مکمل انتظامات رکھنے والی (ق) لیگ حکومت کو رخصت کردیا گیا تو تم کیا چیز ہو ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) یہ کہانی ہے تیسری دنیا کے عوامی لیڈر کی جسے اصولی انکار پر زندان میں ڈال دیا گیا، اراضی سے لے کر اس کی ساکھ تک، سب ملیا میٹ کرنے کے منصوبے پر عمل کیا گیا، آزادی اور اختیار سمیت سب چھین لیا گیا لیکن شاباش ہے اس مردِ حق پر، نہ سمجھوتہ کیا

اور نہ ہی اپنے وقار کے مجروح ہونے کو قبول کیا۔(ن) لیگ کی نامور خاتون رہنما حنا پرویز بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ویسے تو بوٹا بوٹا جانتا تھا کہ کیسے اس کی حکومت ختم ہوئی لیکن اس جھوٹ کے پیاز کی ساری پرتیں ایک ایک کرکے اترتی چلی جارہی ہیں، عوام جان چکے ہیں کہ کیسے اُس رہنما پر ہر دروازہ، ہر پھاٹک، ہر چوکھٹ بند کردی گئی، خدا کی عنایت کردہ نعمت آزادی چھیننے کیلئے کیا کچھ نہ کیا گیا۔ اس بندۂ نڈر کو پارہ پارہ کرنے کے کیلئے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک، پری جیسی بیٹی کو بھی پابندِ سلاسل کردیا گیا، خیال تھا کہ نازوں پلی بیٹی کو کانٹے چبھنے پر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پورا خاندان فرار اور سیاست سے تائب ہو جائے گا۔ڈرایا تو باپ کو گیا تھا لیکن بیٹی بہادری میں باپ سے ایک قدم آگے نکلی، پیش قدمی میں بنتِ کلثوم جاتی امرا کی رانی ثابت ہوئی، امیدوں کے برخلاف جب بیٹی کے قدم بالکل بھی نہ ڈگمگائے تو سہارا دینے والا ہر ستون دور کردیا گیا، سکون بخش آستانہ چھین کر ہر نجات آفرین در بند کردیا گیا، پھر بھی بات نہ بنی تو روشنی کی ایک ایک کرن، ٹھنڈی ہوا کے ہر جھونکے اور پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترسایا گیا۔ ہر مخالف نے اپنا قد بڑھانے کیلئے ذرائع ابلاغ سے ان کے خلاف جھوٹ کی یلغار کر دی، دشنام طرازی کے تیر چلوائے گئے لیکن پھر بھی اس عوامی لیڈر کے خلاف عوام کی برین واشنگ کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں۔

جبر کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں وہ کیوں نہ کہتے کہ میں معاملہ خدا پہ چھوڑتا ہوں؟عوام نے سوال اٹھایا کھانے کو سستا آٹانہیں ہے، بولے دو کی بجائے ایک روٹی کردو، چینی کی قیمت تین گنا ہونے پر احتجاج کیا گیا تو کہا گیا شوگر ہو جائے گی، کم استعمال کرو، گھی دو گنا سے زائد مہنگا کرنے پر وضاحت آئی اچھا ہے، تھوڑے استعمال کرنے سے اسٹنٹ نہیں ڈلوانا پڑیں گے، ادویات تین گنا مہنگی کرنے پر شور مچا تو کہا گیا خاموش رہو، ملکی سلامتی خطرے میں ہے۔ملک بھر میں کوئی جگہ ایسی نہ ہو گی جہاں سے ملکی حالات کے بارے میں تشویش بھری آوازیں نہیں ابھر رہی ہیں، جس طرح پانامہ کے ڈرامے کے تانے بانے واضح ہوتے چلے جارہے ہیں، جلد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جس طرح انٹرنیٹ بند کرکے میاں نواز شریف کی تقریر روکی گئی اور معاملات کنٹرول کرنے کی بونگی کوشش کی گئی اس پر عوامی ناپسندیدگی زوروں پر ہے، 2021میں یہ سوچ رکھنے والوں کی کم عقلی کو ہزار سلام کہ انٹرنیٹ بند کرکے عوام کو ان کے محبوب لیڈر سے دور کیا جا سکتا ہے، اخبار ٹی وی کے در بند کئے جاسکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کو کیسے بند کیا جا سکتا ہے؟سیاسی حلقے برملا کہہ رہے ہیں کہ سارے انتظامات کے باوجود ق لیگ کی حکومت صرف ایک ٹرم بعد ہی فشوں ہو گئی تو موجودہ کنگز پارٹی کی کیا مجال ہے، ویسے حد ہے نالائقی کی یہ تو اپنی باری بھی پوری کرتی نظر نہیں آرہی،ہوشربا مہنگائی کے ظلم تلے عوامی غیض و غضب کا طوفان پل رہا ہے ،بظاہر جذبات کے سمندر میں فی الحال تلاطم تو نہیں ہے لیکن یہ طوفان سے پہلے والی گہری خاموشی ہے اور نہ نظر آنیوالی بے چینی محسوس ہورہی ہے۔جس طرح ہر سیاہ رات کا اختتام روشن سویرے پر ہوتا ہے بالکل اسی طرح وہ وقت زیادہ دور نہیں لگتا کہ جب اپنے محبوب لیڈر کی کال پاتے ہی عوام کا سیلاب جڑواں شہروں کی جانب امڈ آئے گا اور تمام کٹھ پتلیوں کو بہا لے جائے گا، اُس روز پھر خلقِ خدا کا راج ہوگا اور بفضلِ خدا ووٹ کی عزت بحال ہوگی۔

Comments are closed.