موسیٰ خان کی گرفتاری کے باوجود مولانا فضل الرحمٰن اتنے خوش اور مطمئن کیوں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان دنوں ان کی شمالی علاقہ جات کی سیر کی تصویریں وائرل ہوئی ہیں جن میں ان کے چہرے کے تاثرات ان کی خوشگوار موڈ کو ظاہر کر رہے ہیں۔

نامور صحافی عزیز اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔مولانا فضل الرحمان ان دنوں کشمیر کی وادی نیلم میں ہیں جہاں وہ اتوار تک رہیں گے۔ ان کی جماعت کے ذرائع نے بتایا کہ یہ دورہ کشمیر میں تنظیمی معاملات کے لیے پہلے سے شیڈول تھا۔اپوزیشن کی اے پی سی کے بعد مولانا فضل الرحمان سے وابستہ خبریں وائرل ہوئی ہیں جن میں اے پی سی کے دوران انھیں براہ راست نہ دکھانے کا شکوہ ہو یا ان کے سخت گیر موقف کی ویڈیو ہو میڈیا پر چھائی رہی ہیں۔شمالی علاقہ جات کی تصویروں میں مولانا فضل الرحمان دریا کے کنارے پتھروں پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جبکہ ایک تصویر میں ان کے ہمراہ جے یو آئی سندھ کے رہنما راشد سومرو اور ضیا الرحمان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس بارے میں لوگ اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ ’مولانا خود ہی شمالی علاقہ جات کی سیر کو چلے گئے ہیں۔‘یاد رہے ’شمالی علاقہ جات کی سیر‘ اس وقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر گیا تھا جب ایس ای سی پی کے ایک افسر مبینہ جبری گمشدگی کے بعد واپس آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ وہ شمالی علاقہ جات کی سیر کو گئے تھے۔ یہ ٹرینڈ بظاہر ان لوگوں کے لیے تھا جو لوگ اچانک لاپتہ ہو جاتے ہیں اور الزام خفیہ اداروں پر لگایا جاتا ہے۔مولانا فضل الرحمان کے چاہنے والے ان کی نظر آنے والی اس خوشی کو ان کی حالیہ ’کامیابی‘ سے جوڑ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو نے ان کو نوٹس جاری کرنے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا کو اب تک کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام کے ان کارکنوں کو بھی رہا کر دیا گیا ہے جنھیں جماعت کے ایک رہنما موسیٰ خان بلوچ کی گرفتاری کے بعد احتجاج کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔موسیٰ خان بلوچ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے تحصیل پہاڑپور کے امیر ہیں اور ان دنوں نیب کی حراست میں ہیں۔ بعض تجزیہ کار اور ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ بظاہر ’موسیٰ خان کو مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے اور اس گرفتاری کا مقصد مولانا کو تنگ کرنا ہے‘۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *