مگر آنے والے دنوں میں کیا ہو سکتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خلیل احمد نینی تال والا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی ڈی ایم ڈرامے کا آخری سین کیا ہو گا؟وہ کھیلنے والے بتائیں گے۔فی الحال دونوں صفوں میں دڑاریں تو پڑ چکی ہیں اوراپوزیشن کے غبارےسے ہوا نکل چکی ہے۔ PTIکے شامیانے میں شادیانے بج رہے ہیں

تو اس طرف ماتم ہی ماتم ہے۔اب ایک اور لائف لائن دلوادی گئی ہے جا بچہ جمورہ اپنا کھیل جاری رکھ ،تجھے 5سال تک کوئی نہیں ہٹا سکتا ۔پی پی پی والوں سے کام نمٹواد یاگیا کہ نہ9من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی،مولانا کو پہلے ہی شک تھا پی پی پی آخری وقت میں ماضی کی طرح اپنا کام دکھا دے گی ۔جس کا وہ پہلے بھی سے گلا کر چکے تھے ،حالانکہ وہ بھول رہے تھے کہ برا وقت پڑنے پر ن لیگ نے بھی ایسا ہی کام دکھادیا تھا،جو ہر بڑی سیاسی جماعت کاحق ہو تا ہے ۔جے یو آئی جیسی چھوٹی جماعتیں تو صرف محفلیں سجانے کی حد تک ہو تی ہیں۔مولانا کی امیدوںپر پانی تو پھرا ہے لیکن وہ اس برے وقت میں امید کا دامن نہیں چھوڑیں گے ۔کیا مولانا نے نہیں دیکھا کہ اس سینیٹ کے الیکشن میں پہلے حفیظ شیخ کو ہروایا عمران خان کو اعتماد کا ووٹ دلوایا،پھر اسی سینیٹ کے چیئر مین کے الیکشن میں اکثریت ہونے کے باوجود یوسف رضا گیلانی کو ہروایا اور صادق سنجرانی کو جتوایا اور آپ کے ڈپٹی چیئر مین کو بھی ہروایا ،یہ سب کیاتھا یہ سب چیزیں آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھیں مگر یوسف رضا گیلانی کے جیتنے پر آپ سب لوگ شادیانے بجا رہے تھے اور حقیقت سے منہ موڑ رہے تھے اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ سینیٹ میں ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار کےہارنے سے بھی انہوں نے سبق نہیں سیکھا کہ اس کھیل میں کون کون شامل تھا؟ اگر وہ حافظ حسین احمد،شجاع الملک،کو اپنی پارٹی سے فارغ نہ کرتے تو شاید وہ اس کھیل کا انجام کچھ اور ہوتا تاہم مولانا حسب فطرت ہارماننے والے نہیں ہیں ،وہ پھر میدان میں اُتریں گے ۔یہ ان کی کامیاب دھرنے کے بعد دوسری سیاسی شکست ہے،جو اندر والوں سے دلوائی گئی ہے ۔ابھی تو 2سال سے زیادہ وقت پڑا ہے، پی ٹی آئی والے غلطیاں تو کریں گے ویسے بھی عوام ان کی کارکردگی سے مایوس ہو چکے ہیں مگر ابھی تک کوئی دوسرا میدان میں بھی تو نہیں ہے ،جسے وہ مسیحا سمجھ کر اپنی رائے تبدیل کریں ہر ایک نے مایوس ہی کیا ہے اب تو اعتبار پر بھی اعتبار نہیں رہا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *