کو بھی ویکسین نہیں لگ سکی۔اسی طرح اسرائیل اپنے 46فی صد، متحدہ عرب امارات 23فی صد، امریکہ دس فی صداور چین 7فی صد شہریوں کو ویکسین لگا چکا لیکن پاکستان میں یہ ابھی تک ایک فی صد لوگوں کو بھی نہیں لگی ۔دوسری طرف پاکستان میں سیاسی دھندہ عروج پر ہے۔ پہلے ڈسکہ الیکشن کا غلغلہ رہا، پھر سینیٹ الیکشن کا دھندہ شروع ہوگیا۔ اب چیئرمین سینیٹ کا میچ برپا ہے ۔ لوگ کورونا سے انتقال کر رہے ہیں ۔ اسپتال بھرے ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹرز بتارہے ہیں کہ تیسری لہر بہت خطرناک ہے جو برطانیہ سے آئی ہے اور بہت جلد پھیلتی ہے لیکن حکومت اس طرف متوجہ ہے، نہ میڈیا کوفرصت ہے کہ اس جانب توجہ دے۔خیرات میں ملی ہوئی ویکسین کی تقسیم کا بھی کوئی مناسب انتظام نہیں ہے ۔ ایسی بےحسی زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھنے کو مل رہی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.