مگر (ن) لیگ کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزیر داخلہ شیخ رشید سمیت حکومتی عناصر کا اب یہ کہنا کہ مولانا فضل الرحمن غیر ذمہ دارانہ گفتگو کررہے ہیں دراصل حکومت کی اپنی بوکھلاہٹ کو واضح کررہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ملک کے اندرونی اور بیرونی

حالات سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔اگر اس بات کو سچ مان لیا جائے تو یہ کیا ہورہا ہے کہ ان حالات کے دوران ہی میڈیا کا مکو ٹھپنے کے لئے ملکی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، سپریم کورٹ تک میں گروپ بندی کرائی جارہی ہے۔ عجیب و غریب فیصلے کرائے جارہے ہیں۔وکلا تنظیموں میں دھڑے بندیاں کرائی جارہی ہیں۔ اگلا الیکشن لوٹنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ بدعنوانی عفریت بن چکی مگر ادارے صرف سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں۔ وزرا بڑھکیں لگا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں اپوزیشن کو عدالتی ہتھوڑے سے ضربیں لگا کر مسمار کردیا جائے گا۔ اگلے پانچ سال بھی یہی ہائبرڈ نظام رہے گا۔ گردو پیش کے حالات کے باوجود یہ سب ہو سکتا ہے تو پھر سیاست کیوں نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں یہ کہنا کہ اہم معاملات پر قومی اتفاق رائے ہونا وقت کی ضرورت ہے ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔اس کو حکومت کسی معاملے پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے اور نہ وہ اپوزیشن کو لفٹ کرانے کے موڈ میں ہے۔ حکومت اور اس کے سرپرست تو اپنی ”اتحادی“ پیپلز پارٹی کو بھی بخشنے کے لئے تیار نہیں۔ ہوسکتا ہے اس ہائبرڈ نظام کے لئے پیپلز پارٹی کی ساری قربانیاں رائیگاں چلی جائیں۔ ایسے میں شہباز شریف کے لا یعنی اور ڈھیلے موقف کی کوئی اہمیت نہیں۔ لگتا تو نہیں، پھر بھی فرض کرلیتے ہیں کہ شہباز شریف کو ”کسی“ نے کوئی تسلی دے رکھی تو اس کا حشر بھی پہلے کی طرح سو جوتے، سو پیاز سے مختلف نہیں ہوگا۔

موجودہ نظام کو عمران خان اور بزدار صرف سوٹ ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی لازمی ضرورت بھی ہیں۔تمام تر داخلہ اور خارجہ امور، سیاسی و غیر سیاسی تقرریاں، ہر طرح کے ملکی وسائل مکمل طور پر مقتدرہ کے کنٹرول میں ہیں۔ اس سارے بندوبست کے پیچھے عالمی اسٹیبلشمنٹ اگر کھڑی نہیں تو مطمئن ضرور ہے۔ مسئلہ کشمیر کا ”حل“ انڈیا سمیت سب کے لئے قابل قبول ہے اس لئے جنگ کا کوئی امکان نہیں ویسے بھی سیز فائر ہے، ملک پر چڑھنے والے قرضے ملکی سلامتی اور خود مختاری کے لئے بیڑیاں بن کر پوری قوم کو جکڑ چکے، سی پیک پر کام معطل ہے، افغانستان کے معاملے میں اگر کسی پریشانی کا خدشہ ہے بھی تو پہلے بھی کون سا لمحہ تھا جب ملک نازک دور سے گزر نہیں رہا تھا۔اسی لئے تمام تر ملکی و عالمی واقعات سے باخبر ہونے کے باوجود مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم کے جلسے سے ایک روز قبل رکن جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں ایک بار پھر پارلیمنٹ سے استعفے دینے اور جیل بھرو تحریک شروع کرنے کی تجویز رکھ دی۔ اس وقت نواز شریف نے بھی کہا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔دیکھنا پڑے گا کہ مسلم لیگ ن اس حوالے سے عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے۔پی ڈی ایم کے جلسے کے اگلے ہی روز شہباز شریف نے یہ کہہ کر پھر ہاتھ کھڑے کردئیے کہ ہم مفاہمت چاہتے ہیں نہ مزاحمت بلکہ 2023 میں شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔ کمال بات ہے کسی کوکیا پڑی ہے کہ منصفانہ الیکشن کراکے انہی کو پھر سے لے آئے جن کو طرح طرح کے پاپڑ بیل کر اقتدار سے نکالا ہے۔ پی ڈی ایم کی اصل طاقت ہے ہی اس کا بیانیہ، تر لے، منتیں رنگ لائیں گے نہ ہی دوغلی سیاست کوئی فائدہ دے گی۔ مولانا فضل الرحمن اسی لئے نہایت احتیاط سے لائحہ عمل مرتب کر رہے ہیں۔ ان کو اچھی طرح سے علم ہے اس بار مارچ ہوا تو مشن پہلے کی طرح ادھورا نہیں چھوڑا جاسکتا۔ سو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر پی ڈی ایم کی سطح پر دھرنے کا فیصلہ ہوگیا تو نتیجہ خیز ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ دوسری کسی صورت میں جے یو آئی تو بہت حد تک محفوظ اور بہتر پوزیشن میں ہی رہے گی مگر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی کی طرح مکمل سرنڈر کرتی نظر آئے گی۔یہاں بھی ایک بڑا فرق ہے، عین ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی کو اگلے حکومتی سیٹ اپ میں کچھ نہ کچھ حصہ مل جائے مگر ن لیگ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آنے والا۔

Comments are closed.