مولانا طارق جمیل نے پاکستانی میڈیا کو دجال اور کذاب قرار دے دیا

لاہور (نیوز ڈیسک) عالمی شہرت یافتہ مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے جلال سنز اور ماسٹر ٹائلز کی شادی پر نکاح پڑھانے کے عوض 10 لاکھ روپے وصول کرنے سے متعلق ایک اور بیان جاری کیا اور پاکستانی میڈیا کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ تفصیلات کے مطابق مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ میرا میڈیا کے

ساتھ سب سے زیادہ تعلق ہے، یہ دجال اور کذاب سے ہیں۔انہوں نے بالکل جھوٹ بولا ہے، جلال سنز سے میرا تعلق اٹھائیس سال پُرانا ہے، جب یہ چھوٹے سے تاجر تھے، میرا اور اُن کا تعلق تبلیغ کے ذریعے ہوا تھا، یہ تبلیغ میں لگے، اور تبلیغ پر جانا شروع کیا توآنا جانا شروع ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ جلال سنز والوں سے میرا محبت کا تعلق شروع سے رہا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تمام باتیں مولانا طارق جمیل نے ایک آڈیو پیغام میں کہیں۔انہوں نے بتایا کہ جلال سنز والوں کے والدہ والد کا جنازہ میں نے پڑھایا، اس تعلق کی وجہ سے میں نکاح میں گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ شادی پر کروڑوں لگے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب میری شادی میں صرف دس کروڑ لگے ہیں۔ دوسو ارب کی خبر بالکل بکواس ہے، پھر یہ بھی خبر تھی کہ دس لاکھ مولانا طارق جمیل نے نکاح پڑھانے کے لیے لئے، اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوگا۔میں تعلق کی وجہ سے شادی میں گیا مجھے بھی وہ منظر نامہ اچھا نہیں لگا لیکن میں یہی کہنا چاہتا ہوں میڈیا کی خبر پر کبھی کوئی تبصرہ نہ کیا کریں، کبھی کوئی کلپ ریکارڈ نہیں کروایا کریں۔ کیونکہ میڈیا پچانوے فیصد جھوٹ بولتا ہے، مجھے تو ان محفلوں میں جانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں طوائفوں کے محلے اور گھروں میں جاتا ہوں، ان سے بات کرتا ہوں۔ اپنے شہر تلمبہ محلے میں طوائفوں کے وظیفے مقرر کیے ، بُرے کام چھوڑنے میں ان کی مدد کی، چالیس لاکھ ماہانہ کا انہیں وظیفہ دیتا تھا، مجھے بطور مولانا کہیں جانے میں مسئلہ نہیں ہے۔کوئی پیغام پہنچانا ہے، انہیں کوئی بات سمجھانی ہے تومجھے کوئی عار نہیں کیونکہ مجھے اللہ کا پیغام ہی پہنچانا ہے۔ مولانا طارق جمیل نے بارہا وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دس لاکھ میں نکاح پڑھوانے اور دو سو ارب کی شادی کی خبر بالکل بکواس ہے، مجھے پتہ ہے کہ دس کروڑ لگائے ہیں، جلال سنز کے پاس اربوں روپے ہیں وہ ایسا کرسکتے ہیں لیکن پھر بھی جھوٹی خبریں نہ پھیلائی جائیں۔میں ُپرانے تعلق کی وجہ سے گیا ،میں نے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے اس حوالے سے بات کی ہے، ان پر بھی مجھ پر بھی جھوٹا الزام ہے، میں نے دوچار نوالے روٹی کے کھائے اور نکاح پڑھاکر واپس آگیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.