موجودہ ہلچل کی اصل وجہ سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) اپوزیشن یہ جانتی ہے کہ اگر وہ سینیٹ میں بھی اکثریت سے محروم ہو گئی تو اِس کے بعد، اُس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ یہ اب اس کی بقا اور سلامتی کا سوال ہے کہ وہ ایسا دن آنے سے پہلے کوئی اقدام کرے۔ اپوزیشن میں شامل سیاست دان تجربہ کار ہیں۔

نامور کالم نگار خورشید ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ جانتے ہیں کہ محض سیاسی جلسوں سے حکومتیں ختم ہوتی ہیں اور نہ انہیں دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کوئی عوامی‘ سیاسی تحریک ایک مدت سے زیادہ عوامی جوش و خروش (momentum) کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اس لیے اپوزیشن نہ تو سیاسی جلسوں پر اکتفا کرے گی اور نہ ہی اس تحریک کو طوالت دینے کی کوشش کرے گی۔ مریم نواز نے اگر ‘آر یا پار‘ کی بات کی ہے تو یہ اس کا اظہار ہے کہ اپوزیشن کے لیے یہ تحریک زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ داد دیجیے اس سیاسی بندوبست کے ذمہ داروں کی سیاسی بصیرت کو کہ وہ پھر بھی اپوزیشن کو جوش دلانے پر لگے ہیں۔ خان صاحب کو اب اس تحریک کے غیر ملکی سرپرست دکھائی دینے لگے ہیں۔ اگر وہ پیش پا افتادہ سیاسی حقائق کو دیکھ سکتے تو انہیں یہ خیالی سرپرست تراشنے کی ضرورت نہیں تھی۔اگر خان صاحب دیکھتے کہ ملک کی معیشت برباد ہو چکی۔ مڈل کلاس معدوم ہو رہی ہے اور غربت روز افزوں ہے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ اپوزیشن کی سرپرست کوئی غیر ملکی قوت نہیں، بڑھتی ہوئی غربت اور مایوسی ہے۔ پاکستان میں عوامی شعور ابھی اس سطح تک نہیں پہنچا کہ اعلیٰ جمہوری اقدار کی پامالی عوام کو سڑکوں پہ لے آئے۔ اگر 2018ء کے بعد وجود میں آنے والا سیاسی بندوبست اپنے اندر کوئی خوبی رکھتا اور عوامی مسائل کو کم کرتا تو عوام اسے قبول کر لیتے۔ پھر اپوزیشن لاکھ کوشش کرتی، کامیاب نہ ہوسکتی۔جس ملک کی معیشت کو خود اس کے ذمہ دار برباد کرنے پر تلے ہوں۔ جہاں سیاسی عدم استحکام کو مسلسل کوشش سے بڑھایا جائے اور سیاسی نظام کے پشتی بان تکبر و انتقام کی فضا میں جیتے ہوں، اُس ملک کے دشمنوں کو کیا پڑی کہ اس کی بربادی کے شیطانی منصوبے بنائیں۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

Sharing is caring!

Comments are closed.