موٹروے والے واقعہ پر سلیم صافی کا ناقابل یقین موقف سامنے آگیا

لاہور (ویب ڈیسک) بروقت رپورٹنگ کی وجہ سے سیالکوٹ موٹروے پر رونما ہونے والا واقعہ سیاست اور صحافت کا موضوع بن گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ ندیم فاروق پراچہ کی تحقیق کے مطابق صرف پنجاب صوبے میں سال 2019کے دوران ایسے 3881، بچوں کے ساتھ 1359، خواتین کے خلاف

نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ مارپیٹ 1785اور خواتین کے ابڈکشن کے 12600کیسز رپورٹ ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں کیوں ہورہا ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے، جہاں نماز، روزے، حج اور عمرے کی شرح سب سے زیادہ ہے، جہاں سینکڑوں کی تعداد میں مذہبی جماعتیں سرگرم عمل ہیں، جہاں تبلیغ کا کام دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہو رہا ہے، جہاں انفاق فی سبیل اللہ کا رجحان بھی دیگر اسلامی ممالک کی بنسبت زیادہ ہے، جس کی فوج دنیا کی بڑی اور منظم ترین فوجوں میں شمار ہوتی ہے اور جہاں کی خفیہ ایجنسیاں دنیا کی طاقتور ترین ایجنسیاں سمجھی جاتی ہیں؟ اپنے طور پر ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی جو کوشش کی تودرج ذیل وجوہات ذہن میں آئیں۔1۔یہ قوم حقیقی سیاسی قیادت سے محروم کردی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس باقر کے الفاظ میں اسے سیاسی بونوں کے سپرد کردیا گیا ہے۔ کردار والی قیادت ہی قوم کو منظم کر سکتی ہے لیکن یہاں کٹھ پتلیوں اور ضمیرفروشوں کو قوم کے سروں پر مسلط کیا جاتا ہے جو قوم کے لئے رول ماڈل بن سکتے ہیں، ان کے رہنما بن سکتے ہیں اور نہ حقیقی معنوں میں ان کے جذبات کی ترجمانی کر سکتے ہیں۔2۔ہمارے سول اداروں یعنی پولیس، عدلیہ اور بیوروکریسی میں پہلے سے بے شمار سقم موجود تھے لیکن آج کل انہیں بالکل مفلوج کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں سے ان کا خوف بھی ختم ہوگیاہے اور کسی ادارے سے انصاف کی

توقع نہیں کی جاتی۔3۔اس ملک میں کچھ لوگ اور کچھ ادارے بلیک میل ہورہے ہیں یا غیرضروری احتساب کی زد میں ہیں جبکہ کچھ لوگ اور کچھ ادارے قانون اور احتساب سے مبرا ہیں۔ چنانچہ ایک طبقہ قانون اور احتساب سے مبرا طبقات کی غلامی کررہا ہے اور باقی قوم گھٹن کی شکار ہے یا پھر بغاوت کا راستہ اپنارہی ہے۔4۔طاقت اور دولت کی تقسیم انتہائی غیرمنصفانہ ہو گئی ہے۔ ایک طبقہ حد سے زیادہ طاقتور اور باقی طبقات غلاموں کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ عام شہری مکمل بےبسی اور بےاختیاری کا شکار ہیں۔ اسی طرح دولت چند ہاتھوں میں حد سے زیادہ منتقل ہوگئی ہے جبکہ اکثریتی لوگ بےانتہا غربت کا شکار ہیں۔ ماضی میں چونکہ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا نہیں تھا اس لئے عام شہری طاقت اور دولت کے ان مظاہروں کو براہ راست نہیں دیکھ رہا تھا۔مثلا ماضی میں ہمارے دیہات میں ایک شہری صرف اپنے علاقے کے چوہدری یا تھانیدار کی طاقت اور دولت کو دیکھ رہا تھا لیکن اس وقت وہ ملک بھر میں طاقتوروں کی طاقت کے بےدریغ استعمال کا اور دولت مندوں کی دولت کے ریل پیل کا نظارہ کررہا ہے اور پھر جب اپنی بےبسی یا غربت کو دیکھتا ہے تو اس کی فرسٹریشن حد سے بڑھ جاتی ہے۔غرض اس ملک میں ہر شہری، ہر طبقہ، ہر ادارہ، ہر جماعت اور ہر گروہ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا ماحول بن گیا ہے۔ ماضی قریب میں ہم نے اس ملک میں ڈکٹیٹروں کے ہاتھوں آئین کا ریپ ہوتے دیکھا۔اسی طرح ججوں کے ہاتھوں قانون کا گلا گھوٹتے دیکھا۔ اسی طرح ہم نے محتسب اعلیٰ کے ہاتھوں احتساب کا خاتمہ ہوتے دیکھا، انصاف کے نام لیوائوں کے ہاتھوں انصاف کا خون ہوتا دیکھ رہے ہیں، خبر دینے اور خبر لینے کے ذریعے یعنی میڈیا کو خود اس کو چلانے والوں کے ہاتھوں ریپ ہوتے دیکھا اورجمہوریت کے علمبرداروں کے ہاتھوں جمہوریت کا خاتمہ ہوتے دیکھا۔ ان حالات میں اس ملک کے جاہل اور بھوکے شہری درندے بن کر ٖغلط کاری کرنے لگ جائیں تو حیرت کس بات کی؟اس ملک کو خانہ جنگی اور انارکی سے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ جمہوریت بحال کی جائے۔ ہر ادارہ اور ہر فرد اپنے اپنے دائرہ اختیار میں کام کرے۔ قانون کا سب افراد اور سب اداروں پر یکساں اطلاق ہو اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نظام ہو۔ جس ملک میں جاوید اقبال محتسب اعلیٰ، شیخ عمر حکمرانوں کا فیورٹ پولیس افسر اور شہباز گل ’’امیرالمومنین‘‘ کا ترجمان ہو، اس ملک میں شہریوں سے شائستگی اور تہذیب کی توقع کرنا اپنے آپ اور قوم کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.