موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے جاوید چوہدری کا فیصلہ سازوں کو معنی خیز مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہم سب ایک ایسی جماعت میں کھڑے ہیں جس کے چھ امام ہیں اور ہر امام اپنی اپنی فقہ کے مطابق نماز پڑھا رہا ہے چناں چہ جماعت رکوع کے وقت سجدہ کر دیتی ہے اور سجدے کے وقت قیام فرمانے لگتی ہے‘

ہمیں بہرحال قیادت کے اس کنفیوژن سے نکلنا ہوگا ورنہ ہم اور ہماری یہ حماقت دونوں نہیں رہیں گی‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ آج کا پاکستان دیکھ لیں‘ کیا ہمارے تمام ریاستی ادارے ’’فائنل اتھارٹی‘‘ تلاش نہیں کر رہے۔کیا یہ حقیقت نہیں فیٹف کے قوانین بھی پارلیمنٹ میں طے نہیں ہوتے اور گلگت بلتستان کے الیکشن اور جغرافیائی ہیئت کا فیصلہ بھی آرمی چیف ہاؤس میں ہوتا ہے‘ محمد زبیر بھی میاں نواز شریف اور مریم نواز کے مقدمات آرمی چیف کے ساتھ ڈسکس کرتے ہیں ‘ کورونا سے مقابلے کے لیے بھی فوج کو این سی او سی بنانا پڑتی ہے‘ صنعت کار اور بزنس مین بھی کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھاگ رہے ہیں‘ غیر ملکی سربراہان بھی کنفیوز ہو چکے ہیں اور ہم سب بھی لہٰذا آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کیا ملک میں اس وقت اتھارٹی کا کنفیوژن نہیں؟میرے ایک بزنس مین دوست نے اس صورت حال پر بڑا خوب صورت تبصرہ کیا‘ اس کا کہنا تھا نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کہتی تھیں ہمیں صرف حکومت ملی تھی اقتدار نہیں جب کہ عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنھیں حکومت بھی نہیں ملی اور یہ دو سال سے اقتدار کے بجائے حکومت مانگ رہے ہیں جب کہ چند دن قبل ایک محفل میں ایک صاحب نے اس سے زیادہ خوب صورت تبصرہ کیا‘ اس کا کہنا تھا‘ حکومت چھوڑ دیجیے‘ اس وقت اپوزیشن بھی کنفیوژن کا شکار ہے کہ اس نے تحریک کس کے خلاف چلانی ہے؟

یہ صورت حال اس ملک کو کھا جائے گی چناں چہ میری درخواست ہے ہم کپتان کا فیصلہ کر لیں‘ ہم فوج کو اختیارات دینا چاہتے ہیں‘ ہم ایک بار کھل کر دے دیں‘ ہم وزیراعظم کو ملک کا سربراہ سمجھتے ہیں ہم اسے ایک ہی بار سیاہ و سفید کا مالک بنا دیں۔ہم پارلیمنٹ کو سپریم سمجھتے ہیں‘ ہم اسے سپریم بنا دیں اور ہم اگر سپریم کورٹ آف پاکستان کو فائنل اتھارٹی سمجھتے ہیں تو پھر ہم اسے اتھارٹی مان لیں‘ ہم ججوں کی کونسل بنا دیں اور پارلیمنٹ اور کابینہ کا ہر فیصلہ کونسل کے سامنے رکھ دیا کریں‘ یہ جس کی منظوری دے دے ہم اس پر کام شروع کر دیں اور کونسل جسے مسترد کر دے ہم اسے منسوخ کردیں‘ ہم ملک کو اگر سیاسی حکومت اور انتظامی حکومت دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو ہم ونس فار آل یہ کر دیں تاکہ یہ روز کی بک بک اور جھک جھک تو ختم ہو‘ عوام کم از کم اطمینان سے کام تو کر سکیں۔یہ کیا بات ہوئی ہم فٹ بال کی طرح کبھی اس ڈی میں پہنچ جاتے ہیں اور کبھی اس ڈی کی طرف لڑھکنے لگتے ہیں‘ہم روز اپنا کپتان‘ اپنا کمانڈر تلاش کرتے رہتے ہیں‘ ہمیں یہ سلسلہ ہر صورت روکنا ہوگا‘ ہم خود روک لیں تو اچھی بات ہے ورنہ پھر دنیا ہمارا بازو مروڑ کر ہم سے یہ کروائے گی‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ بھی اب ہم سے تنگ آ چکی ہے‘یہ بھی اب کنفیوز رہ رہ کر تھک چکی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *