موجودہ زیر بحث ایشو میں کون سچا نظر آرہا ہے اور کون جھوٹا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب یہ جج صاحب کے بیان حلفی والی گرد بھی چند دن میں بیٹھ جائے گی۔ ایسے تماشے پہلے بھی ہم نے بہت دیکھے ہیں، جن کا حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا، جو لوگ وقت پر سچ نہیں بول سکتے، وہ میرے نزدیک شعبدہ باز ہیں،

جومناسب موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسے جملے تو ہم نے زندگی میں بارہا سنے ہیں کہ وقت آنے پر حقائق سامنے لائے جائیں گے، یہ وقت کا تعین کون کرتا ہے؟ وہی کرتے ہیں جنہیں سچ سامنے لانا ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس ریٹائرڈ رانا شمیم کے بیان حلفی میں کتنی سچائی ہے اور کتنی مبالغہ آرائی اس کا فیصلہ شاید کبھی نہ ہو، کیونکہ انہوں نے ایک ایسے واقعہ کی بنیاد پر یہ بیان حلفی دیا ہے، جس کے گواہ بھی وہ خود ہیں اور مدعی بھی۔ اگرچہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان کی باتوں کو مضحکہ خیز قرار دے کر رد کر دیا ہے، مگر جنہیں اس واقعہ اور اس بیان حلفی سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے، وہ بھلا کب ایسی وضاحتوں کو مانیں گے، ایک زمانے میں کہا جاتا تھا جس امیدوار یا اس کی جماعت کو جتوانا ہو اسے الیکشن سے عین پہلے اگر گرفتار کر لیا جائے تو اس کا ووٹ بینک بڑھ جاتا ہے۔یہاں معاملہ اُلٹ ہوا ہے۔ دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے نوازشریف اور مریم نواز کو انتخابات سے دور رکھنے کے لئے مبینہ طور پر اس وقت کے چیف جسٹس نے ایک جج سے کہا دونوں کو باہر نہیں آنا چاہیے۔یاد رہے کہ نوازشریف سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل ہو چکے تھے اور الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے، ہاں وہ الیکشن مہم ضرور چلا سکتے تھے اور تھیسز یہ بنایا گیا ہے انہیں انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روکنے کے لئے ضمانت منطور نہ کرنے کا کہا گیا۔

اس بیان حلفی کو پڑھ کر کافی باتیں ہضم نہیں ہوتیں۔ مثلاً اس میں کہا گیا ہے ثاقب نثار کا جو چیف جسٹس تھے، مذکورہ جج صاحب سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، جس کی وجہ سے وہ خاصے پریشان تھے، حیرت ہے ملک کا چیف جسٹس ہائیکورٹ کے ایک جج سے فون پر رابطہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا، حالانکہ آج موبائل کا زمانہ ہے۔ کوئی جونیئر جج اس بات کی جرات نہیں کر سکتا تھا کہ اپنے موبائل کی سکرین پر چیف جسٹس آف پاکستان کا نمبر دیکھ کر اسے نظر انداز کرلے۔ یہ بات شاید کہانی کو درست اور منطقی بنانے کے لئے ضروری تھی، اگر چیف جسٹس کا آسانی سے رابطہ ہو جاتا تو وہ پریشان کیسے ہوتے اور بیان حلفی دینے والے جج کو کیسے معلوم ہوتا وہ کیوں پریشان ہیں، یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ایسی اہم اور حساس باتیں ثاقب نثار جسٹس (ر) رانا ہاشم کے سامنے کھڑے کر رہے تھے۔ حالانکہ وہ لان میں موجود تھے اور فون لے کر کسی تخلیہ والی جگہ بھی جا سکتے تھے۔اس سے تو یہی لگتا ہے کہ میاں ثاقب نثار ایک انتہائی لاپروا اور احتیاط سے عاری شخص ہیں، جنہیں اتنا بھی معلوم نہیں کون سی بات کیسے اور کہاں کرنی ہے۔ایک طرف اسی بیان حلفی میں انہیں تیز طرار اور بڑا کھیل کھیلنے والا آدمی بناکے پیش کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ان کے غیر محتاط ہونے کے حوالے سے کہانی گھڑی جاتی ہے۔ بے شمار تضادات کا حامل یہ بیان حلفی البتہ ہمارے سیاست دانوں کے لئے ایک نیا تماشا لگانے کا باعث ضرور بن گیا ہے۔

حسبِ توقع مسلم لیگ (ن) والوں نے اس بیان حلفی کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ پریس کانفرنسیں کی ہیں، اسمبلی کے اندر شور مچایا ہے، ادھر حکومتی وزراء بھی کہاں پیچھے رہنے والے ہیں، انہوں نے اس بیان حلفی کوچوں چوں کا مربہ کہہ کر رد کر دیا ہے۔ بعض نے تو اس بات کا بھی مضحکہ اڑایا ہے کہ جج صاحب کے بقول وہ اپنی مرحومہ بیوی کی آخری خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے یہ سچ سامنے لائے ہیں، یعنی ان کی اہلیہ اگر انہیں یہ کہہ کر نہ جاتیں کہ نواز شریف اور مریم نواز دو مظلوم باپ بیٹی ہیں، ان کی مدد کرنا تو وہ اپنی زبان بند رکھتے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے تو اسے بے وقت کی راگنی قرار دیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ نوازشریف کو کس نے اندر رکھنے کی ہدایت دی اصل معاملہ یہ ہے کہ شریف خاندان نے ابھی تک ایون فیلڈ کی منی ٹریل نہیں دی، ہاں اگر وہ یہ کہتے کہ تمام تر ٹریل دینے کے باوجود جج صاحبان کو یہ کہا گیا انہیں تسلیم نہیں کرنا اور ہر صورت سزا دینی ہے تو بات بن جاتی۔ ہمارے ہاں سیاسی معاملات اور عدالتی مقدمات آپس میں ایسے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں کہ دونوں کا سرا ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اب ایسا ماحول بنا رہی ہے کہ اپنے خلاف ہونے والے عدالتی فیصلوں کو دباؤ کے تحت،جانبدارانہ ثابت کرسکے اور پھر اس کی بنیاد پر ریلیف مانگے۔ کیا عدالتوں کو اس طرح سے دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔

ہاں اس کا کسی نہ کسی حد تک سیاسی فائدہ ضرور ہو سکتا ہے مثلاً اس تاثر کو عام کیا جا سکتا ہے کہ نوازشریف کو سزائیں سیاسی مقاصد کے تحت دی گئیں۔انہیں راستے سے ہٹانے کے لئے جب سیاسی طور پر کوئی راہ نہ ملی تو عدالتی راستہ اختیار کیا گیا۔ نوازشریف کے حامی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہے۔ ان کے پاس ایک دلیل یہ بھی ہے کہ پاناما لیکس میں سینکڑوں لوگوں کے نام آئے تھے، مگر ٹرائل صرف نوازشریف کا کیا گیا تھا، کیا انہیں ہدف بنانا مقصود تھا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں جس طرح نوازشریف کے خلاف کیسز میں سپریم کورٹ کی نگرانی سے لے کر مقدمات کی جلد تکمیل تک کے مراحل کو یقینی بنایا گیا اس سے یہی لگتا ہے نوازشریف کو راستے سے ہٹانا مقصد تھا۔ اب یہ بھی کہا جا رہا ہے نوازشریف جلد ملک واپس آئیں گے اور اس ساری صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔وطن عزیز میں سیاست ایک ایسا آسیب بن گئی ہے جس نے ہر شے کو بے اعتبار کر دیا ہے۔ وہ ادارے جنہیں مسلمہ طور پر غیر جانبدار اور قومی سوچ کا حامل ہونا چاہیے وہ بھی اسی سیاست میں لتھڑے جاتے ہیں۔ اس سارے معاملے میں مجھے خواجہ آصف کی ایک بات اچھی لگی ہے۔ انہوں نے سیاست دانوں کو مشورہ دیا ہے وہ دوسروں کا آلہء کار بننے کے بجائے آپس میں اتحاد و اتفاق رکھیں۔ اقتدار کے لئے اپنی اقدار کو نہ چھوڑیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے باقی سب طاقتور طبقے آپس میں متحد ہیں۔ صرف سیاستدان ہی ہیں جو اقتدار کے لالچ میں دست و گریبان ہو جاتے ہیں، انہیں یہ رویہ ترک کر دینا چاہیے، لیکن نقارخانے میں خواجہ آصف کی یہ آواز کون سنا ہے۔ یہاں تو ہر ایک نے کسی غیبی ہاتھ سے امید لگا رکھی ہوئی ہی، وہ دست شفقت بن کر سر پر آئے اور انہیں اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھائے۔

Comments are closed.