موڈ ہرا بھرا کر دینے والی دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک ) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریل کے سفر کے دوران ایک صاحب کی جب بھی سامنے بیٹھی خاتون سے نظر ملتی مسکرا دیتے۔ جب یہ چوتھی بار ہوا تو خاتون بھی مسکرائیں اور کہا کہ جب بھی آپ مسکرا کر مجھے دیکھتے ہیں

میرا دل کرتا ہے کہ آپ سے ملاقات ضرور کرنی ہے۔۔یہ سن کر صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیا کریں،فوراً بولے۔ ۔جی ضرور جب آپ کہیں،کہاں ملنا ہے؟؟خاتون نے اپنا کارڈ دیا اور کہا۔۔میرے کلینک میں،میں ڈینٹسٹ ہوں۔آپ کے دانت میلے کچیلے، ٹیڑھے میڑھے اور کالے ہیں۔سائیڈ کی دو داڑھوں میں کیڑا بھی لگا ہوا ہے،مجھے لگتا ہے شاید ایک ملاقات کافی نہ ہولیکن یہ گارنٹی ہے کہ مجھ سے ملاقات کے بعد آپ مسکراتے ہوئے اتنے برے نہیں لگیں گے۔۔اس کے بعد سے وہ صاحب سوچ رہے تھے کہ کاش وہ ماسک لگائے لگتے تاکہ محترمہ کے سامنے کم سے کم ان کے دانتوں کی تو پول نہ کھلتی۔۔ہمارے پیارے دوست گزشتہ دنوں بینک سے قرضہ لینے گئے، بینک منیجر نے ان سے پوچھا،آپ کیا کرتے ہیں؟؟ وہ عاجزی سے بولے کہ میں آپ کی طرح منیجر ہوں۔۔بینک منیجر کا رویہ اچانک تبدیل ہوگیا، بانچھیں کھل اٹھیں، احترام سے کھڑا ہوا، ہمارے پیارے دوست سے ان کے گھر والوں کا حال احوال پوچھا،پھر گھنٹی بجاکر چائے اور بسکٹ لانے کا کہا۔۔اس کے بعد ہمارے پیارے دوست سے پوچھنے لگا کہ ۔۔ آپ کہاں کے منیجر ہیں؟ہمارے پیارے دوست نے جواب دیا۔۔ تین واٹس ایپ گروپوں کا منیجر ہوں۔۔یہ سن کر منیجر نے اسے کھڑے کھڑے کر بینک سے باہر نکال دیا۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں۔۔ یار ظالم نے سامنے رکھے بسکٹ پر ہاتھ تک لگانے نہیں دیئے۔۔ایک خاتون نے اپنی مہران گاڑی ایک دوسری خاتون کی برانڈ نیو ٹیوٹا کرولا میں ٹھوک دی۔کرولا والی خاتون نے اتر کے مہران والی کو خوب باتیں سنائیں اور کہا کہ اس کے نقصان کا ہرجانہ بھرے۔مہران والی باجی نے اپنے شوہر کو فون کیا تو جواب ملا کہ میں بہت مصروف ہوں اسلئے نہیں آسکتا لہٰذا اپنے طور پہ معاملہ طے کرلے اور مطلوبہ رقم دے دلا کے جان چھڑا لے۔کرولا والی بے بی نے اپنے بوائے فرینڈ کو فون کیا کہ جانو وہ جو کرولا تم نے مجھے برتھ ڈے پہ گفٹ کی تھی وہ ایک مہران والی کمینی نے ٹھوک دی ہے لہٰذا جلدی پہنچو اور نقصان کے پیسے بتاؤ، مجھے بہت صدمہ اور غصہ آرہا ہے۔تھوڑی دیر میں کرولا والی بے بی کا بوائے فرینڈ جائے وقوعہ پر پہنچ جاتا ہے اور وہ انسان بدقسمتی سے مہران والی باجی کا شوہر نکلتا ہے۔اس کے بعد کیا ہواہوگا،یہ سوچنا ہمارا نہیں آپ کا کام ہے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔مرد شیو کر کے عورت سے برابری چاہتا ہے اور عورت پردہ نہ کر کے مرد سے برابری چاہتی ہے ،خدا کی تقسیم سے ناخوش دونوں خسارے میں ہیں۔۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *