موجودہ سیاسی حالات پر سہیل وڑائچ کا حیران کن تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے لیا گیا ایک درست فیصلہ ہے کیونکہ اگر وہ یہ فیصلہ نہ لیتے تو پھر حـزب اختلاف کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونی جس سے

پھر وہ (وزیر اعظم) خود عدم استحکام کا شکار ہوتے اور ملک بھی عدم اعتماد کا شکار ہوتا۔‘سہیل وڑائچ کے مطابق ’چونکہ اعتماد کا ووٹ شو آف ہینڈز کے ذریعے سے ہو گا تو یہ سینیٹ کی طرح کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق لوگ کھل کر وزیر اعظم کے سامنے نہیں آنا چاہیں گے۔ ‘تاہم ان کے خیال میں اگر یہ سب بھی خفیہ طریقے سے ہوتا تو پھر سینیٹ کی طرز کا عمل دہرایا جا سکتا تھا۔سہیل وڑائچ کے خیال میں یہ وزیر اعظم کی ایک ’کیلکولیٹڈ موو‘ ہے اور ان کے لیے سینیٹ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جواب دینا اس طرح کے فیصلہ کرنے سے ہی ممکن تھا۔سینیئر صحافی فرح ضیا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سینیٹ میں اپ سیٹ کے بعد اب حکومت کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرے چاہے اس میں کامیابی حاصل ہو یا ناکامی کا سامنا کرنا پڑے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اب یہ حکومت کے لیے مشکل صورتحال بن چکی ہے کیونکہ انھیں اس شکست کے بارے میں تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘فرح ضیا وزیر اعظم عمران خان کے اس فیصلے کو سیاسی طور پر بہتر آپشن کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کے تجزیے کے مطابق قومی اسمبلی میں عمران خان آسانی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیں گے۔ اس کی وجہ وہ اوپن بیلٹنگ کو ہی قرار دیتی ہیں۔سینیئر صحافی طلعت حسین کے خیال میں ’وزیر اعظم عمران کی طرف سے یہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ ایک سیاسی جوا ہے، جس کا مقصد سینیٹ میں ہونے والی شکست کے دھچکے کے اثرات کو کم کرنا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اب حکومت سینیٹ میں عبدالحفیظ شیخ کی شکست کو بھی الیکشن کمیشن میں چیلنج نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق اگر وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کر سکے تو پھر اس کا نتیجہ ‘اِن ہاؤس‘ تبدیلی کی صورت میں نکلے گا۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Comments are closed.