موجودہ سیاسی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے نامور صحافی نے دعویٰ کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابات کی لگائی جانے والی رٹ سے تاثر ملتا ہے جیسے اگلے نوے روز بعد ملک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ اگر ایسی کوئی ایمرجنسی نہ ہوتی تووفاقی کابینہ اور پی ٹی آئی کی کور کمیٹی عوام کو درپیش مسائل پرفیصلے لے رہی ہوتی،

مہنگائی کم کرنے کے جتن کرتی، ڈالر کونیچے لانے کے اسباب کرتی دکھائی دیتی اور بجلی اور گیس کے بڑھتے بلوں کو کم کرنے کی فکر کرتی۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور حکومت نے سارا زور ای وی ایم مشینوں پر لگا کرایک نان ایشو کو ایشو بنایا ہواہے۔ نامور صحافی حامد ولید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اس وقت حکومت الیکشن کمیشن سے لڑ رہی ہے، پی ڈی ایم سے لڑ رہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کوثابت کرنے پرتلی ہوئی ہے کہ ایک پیج پر نہ ہوکربھی وہ بہت کچھ کرسکتی ہے جبکہ قومی اداروں بشمول عدلیہ اور فوج کو اپنی ساکھ بچانے کی فکر لاحق ہے۔ ایسے میں پی ڈی ایم کی نیمے دروں نیمے بروں کی پالیسی ثابت کرتی ہے کہ اسے بھی کچھ ہونے کا انتظار ہے وگرنہ تو پی ڈی ایم کی جانب سے جلسے جلوسوں، ریلیوں اور لانگ مارچ کا اعلان تو پہلے ہی ہوچکا تھا اور بلاول بھٹو بھی شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن سے مل چکے تھے مگر پھر اچانک کچھ ایساہوا ہے کہ سب کچھ نئے سرے سے کرنے کی ترکیب کی جا رہی ہے۔ ایسے میں بلاول بھٹو نے پشاور میں پارٹی کے یوم تاسیس کا جلسہ رکھ کر پی ڈی ایم کو آئینہ دکھایا ہے کہ وہ پنجاب کے سوا جہاں چاہیں مجمع لگاسکتے ہیں۔ پچھلے برس پیپلز پارٹی نے قاسم باغ ملتان میں مجمع لگایا تھا مگر تب بلاول بھٹو کورونا کا شکار تھے اور اس عظیم الشان جلسے میں ان کی نمائندگی آصفہ زرداری اور مریم نواز کر رہی تھیں۔

پیپلز پارٹی کے اسی یوم تاسیس میں وزیر اعظم نواز شریف کے نعرے بھی لگے تھے۔ تب سے لے کر اب تک پیپلز پارٹی صوبہ پنجاب میں اپنی بقا کی لڑائی ہار رہی ہے، اب حلقہ 133کے ضمنی انتخابات میں دوبارہ سے اوکھلوں میں سر دینے آکھڑی ہوئی ہے۔ خیال یہ ہے کہ نواز شریف مخالف سارا ووٹ پیپلز پارٹی کو پڑے گا لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو کیا ہوگا؟ اس اعتبار سے حلقہ 133کا ضمنی معرکہ آئندہ کی سیاست کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، شائد اسی لئے پی ڈی ایم نے اپنا سربراہی اجلاس ان انتخابات کے ایک روز بعد رکھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت، نون لیگ اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے محاذ کھول کر عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے جتن کر رہی ہیں۔پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عوام ان کے ساتھ مل کر ای وی ایم مشینوں کے ذریعے اگلے انتخابات کا ڈول ڈالنے کے لئے الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالے تو نون لیگ چاہتی ہے کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے مل کر 2018کے عام انتخابات میں مبینہ طور پر جو کھیل کھیلا تھا اس کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے اس کے ساتھ جم کر کھڑی ہو جائے جبکہ بلاول بھٹو مہنگائی کے خلاف ملک گیرمہم چلا کرعوام کی توجہ چاہتے ہیں۔ایک خیال یہ تھاکہ بلاول بھٹو پشاور میں منعقدہ پارٹی کے تاسیسی جلسے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ اور سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی پر ایک واضح پوزیشن لیں گے۔اس کے برعکس انہوں نے نام لئے

بغیر نوا ز شریف کو سرٹیفائیڈ چور کہا اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑی کی جانے والی احتجاجی مہم کے مُدے کے ذکر کو گول کردیا جس کا ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی ابھی بھی حکومت کے قبل از وقت جانے کے حق میں نہیں ہے جیسے ایک سال پہلے پی ڈی ایم کی مدد سے ملتان میں پارٹی کے تاسیسی جلسے کے باوجود جب لانگ مارچ کے اعلان کا وقت آیا تھا تو بلاول بھٹو پارٹی کی مجلس عاملہ سے مشورے کے بہانے پتلی گلی سے نکل گئے تھے اور پھر سینٹ انتخابات میں حکومتی بنچوں سے یوسف رضا گیلانی کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوا کرنمودار ہوئے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی بھی صورت نون لیگ کی بی ٹیم بن کر کھیلنے کے لئے تیار نہیں، خواہ اسے اپنی سیاست میں سے پنجاب کو مائنس ہی کیوں نہ کرنا پڑے اور ایک ایسی انتخابی ایڈجسٹمنٹ کی طرف بڑھنا پڑے جہاں وہ پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی کو پنجاب میں سپورٹ کرے اور اس کے بدلے میں پشاور، سندھ اور بلوچستان میں اپنے لئے کھلے انتخابی میدان کی یقین دہانی لے سکے۔پی ڈی ایم میں شامل دو بڑی جماعتیں نون لیگ اور جے یو آئی کی قیادت عوام کو باور کر ارہے ہیں کہ 2022عام انتخابات کا سال ہوسکتا ہے اوراسی سلسلے میں وہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاسوں کا انعقاد کرتی اور فیصلے ملتوی کرتی نظر آرہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ انہیں نچلی سطح کی

مغربی ہواؤں کے چلنے کا انتظار ہے جو بارش لاتی ہیں اور کنفیوژن کی دھند کو دھوڈالتی ہیں۔اس بارے میں کچھ وثوق سے کہنا مشکل ہے وہ مغربی ہوائیں کب انتہائی نچلی سطح پر آکر چلیں گی مگر جب سے عمران خان نے کابینہ کے اراکین کو ملک میں رہنے کا کہا ہے اور پارٹی کی کور کمیٹی اجلاس کیا اس سے لگتاہے کہ پی ٹی آئی کو ایسا کچھ محسوس ہونا شروع ہو گیا ہے جس کی پیش بندی ضروری ہے۔ ایک دلچسپ خبر یہ ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے محکمہ موسمیات کے اعلیٰ حکام اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں اور موسمیاتی پیش گوئیوں سے متعلق نئے آلات خریدنے کے تخمینوں کو وزارت خزانہ کے ساتھ حتمی شکل دینے کی تگ و دو کر رہے ہیں تاکہ موسم کی پیش گوئی کے نظام کو موثر بنایا جا سکے۔ تاہم لگتا ہے کہ ای وی ایم مشینوں کی طرح موسمی پیش گوئیوں کے آلات کی خریداری کے فیصلے کی منظوری بھی دے گی تو پی ٹی آئی کی حکومت لیکن ان فیصلوں کا پھل کوئی اور کھائے گا۔