مولانا خادم رضوی کا جنازہ ایک پاکستانی خاتون کو بڑی تکلیف دے گیا

لاہور (ویب ڈیسک) خادم رضوی صاحب کا جنازہ کسی بہت ہی بڑے جید عالم کا جنازہ نہیں تھا، یہ اس معاشرے کا جنازہ تھا جہاں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد جنید حفیظ جیسے جوان جھوٹے الزام میں سات سال سے قید سزا کے دن انتظار کر رہے ہیں۔ یہ اس سوسائٹی کا نوحہ ہے

جہاں نویں جماعت کے پندرہ سالہ بچے جمعے کی نماز ادا کرتے ہی 30 سالہ ڈاکٹر طاہر محمود کو اس بنا پر زندگی سے محروم کرتے ہیں کہ ان کا فرقہ وہ نہیں تھا جو اس پندرہ سالہ بچے کا ہے۔ یہ اس نسل کا نوحہ ہے جہاں ایسے مجرموں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں اس کا منہ چوما جاتا ہے اور اس کے جنازے میں لاکھوں فرزندان توحید کا لشکر عقیدت سے شریک ہوتا ہے۔ یہ اس شہر لاہور کے اس تاریخی مقام کا سوگ ہے جہاں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اور جہاں گزشتہ روز ‘سر جسم سے جدا‘ کے نعرے لگے۔برداشت رواداری مذہبی ہم آہنگی جیسے رویے ہمارے معاشرے سے کب کے ہوا ہو چکے۔ اب کسی موضوع پر اگر کوئی روایت سے ہٹ کر کوئی بات کہہ دے تو فتویٰ حاضر۔ اکثر موضوعات شجر ممنوعہ تصور کیے جاتے ہیں۔ جن پر بات کرنے سے سوسائٹی کی عزت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ہم لکیر کے فقیر ہیں، جدت کو بدعت اور سوال کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں اور کوئی سوسائٹی کے تعفن زدہ جسم سے کپڑا ہٹا دے تو وہ ہم میں سے نہیں رہتا۔ تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کے انتقال پر پاکستانی معاشرے میں پھر سے ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا کسی کے جنازے میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد اس بات کا تعین کرتی ہے کہ مرنے والا کیسے اخلاق و کرادر کا مالک تھا۔ اس سے پہلے یہ رحجان پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے مجرم ممتاز قادری کے جنازے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔

اس وقت بھی شہر کا شہر مسلمان ہواپھرتا تھا اور آج بھی لاہور شہر کی بلکہ ملک کی یہی صورتحال ہے۔ یہ تقسیم صرف مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس میں ہی نظر نہیں آ رہی بلکہ اشرافیہ کہلانے والے انتہائی اعلٰی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل بھی خادم رضوی کے جنازے کے حجم سے متاثر نظر آتے ہیں۔ عقیدہ اور کلچر انسان کو بعض اوقات خرافات کی اندھی تقلید کی ایسی کھائی میں دھکیل دیتا ہے جہاں روشن دماغوں کی آنکھیں بھی اس طرح چندھیا جاتی ہیں جہاں وہ غلط اور صحیح میں تمیز نہیں کر پاتے۔ یہ مسئلہ صرف اندھی تقلید کرنے والے پیروکاروں تک محدود رہتا تو بھی غنیمت تھا لیکن خادم رضوی صاحب کے انتقال کی خبر منظر عام پر آتے ہی وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی جانب سے بھی تعزیتی ٹویٹ کی گئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ کچھ ہی دیر میں ملٹری اسٹیبلشنٹ اور آرمی چیف کی جانب سے بھی تعزیتی پیغام آ گیا۔ سرکاری ریڈیو اور ٹی وی اور چند نجی چینلز کی جانب سے مرحوم کے زبان و بیان اور قابلیت اور علمیت میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ فصاحت و بلاغت سے معمور ایک ایسے جید عالم کا انتقال ہے جس کی وجہ سے پیدا شدہ خلاء تا قیامت پُر نہیں کیا جا سکے گا۔ ممکن ہے کہ حکومت اور آرمی کے پاس یہ جواز ہو کہ یہ تعزیتی پیغامات ایک طرح کی علاقائی ڈپلومیسی کا حصہ ہیں کیونکہ خادم رضوی گزشتہ الیکشن میں ووٹ کے حساب سے تیسری بڑی جماعت ثابت ہوئے تھے۔ لیکن پھر سوال اٹھے گا کہ مذہبی اقلیتوں کے جو لوگ ایسے عالموں کے نفرت انگیز فتووں کی بھینٹ چڑھے ان کے ورثا سے تعزیت کون کرے گا؟

سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی۔۔حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟‘‘۔۔ایک طرف پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے خطرہ رہتا ہے، گرے لسٹ سے نکل جانے کے لیے تگ و دو کی جاتی ہے، پاکستان کا سافٹ امیج بحال کرنے کے مسلسل نعرے لگائے جاتے ہیں تو دوسری جانب مینار پاکستان کے سائے میں لاکھوں لوگوں کو ۔۔ سر جسم سے جدا ۔۔۔ جیسے نعرے لگانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ جہاں قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی وہیں آج کے نئے پاکستان میں ہزارہا لوگوں نے کلمہ پڑھ کر گستاخ رسول کی سزا، سر جسم سے جدا کرنے کا فلک شگاف نعرہ بلند کیا ہے۔ کیا یہ ریاست اتنی بانجھ ہو گئی ہے کہ سر عام ایسے اجتماع کی اجازت دیتی ہے۔ ایسا ملک جہاں ایک دن پہلے دو ہزار سے زائد کرونا کے کیس رپورٹ ہوئے ہوں وہاں بغیر ماسک ہزاروں لوگوں کو کھلی چھٹی تھی کہ وہ جو جی میں آئے وہ کریں۔کیا واقعی جنازوں کی لمبائی چو ڑائی اور جنازے میں شریک انسانوں کی تعداد یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مرنے والا حق پر تھا؟ ایسے اوصاف و کرادر کا مالک تھا کہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ اگر ہم اس پیمانے پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا فیصلہ کریں تو ہمیں اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ کیا تاریخ میں جن شخصیات کے جنازے میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی وہ بھی ہماری اسی تشریح پر پورا اترتے ہیں۔ زیادہ دور نہیں جاتے، ہم اپنے ہمسایہ ملک بھارت میں اینٹی مسلم ہندو نیشنلسٹ

جماعت شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے کریا کرم یا جنازے کی تصاویر پر نظر دوڑائے لیتے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق 15 سے 20 لاکھ لوگ اس جنازے میں شریک ہوئے تھے۔ کیا اس بنا پر وہ رہنما جس نے ہندو نوجوانوں کو بھڑکایا تھا کہ مسلمان آبادی پر اسکواڈ بنا کر اٹیک کریں، کو جنتی قرار دیا جا سکتا ہے؟جنازے میں شریک ہجوم کا تعلق مرنے والے کی شہرت سے تو ہو سکتا ہے لیکن کردار سے ہرگز نہیں کیونکہ تاریخ میں ایسی برگزیدہ ہستیاں اور پیغمبر بھی گزرے ہیں جن کے جنازے میں گنتی کے افراد شریک ہوئے لیکن ان کے اچھے کاموں سے لاکھوں لوگ فیض یاب ہوئے۔ حضرت امام حسین اور حضرت محمد کے جنازے میں کتنے لاکھ لوگ شریک ہوئے تھے؟؟ علامہ خادم رضوی کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ان کی شہرت کی خاص وجہ وہ لب و لہجہ نظر آتا ہے جس میں وہ اپنے مخصوص پنجابی لہجے میں تقاریر کیا کرتے تھے اوران کے یہ بیانات پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف بغض عناد اور نفرت سے بھر پور ہوتے تھے انھوں نے ہمیشہ شیعہ، احمدی، وہابی اور چند دیگر فرقوں کو اپنے نشانے پر رکھا۔ انھوں نے سیاست میں اپنے دھرنوں کی وجہ سے بھی شہرت پائی۔ فیض آباد دھرنا میں کہا گیا کہ فوج کی جانب سے پیسے دے کر ان کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ ان کو پالنے والے پروان چڑھانے والی ایک مقدس گائے ہے تو دوسری طرف ایسا موقع بھی آیا کہ خادم رضوی نے آرمی چیف اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف فتوے جاری کر دیے۔

آرمی چیف کو قادیانی کہا گیا۔ ان کے ایسی تقاریر سے ان کے پیروکار اس قدر جذباتی طور پر مشتعل ہوتے تھے کہ شیعوں اور احمدیوں کو زندگی سے محروم کرنے پر آمادہ نظر آتے تھے۔ ایدھی صاحب کے انتقال پر ابھی ان کا جنازہ پڑھایا جا رہا تھا کہ خادم رضوی کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے تھے جن میں ان کا کہنا تھا کہ ایدھی ایک ملحد اور قادیانوں کا علاج معالجہ کرنے والا ایک ایسا انسان ہے کہ جو لوگ اس کو صدقات یا زکواة دیتے ہیں وہ بھی اللہ کے عذاب کے لیے تیار رہیں۔ آج ایک ان پڑھ تعلیم سے بے بہرہ ملیشیا کے کپڑے، ٹوٹی جوتی پہنے ایلمونیم کے برتنوں میں ساری زندگی دال روٹی کھانے والے، ‘حرامیوں‘ کی تربیت کر نے والے، جھولی پھیلا پھیلا کر بے سہاروں کے لیے بھیک مانگنے والے اور ساری زندگی ایمبولینس چلانے والے اسی عبدالستار ایدھی کے زیر سایہ ماں باپ کے ناموں کے بغیر پلنے والے بچے بڑے ہو کر، تعلیم یافتہ ہو کر زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کام انجام دے رہے ہیں اور ملک کا نام روشن کر رہے ہیں جبکہ خادم رضوی صاحب کے پروردہ ہزاروں نوجوان کسی ایک ایسے مقدس لمحے کے منتظر رہتے ہیں جہاں کسی غیر مسلم، کافر، شیعہ یا احمدی کا سر قلم کر کے 72 حوروں تک پہنچا جا سکے۔ کسی کو ایدھی صاحب کے فرقے کا علم ہی تھا۔ کیونکہ انھوں نے کبھی مذہب پر بات ہی نہ کی۔ ان کا مذہب انسانیت تھا اور وہ ساری زندگی رنگ و نسل، مذہب و فرقے سے بالا تر ہو کر انسانیت کے لیے کام کرتے رہے۔ انھوں نے کچرے کے ڈھیر پر پیدا ہونے والے بچوں کو پنگھوڑے تک پہنچا دیا۔ خادم رضوی صاحب کا بھی قصور نہیں تھا کہ انھوں نے ایدھی صاحب کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کی کیونکہ یاد رکھیے گا کہ غلاظت کے ڈھیر کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ جب تک اس کو کریدا نہ جائے بد بو کے بھپکے نہیں اٹھتے۔ ایدھی صاحب کا جرم یہی تھا کہ انھوں نے کچرے کے اس ڈھیر کو کرید ڈالا تھا جس کے تعفن سے بڑے بڑوں کی پگڑیاں اچھلنے کا ڈر تھا۔ خادم رضوی صاحب کو اسی بات پر غصہ آیا ہو گا۔ لیکن ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کی آخری رسومات کے لیے شاید ان کو ایدھی ایمبولینس کی ضرورت پڑ جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.