مولانا طاہر اشرفی کا حیران کن بیان منظر عام ہر

لاہور (ویب ڈیسک) مذہبی اورقانونی ماہرین نے وفاقی حکومت کی جانب سے ظلم کی متاثرہ خواتین و لڑکیوں کا 2 انگلیوں کے ٹیسٹ (ٹی ایف ٹی) کو مسترد کرنے کی تجویز پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کردیا۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی مولانا طاہر اشرفی نے کہا متاثرین کی عزت اور وقار کا خیال رکھنا

انتہائی ضروری ہے لیکن ٹیسٹ اس وقت ختم کرنا چاہیے جب تک کہ اس کا متبادل تمام ضروریات کوپورا نہ کرے۔ ایسا نہ ہو کہ مجرموں کو پکڑے جانے اور سزاکا خوف ہی ختم ہوجائے۔مذہبی سکالر ڈاکٹر تنویر قاسم نے کہایہ ٹیسٹ نہیں ہونا چاہیے اور مجرم ہونے کی توثیق کیلئےا سلامی قوانین و شرائط کی پیروی کرنی چاہیے۔ پنجاب بار کونسل کے وائس چئیرمین اکرم خاکسار نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دی گئی انتہائی غلط تجویز ہے۔قانون شہادت میں اس جرم کے مجرم ہونے کا انحصار ہی اسی ٹیسٹ پر ہے ۔ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ یہ جرم کرنے والے نہ اپنا جرم قبول کرتے ہیں اور نہ اس پر شرمندہ ہوتے ہیں۔ اگر یہ ٹیسٹ ختم ہوگیاتو گناہ گاروں کے خلاف کارروائی کیسے ہوگی؟بے گناہ اور اور گناہ گار کا فرق ثابت کرنا ناممکن ہوجائیگا۔ سینئر ماہر قانون ربیعہ باجوہ نے کہا وفاقی حکومت کی تجویز بالکل درست ہے یہ ٹیسٹ ختم ہونا چاہیے۔ ایک طرف لڑکی ظلم کا شکار ہوئی ہوتی ہے تو دوسری جانب اس پر ٹیسٹ اس کے ساتھ مزید ظلم کیا جاتا ہے۔ متاثرین کی عزت نفس کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے اس لئے اس ٹیسٹ کے خاتمے کی حمایت کرتی ہوں۔ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ظریف نے کہاہے کہ کنواری لڑکی کے ٹیسٹ میں یہ ٹیسٹ شہادت کیلئے بہتر ہے لیکن شادی شدہ خواتین میں اس ٹیسٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اب جدید طریقے آ چکے ہیں ان کو اختیار کرنا چاہئے اور ٹی ایف ٹی ٹیسٹ نہ کروایا جائے۔ اس سلسلہ میں جب سرجن میڈیکو لیگل پنجاب اور چیئرمین فرانزک ڈیپارٹمنٹ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عارف رشید ملک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ معاملہ کیونکہ ہائیکورٹ میں ہے، اس لئے اس پر بات نہیں ہو سکتی فیصلہ کے بعد رائے دے سکتا ہوں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *