مگر بینظیر بھٹو کا اس حوالے سے کیا نکتہ نظر تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بے نظیر بھٹو اور سید یوسف رضا گیلانی اکثر قومی اسمبلی میں آتے اور اپنا موقف بیان کرتے۔ نوازشریف اور عمران خان دونوں میں جہاں یہ بات مشترک ہے کہ قومی اسمبلی میں کم کم آتے رہے، وہاں یہ بات بھی

حقیقت ہے کہ انہوں نے ارکانِ اسمبلی سے رابطہ بھی نہیں رکھا، نوازشریف کے بارے میں بھی ارکانِ اسمبلی یہی کہتے تھے کہ ان کی وزیراعظم سے سال ہا سال ملاقات نہیں ہوتی اور اب عمران خان کے بارے میں بھی ارکانِ اسمبلی کا تاثر یہی ہے۔ اس رویے کی وجہ سے کئی بار بغاوت بھی جنم لیتی ہے اور کئی ناراض ارکان فارورڈ بلاک بنانے کی وارننگ بھی دیتے ہیں۔ کپتان کو اب اپنی ترجیحات میں تبدیلی لانی چاہیے۔ وہ جہاں کابینہ کو اہمیت دیتے ہیں وہاں پارلیمنٹ کو بھی دیں۔ انہیں یہ شکوہ ہے کہ اپوزیشن ایوان میں ہلڑ بازی کرتی ہے، اسے چلنے نہیں دیتی۔ ممکن ہے ان کی ایوان میں مسلسل موجودگی سے اس کی فضا بہتر ہو جائے۔ اس کے لئے تھوڑا دل بڑا کرنا پڑے گا۔کچھ تنقید سننی پڑے گی، کچھ اعتراضات سامنے آئیں گے، تاہم وزیراعظم عمران خان کے پاس بولنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ بھی دلیل کے ساتھ، اس لئے ایسی کسی تنقید کا وہ بڑے موثر انداز میں جواب دے سکتے ہیں، اگر وہ قومی اسمبلی میں مسلسل آنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ان کے باقی سوا دو سال پہلے سے کہیں بہتر گزریں گے۔۔۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *