موجودہ سیاسی حالات کے حوالے سے عاصمہ شیرازی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) کل کیا ہو جائے؟ سیاسی نقشہ کیسا ہو گا؟ سنہ 2022 میں کس کی حکومت ہو گی؟ وطن عزیز میں اگلا آرمی چیف کسے بنایا جائے گا؟ یہ سب سوالات محض سوالات ہی ہیں۔ جواب یا تو وقت کے پاس ہے یا حالات کو خبر۔یہ 2021 کا آخری کالم ہے۔

نامور خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی اپنے ایک کالم (برائے بی بی سی ) میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیتے سال کا سارا احوال لفظوں، ہندسوں کی نذر ہو گیا۔۔۔ سیاسی جوتشی زائچہ کیا بناتے ہیں، نجومی ستاروں کی چال کیا سجاتے ہیں اور علم الاعداد کس کے کتنے عدد بتاتے ہیں۔۔۔ یقیناً اس بارے دلچسپی رکھنے والے ہی خبر رکھے ہوئے ہوں گے۔ ہم لکھاری، سیاست کے طالبعلم صرف حال سے باخبر ہیں جو خاصا بےحال ہے۔ڈیل کی خبریں ایک بار پھر گردش میں ہیں۔ یہ لفظ پاکستانی سیاست میں سنہ 2006 میں داخل ہوا۔ سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ میں ہونے والی گفتگو کو ’ڈیل‘ کا نام دیا گیا حالانکہ ’ڈیل‘ دو ہم پلہ گروہوں میں ہوتی ہے جبکہ پاکستان جیسے ملک میں کم از کم سیاسی حلقے قطعاً اسٹیبلشمنٹ کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے۔سنہ 2006 کے اوائل سے ہی پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’ڈیل‘ کی خبریں گردش میں تھیں۔ پیپلز پارٹی اور اے آر ڈی میں شامل جماعتوں کی کوریج چونکہ میری ذمہ داری تھی اور بطور پارلیمانی رپورٹر خبروں سے آگاہی میرا پیشہ اور شوق بھی۔ مخصوص حالات ہماری نظر کے سامنے تھے۔اُن دنوں اسٹیبلشمنٹ کو محسوس ہوا کہ سیاست دانوں کو ’انگیج‘ کرنا ضروری ہے تاکہ دن بہ دن کمزور ہوتی مشرف حکومت کے لیے ’اصلی عوامی نمائندہ حکومت‘ کا بندوبست کیا جائے۔یاد رہے کہ آمریتوں یا ہائبرڈ ادوار میں چوری شدہ حق حکمرانی ایک سٹیج پر ناکام ہونا شروع ہو جاتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب مقتدر قوتیں اگلے اقتدار تک ’ہائبرنیشن‘ میں جانے کا منصوبہ بناتی ہیں۔

’ڈیل‘ کی متلاشی مقتدرہ خود کو دوام دینے کے لیے مختصر دورانیے کی نام نہاد بیساکھیوں والی جمہوریت کو موقع فراہم کرتی ہے اور آئندہ کے منصوبے تشکیل دیتی ہے۔بہرحال 2006 اسی طرح بیت گیا اور 2007 میں عدلیہ بحالی تحریک کا آغاز ہوا، اب یہ کسی ’ڈیل‘ کا حصہ تھا یا نہیں مگر عوام کو مشرف حکومت کے خلاف اظہار کا ایک موقع ضرور مہیا ہو گیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو اور جدہ کے بعد لندن میں موجود میاں نواز شریف پر آمر مشرف نے سیاست کے دروازے بند کر رکھے تھے۔ سیاسی رہنما وطن واپسی کے لیے رابطوں میں تھے اور یوں محترمہ مشرف کے قریبی ساتھی طارق عزیز اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اشفاق پرویز کیانی کو وطن واپسی کے لیے رضامند کر پائیں۔ ان معاملات میں بیرونی قوتوں کی مداخلت تھی یا ضامن کون تھا اس سے قطع نظر پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو دونوں رہنماؤں کو وطن واپسی کی اجازت دینا ہی پڑی۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ لاکھ سیاست دانوں پر تنقید کریں، ان کی بدعنوانیوں کے قصے درودیوار پر چسپاں کریں مگر عوام انھی سیاست دانوں سے اُمیدیں لگاتے ہیں اور اُنھیں ہی اپنی امیدوں کا محور گردانتے ہیں۔ ’بریانی کی پلیٹ پر بک جانے والے عوام‘ کا طعنے دینے والے غیر سیاسی لوگ کب جانتے ہیں کہ عوام سیاست سے مستقبل وابستہ کیوں کر لیتے ہیں۔سنہ 2008 کے انتخابات سے قبل محترمہ کی ناگہانی موت کس ڈیل کا حصہ تھی اس پر زیادہ روشنی نہیں ڈالی جا سکتی البتہ اتنا ضرور ہے کہ بے نظیر بھٹو کی موت بھی جنرل مشرف کے اقتدار کی طوالت کی ضمانت نہ بن سکی۔

اب ایک بار پھر مقتدر حلقوں میں ڈیل کی شنید ہے، ڈیل لینے والے سیاست دانوں کا تذکرہ ہے لیکن ڈیل دینے والوں کا کوئی ذکر نہیں۔ حالات پھر وہیں پر ہیں جہاں ایک اور دورانیے کی ڈیل چاہیے۔ ڈیل سیاسی لوگ ہی دیتے ہیں لیکن سجی سجائی ٹی وی سکرینیں آدھا سچ دکھاتی ہیں۔جنوری میں دھماکہ نواز شریف کی آمد کا نہیں بلکہ تحریک عدم اعتماد کی صورت ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع ہونے کے بعد قومی اسمبلی تحلیل نہیں کی جا سکتی۔پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم احتجاج کے موڈ میں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی پانچ جنوری سے تحریک کے آغاز کا عندیہ دے چکی ہے۔ ایک طرف حزب اختلاف سڑکوں پر احتجاج کا لائحہ عمل بنا رہی ہے تو دوسری طرف حکومت پر آئندہ چند دنوں میں منی بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کروانے کا دباؤ ہے۔اپوزیشن منی بجٹ مسترد کرنے کی کوشش کرے یا نہ کرے، حکومت کو اپنے اراکین اور اتحادیوں کی مخالفت کا سامنا ضرور کرنا پڑ سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بعض حکومتی اراکین منی بجٹ کے نتیجے میں عوامی دباؤ کا سامنا کرنے کو تیار نہیں۔حزب اختلاف ساڑھے تین سو ارب کے لگ بھگ ٹیکسوں پر مشتمل مالیاتی بل کو مسترد کرنے کی کوشش میں بظاہر نظر نہیں آتی البتہ مخالفت کے لیے کمر کس رہی ہے۔ اپوزیشن حلقوں کی مالیاتی بل کے تناظر میں حکومت کو شکست تحریک انصاف کو سیاسی شہادت مہیا نہیں کر سکے گی تاہم اپوزیشن نے اس بارے میں مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی تاحال کوئی کوشش نہیں کی۔ان حالات میں پاکستان کے پسے عوام بھی ایک ڈیل کے منتظر ہیں کہ کب اُن کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور اُنھیں جینے کا حق میسر ہو اور کب پالیسیوں کے محور صرف عوام ہوں۔کیا سیاسی جماعتیں اس بار کوئی بھی ڈیل کرنے کی بجائے ڈائیلاگ کو ترجیح دیں گی؟ خفیہ بات چیت کی بجائے معاملات منظر عام پر لائیں گی؟ اپنے ذاتی مفادات کو عوامی مفادات میں بدلیں گی؟ اگر ایسا ہوا تو یہ ڈائیلاگ عوام اور ریاست کا ڈائیلاگ بن جائے گا جس سے سیاست میں مقتدر حلقوں کی مداخلت کا دروازہ بند کرنے کا امکان کم از کم پیدا ہو سکتا ہے؟ڈیل کا تاثر زائل کرنے کا زور لگانے والی سیاسی جماعتیں عوام کو اتنا تو بتائیں کہ اُنھیں بات چیت کے لیے کون بند کمروں میں دعوت دیتا ہے۔ کیا وقت آ گیا ہے کہ اب ڈیل نہیں ڈائیلاگ کیا جائے۔