مولانا فضل الرحمٰن کا تہلکہ خیز بیان

کراچی(ویب ڈیسک)سربراہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ مولانا فضل الرحمٰن نے اسلا م آباد میں دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ نہیں دھرنے پر سب متفق ہیں، مدت کا تعین حالات دیکھ کر کرینگے۔ اسلا م آبا دمیں دھرنا ہوگا ، لانگ مارچ کا مطلب یہ نہیں کہ آئے اور چلے گئے،

متفقہ فیصلہ ہے کہ لانگ مارچ میں آئیں گے اور دھرنا دیں گے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سمیت سب اپوزیشن جماعتیں دھرنے پر متفق ہیں، عمران خان پر مستعفی ہونے کیلئے عوامی دباؤ ڈالا جائے گا۔دھرنے کے بعد آگے کی حکمت عملی طے کرتے جائیں گے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی لانگ مارچ اور دھرنے میں بھرپور شرکت کریں گی، دھرنا کتنا طویل ہوگا اسی وقت طے کریں گے کیونکہ آگے رمضان بھی ہے، میری یا پی ڈی ایم کی کسی سے خفیہ بات چیت نہیں ہورہی، نیب سمیت کسی کا باپ بھی میرا احتساب نہیں کرسکتا،کون ہوتے ہیں یہ لوگ؟ کیا یہ لوگ مجھ سے زیادہ عزت والے ہیں؟،ہم ہمیشہ اداروں کیلئے ڈھال بنے ہیں، عمران خان پر آج تک سیاسی الزامات لگائے ہیں، حقائق ہونے کے باوجود آج تک غیراخلاقی بات نہیں کی۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد میر ا موقف تھا ہمیں حلف نہیں اٹھانا چاہئے، نواز شریف نے دو مرتبہ تحریری طور پر میرے موقف کودرست قرار دیا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ ہم نے عجلت میں فیصلہ کرلیا ہمیں حلف نہیں اٹھاناچاہئے تھا، ن لیگ پنجاب میں جبکہ پیپلز پارٹی سندھ میں کامیاب ہوئی تھی، دونوں جماعتوں کا خیال تھا وہ صوبوں میں حکومتیں بناسکتے ہیں اس لئے حلف نہ اٹھانا عمران خان کے ساتھ ہمارے لیے بھی مشکل پیداکرسکتا ہے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے حکومت کو 31جنوری تک ازخود مستعفی ہونے کیلئے مہلت دی تھی،

پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق راکین اسمبلی نے اپنے استعفے پارٹی قیادت کے پاس جمع کرادیئے ہیں، 31جنوری کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد 4فروری کے اجلاس میں لانگ مارچ کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔حکومت ہٹانے کیلئے اب عوامی قوت استعمال کی جائے گی، اسلام آباد میں بھرپور مظاہرہ ہوگا، لانگ مارچ میں آئے تو بیٹھیں گے ایسا نہیں ہوگا کہ آئے اور فوراً اٹھ کر چلے جائیں گے، متفقہ فیصلہ ہے کہ لانگ مارچ میں آئیں گے اور دھرنا دیں گے، دھرنے کے بعد آگے کی حکمت عملی طے کرتے جائیں گے، لانگ مارچ میں مطالبہ کریں گے حکومت قابل قبول نہیں نئے انتخابات کرائے جائیں، عمران خان نہیں مانے تو ان پر عوامی دباؤ ڈالا جائے گا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس ناجائز حکومت کی کارکردگی انتہائی خراب رہی ہے، حکومت کی نااہلی سے پورا ملک متاثر ہورہا ہے، اپوزیشن جماعتوں سے کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں، اپوزیشن اس وحدت کا مظاہرہ نہیں کرسکی جیسا کرنا چاہئے تھا۔اپوزیشن رفتہ رفتہ قائل ہوئی کہ ہمیں مشترکہ جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھنا چاہئے، مجھے ن لیگ یا پیپلز پارٹی کی کسی ڈیل کا علم نہیں ہے، جے یو آئی ف نے تحریک سے پہلے ملک میں 14کامیاب ملین مارچ کئے جس میں تمام پارٹیاں شریک ہوتی رہیں، اسلام آباد پہنچے تو پورے ملک کی سیاسی قیادت ہمارے ساتھ کنٹینر پر پہنچ گئی۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ نواز شریف پی ڈی ایم بننے سے پہلے حکومت کی اجازت سے باہر گئے، ڈاکٹرز متفق ہیں نواز شریف کا علاج کیلئے باہر جانا ناگزیر تھا،

اپوزیشن نے استعفوں کا ابتدائی فیصلہ عجلت میں کیا تھا، قانونی ماہرین نے متفقہ رائے دی کہ سندھ اسمبلی توڑنے کے باوجود الیکٹورل کالج نہیں ٹوٹے گا اور سینیٹ الیکشن ہوگا۔اس کے بعد فی الحال استعفے نہ دینے اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، سینیٹ الیکشن سے پہلے چونکہ ضمنی الیکشن بھی تھے اس میں بھی حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا، جنوری کی ڈیڈ لائن گزر گئی اب اپوزیشن نے ایکشن لینا ہے، چار فروری کو لانگ مارچ کا فیصلہ کرلیا مزید ایکشن کے مواقع آتے رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی لانگ مارچ اور دھرنے میں بھرپور شرکت کریں گی، دھرنا کتنا طویل ہوگا اسی وقت طے کریں گے کیونکہ آگے رمضان بھی ہے، اسلام آباد آکر چلے گئے تحریک پھر بھی چلتی رہے گی، پچھلے سال حکومت ختم نہیں کرسکے لیکن کمزور ضرور کردیا۔ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ مارچ میں حکومت چلی جائے گی، اس وقت چوہدری برادران بھی موجود تھے، اس حکومت اور اسمبلی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ بالآخر کہا جائے گا کہ اس اسمبلی میں ہم نہیں بیٹھتے۔اسمبلیوں میں ہمارا اعتراض اپوزیشن نشستوں پر نہیں پی ٹی آئی کی نشستوں پر ہے، پی ٹی آئی کو اسمبلی میں نشستیں دھاندلی کے ذریعے دی گئیں۔ سربراہ پی ڈی ایم فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف عوام کو اس کا ووٹ کا حق واپس دلانا ہے، اس مقصد میں رکاوٹ عمران خان کی ناجائز حکومت ہے۔عمران خان کی حکومت دھاندلی کے ذریعے لائی گئی،

دھاندلی عوام کا مسئلہ ہے اور عوام کی لڑائی عوام کی عدالت میں لڑی جاتی ہے، دھاندلی کے خلاف ہمیں کسی اور فورم پر جانے کی ضرورت نہیں ہے، بھارت اور دیگر دشمن قوتوں کے خلاف ہم سب ایک قوم ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے ملک میں اور بیرون ملک اپنے اداروں پر تنقید کی، عمران خان نے اپنی لکھی گئی کتاب میں بھی ایسی ہی باتیں کیں، ہم ہمیشہ اداروں کیلئے ڈھال بنے ہیں، ہماری کوشش رہی ہے ادارے محفوظ رہیں اور ملک کی خدمت کریں۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کمزور ہے اس کا کوئی ذمہ دار تو ہے، اس ذمہ دار کو سمجھنا چاہئے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے، حکومت سے قبضہ چھڑانے کیلئے سیاسی و آئینی راستے اختیار کررہے ہیں، عمران خان کو حکمران تسلیم نہیں کرتا کیسے اس سے بات کروں گا۔اسٹیبلشمنٹ ملکی نظام کی بہتری اور آئینی سیاست کو راستہ دینے کیلئے سنجیدہ ہو تو ان سے بات ہوسکتی ہے، کوئی بات بھی خفیہ نہیں ہوگی علی الاعلان عوام کے سامنے ہوگی، میری یا پی ڈی ایم کی کسی سے خفیہ بات چیت نہیں ہورہی، خفیہ باتیں کرنا ہماری نہیں ان کی ضرورت ہے، بعض دفعہ انہوں نے رابطے کیے ہم ان کا لحاظ رکھ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نیب پرویز مشرف کا بنایا ہوا ادارہ ہے جو سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کیلئے بنایا گیا، پہلے دن سے میرا موقف ہے کوئی سیاستدان نیب کے سامنے پیش نہ ہو، ن لیگ اور پی ٹی آئی حکومتوں میں مجھ پر الزامات لگے مقدمات کیوں نہیں بنائے۔نواز شریف دور میں میرے خلاف الزامات بنائے گئے، خفیہ ادارے اس میں ناکام ہوئے اور انہوں نے مجھ سے معافی مانگی، مجھ سے اس جملے کہ ساتھ معذرت کی جاتی ہے کہ ہم متعلقہ شعبوں کو ہدایات دیدیں گے آئندہ آپ کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں نے اربوں کی جائیدادیں بنائیں تو سامنے لائی جائیں ورنہ مجھے اجاز ت دیں جس جائیداد کی نشاندہی دی اس پر میں اپنا قبضہ کروں، میرے دوست میرے لیے کوئی انتظام کرلیتے ہیں تو کیا اسے بدعنوانی کہیں گے۔چک شہزاد میں میری جتنی جائیداد بتائی جاتی ہے اس حساب سے پورا چک شہزاد میرا ہوجاتا ہے، 1988ء سے پارلیمنٹ میں ہوں آج تک اسلام آباد میں جھونپڑی نہیں بناسکا ، پاکستان میں ایک پاکدامن سیاستدان ہے اس کے دامن کو انہیں ضرور گدلا کرنا ہے۔میں نے قسم کھائی ہے ان کے دامن کو گدلا کروں گا، نیب سمیت کسی کا باپ بھی میرا احتساب نہیں کرسکتا،میں پوری جرأت کے ساتھ ان سے لڑوں گا، یہ سیٹوں پر بیٹھ کر اتنے خرمست ہوگئے کہ ایک سیاستدان کو بے عزت کریں، کون ہوتے ہیں یہ لوگ؟ کیا یہ لوگ مجھ سے زیادہ عزت والے ہیں؟۔

Comments are closed.