مگر عوام نے انہیں ووٹ کے قابل نہیں سمجھا ، آخر کیوں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے پاس یادوں کے انبار ہیں، جب عتیق سٹیڈیم میں پاکستان اسلامک فرنٹ بن رہا تھا تو اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ جماعت اسلامی اپنے خول میں بند رہتی ہے مگر اب وہ سوسائٹی کے

اچھے لوگوں کو لے کر قوم کے سامنے انتخاب میں جائے گی تو کامیاب ہوگی مگر قوم ٹس سے مس نہ ہوئی۔ یہ بات نہیں کہ عمران خان یوتھ کو متحرک کرنے والے پہلے رہنما تھے، نہیں نہیں، وہ نہ نوجوانوں کی قیادت کا نعرہ لگانے والے پہلے رہنما تھے اور نہ ہی نواز شریف کے خلاف انتہا پر جانے والے۔ میں نے شباب ملی بھی بنتے ہوئے دیکھی اور ظالمو قاضی آ رہا ہے کے نعرے لگتے ہوئے بھی دیکھے۔ میں نے جاتی امرا کے باہرشریف فیملی کے مبینہ محلات کے خلاف اڈہ پلاٹ پر جلسے کی رپورٹنگ بھی کی ہے۔ یہ تینوں عوامل عمران خان نے استعمال کئے تو کامیاب ہو گئے مگر جماعت اسلامی نے استعمال کئے تو ناکام رہی، کیوں؟ جماعت اسلامی کو مشرف دور میں جو کامیابی ملی وہ شائدقاضی حسین احمد کی محنت سے زیادہ مولانا فضل الرحمان کے داؤ پیچ کی محتاج تھی۔میں ڈرائنگ روم کا صحافی نہیں ہوں اور نہ ہی جعلی قسم کی دانشوری مجھے آتی ہے ورنہ میں جماعت کی ناکامی کے ہزار اسباب بیٹھے بیٹھے لکھوا دوں۔ اگرکوئی یہ کہتا ہے کہ قوم دیانتدار لیڈر چاہتی تھی اور اس لئے عمران خان کو چن لیا تومجھے کہنے دیجئے کہ قاضی حسین احمداورسراج الحق ان سے کہیں زیادہ باکردار اور ایماندار ہیں اور سید منور حسن کی خشیت الہٰی کی گواہی تو جماعت کا بدترین مخالف بھی دے گا۔ میں نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے اللہ کے خوف سے کانپتے ہوئے دیکھا ہے۔جما عت اسلامی کے دوست مجھے ایک سخت لفظ لکھنے پر معاف کریں،

بہت سارے کہتے ہیں کہ جماعت اس لئے مقبول نہیں کہ یہ منافق ہیں، توبہ توبہ، وہ لیڈر جو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگائے اور خود ہر مرتبہ اپنی آمریت قائم کرنے پر حکومت سے نکالا جائے، وہ بندہ جو مدینہ کی ریاست کانعرہ لگائے اور یوٹرن کو اپنی فخریہ پالیسی قرار دے وہ منافق نہیں مگر وہ لوگ جو نماز، روزے کے پابند ہیں، زکواۃ دینے میں سب سے آگے ہیں، وہ جن کی الخدمت، الغزالی اور نجانے کون کون سی عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کرنے والی تنظیمیں ہیں وہ منافق ہیں۔میں آپ کو بتا رہا تھا کہ جماعت اسلامی نے لاہور کے مسائل کے حل کے لئے ریکارڈ مظاہرے کئے ہیں جبکہ اس شہر سے مقبولیت کا دعویٰ رکھنے والی نواز لیگ بھی مہنگائی کے خلاف جین مندر میں ایک ہی مظاہرہ کر کے تھک ہار کے بیٹھ گئی حالانکہ اس نے اس سے پہلے کنٹونمنٹ کے انتخابات میں کلین سویپ بھی کیا تھا اور اس کے بعد پرویز ملک مرحوم والی سیٹ بھی جیتی تھی۔ اب تیس دسمبر کو لاہوریوں کو درپیش ایشوز پر گجومتہ سے شاہدرہ تک روڈ مارچ بھی کیا جار ہاہے۔ جماعت اسلامی والے مقتدر حلقوں کے ساتھ بھی ہیں، وہ نواز شریف کے مخالف بھی ہیں، وہ متحرک اور دیانتدار بھی ہیں، ان کے ساتھ اسلامی جمعیت طلبا کی صورت میں نوجوانوں کی ملک گیر واحد نمائندہ تنظیم بھی ہے، وہ عوام کی خدمت کا وہ ریکارڈ بھی رکھتے ہیں جو کسی دوسری سیاسی جماعت کے پاس نہیں توپھر عوام ان کو ووٹ کیوں نہیں دیتے، یہ دس کروڑ روپے انعام کا حامل سوال ہے۔ میں نے جناب لیاقت بلوچ سے ایک قومی انتخاب میں دو، اڑھائی ہزار ووٹ لینے پر سوال کیا تھا کہ کلفٹن کالونی والے گھر سے مسلم ٹاؤن والے گھر تک کا آپ کا سیاسی سفراورمحنت میرے سامنے ہے، آپ کو تو اتنے ووٹ بھی نہیں ملے جتنے آپ نے چالیس، پچاس برس کی سیاست میں حلقے میں جنازے پڑھ ڈالے ہوں، آپ ان کے لواحقین کے ووٹ تک نہیں لے سکے، کیوں؟

Comments are closed.