مگر پنجاب پولیس کےو اٹس ایپ گروپوں میں سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) اس ہفتے کا آغاز ہوتے ہی میں نے آپ کو آگاہ کردیا تھا کہ لاہور پولیس کی حتمی کمان جناب عمر شیخ صاحب کے سپرد کی جارہی ہے۔پولیس سروس کے چند افسران ان کی تعیناتی سے خوش نہیں۔ ان کے Whatsappگروپس میں اس کی بابت بہت ہاہاکار مچائی جارہی ہے۔ شیح صاحب کی تعیناتی مگر

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ رک نہیں پائے گی ۔منگل کے روز بالآخر وہ کامیاب وکامران رہے۔ ان کی تعیناتی میں رکاوٹ ڈالنے کے خواہاں انسپکٹر جنرل پولیس کو بلکہ اپنے منصب سے رخصت ہونا پڑا۔ ان کی جگہ انعام غنی صاحب آئے ہیں۔لاہور پولیس کے ایڈیشنل آئی جی اس تعیناتی سے بہت خفا ہوئے۔ نئے آئی جی سروس میں گزرے وقت کی بنیاد پر ان کے ’’جونیئر‘‘ ہیں۔دفتری مراتب پر مبنی روایات کی بدولت ’’سینئر‘‘ اپنے کسی ’’جونیئر‘‘ کی ماتحتی میں کام کرنا مناسب تصور نہیں کرتا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو لہذا درخواست لکھ دی ہے کہ ان کا تبادلہ کردیا جائے۔عمر شیخ صاحب نے منصب سنبھالتے ہی گویا ایک نہیں دو افسران کو ’’کھڈے لین‘‘ لگوادیا ہے۔ثابت ہوگیا کہ ان کا ’’کلہ‘‘ بہت مضبوط ہے۔ ’’جو بھی رستے میں آئے گا‘‘ بالآخر پشیمان ہوجائے گا۔’’کلہ‘‘ کی بات چلی ہے تو تسلیم یہ بھی کرنا ہوگا کہ یہ محض عمر شیخ صاحب ہی کا نہیں بلکہ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے ا ٓبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ جناب عثمان بزدار صاحب کا بھی بہت ہی مضبوط ہے۔’’تخت لہور‘‘ پر براجمان ہوئے انہیں فقط دو برس گزرے ہیں۔ان دوبرسوں میں انہوں نے پانچ آئی جی فارغ کئے۔ ہمارے ہاں ’’گڈگورننس‘‘ متعارف کرنے کے مشن پر اپنے تئیں مامور چند اصول پسند صحافی اس کے بارے میں بہت پریشان ہورہے ہیں۔یاد دلارہے ہیں کہ آئی جی پولیس نامی ایک ’’منظم‘‘ ادارے کا حتمی کماندار ہوتا ہے۔

اس سے ’’ڈیلیوری‘‘ تقاضہ کرتے ہوئے سیاسی حکمرانوں کو اس کی ’’خودمختاری‘‘ کا احترام کرنا چاہیے۔اسے یہ ’’استحقاق‘‘ ہر صورت مہیا ہوکہ اپنے تئیں طے کرے کہ کونسے افسر کو کہاں لگاکر امن وامان کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ “Tenure”وغیرہ کا ذکر بھی ہورہا ہے۔ اس کی بنیاد پر فرض کرلیا جاتا ہے کہ آئی جی اپنے منصب پر کم از کم وقت تین برس تک قائم ودائم رہے گا۔یہ برس اسے طویل المدتی بنیادوں پر چند منصوبے سوچنے اور ان پر عملدرآمد کی سہولت کو یقینی بناتے ہیں۔ ’’قبضہ گروپوں‘‘ کی مبینہ طورپر سرپرستی فرمانے والے ’’چور اور لٹیرے‘‘ سیاست دان اس کی بدولت اپنی ’’اوقات‘‘ میں رہتے ہیں۔وہ آئی جی کو اپنے تعلقات کے زعم میں ’’تبدیل‘‘ کروانے کی تڑی نہیں لگاتے۔ اسے مجبور نہیں کرتے کہ ’’میرے حلقے‘‘ میں فلاں افسر کو تعینات کیا جائے۔ان کے حلقوں میں موجود تھانوں کے SHOsکو قومی یا صوبائی اسمبلی کے کسی رکن کے ’’ڈیرے‘‘ پر حاضری کی مجبوری لاحق نہیں ہوتی۔وہ چاہے تو ان کا ٹیلی فون بھی نہ سنے۔ اپنے فرائض کتابوں میں درج قواعد کے عین مطابق نبھاتا رہے۔وطنِ عزیز میں ’’گڈگورننس‘‘ کے قیام کے مشن پر ا پنے تئیں مامور میرے کئی بہت ہی قابل احترام اور چند عزیز ترین دوست Tenureیا معیادِ عہدہ کی بابت دہائی مچاتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کردیتے ہیں کہ پولیس سروس کے جن قواعد وضوابط کی بابت وہ دہائی مچاتے رہتے ہیں وہ درحقیقت برطانوی استعمار نے اپنے دور میں متعارف کروائے تھے۔ حتمی مقصد ان قواعد وضوابط کا ہمارے دلوں میں ’’خوئے غلامی‘‘ کو جبلت کی صورت دینا تھا۔ عام آدمی تو دور کی

بات ہے۔’’دربار‘‘ میں کرسی پر بٹھائے’’اشراف‘‘ بھی ہمہ وقت اس حقیقت سے آگاہ رہے کہ پولیس کی وردی میں ملبوس کوئی ’’اہلکار‘‘ محض ایک فرد نہیں ہے۔وہ درحقیقت ’’سرکار‘‘ کا نمائندہ ہے۔اس کے حکم کی ہر صورت تعمیل ہو۔ورنہ ’’کارِ سرکار میں مداخلت‘‘ کے الزام میں دھرلئے جائو گے۔ان قواعدوضوابط کو آج کے پاکستان خاص طورپر پنجاب میں بہت شدت سے لاگو کیا گیا تھا۔ اسی باعث ’’پنجاب پولیس‘‘ محض اس صوبے ہی میں نہیں بلکہ پورے برطانوی ہند میں بھی بہت ’’دبنگ‘‘ تصور ہوتی تھی۔سیاست کے بہانے ’’شرپسندی ‘‘ پھیلانے والے اس سے خوفزدہ رہتے۔عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے حریت پسندوں کو اس کی وجہ سے ’’آدھی عمر قید اور آدمی عمر ریل‘‘ میں گزارنا پڑی تھی۔ برطانوی دور کے متعارف کردہ انتظامی ڈھانچے کی بدولت ہی 1946ء تک قیام پاکستان سے قبل والے پنجاب میں ہمیشہ Unionistپارٹی کی حکومت رہی۔ سرشفیع کی بنائی اس جماعت میں ہندو،مسلم اور سکھ اشراف یکجا ہوا کرتے تھے۔ان کے بعد واہ سے سرسکندر حیات نمودار ہوئے۔ان کی وفات کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ Premiumپکارے اس منصب پر خوشاب کے نواح سے ابھرے خضرحیات ٹوانہ براجمان ہوئے۔پھر ’’تازہ خبر‘‘ یہ آئی کہ ’’خضر ساڈابھائی اے‘‘ اور پاکستان قائم ہوگیا۔ برطانوی دور کے قواعد وضوابط کو احترام اور حسرت سے یاد کرتے ہوئے ہم اکثر یہ حقیقت بھی نظرانداز کردیتے ہیں کہ انہوں نے جو ’’گڈگورننس‘‘ مبینہ طورپر فراہم کی تھی وہ پنجاب کے بٹوارے کے دوران ہوئے فسادات میں کسی کام نہیں آئی تھی کالم لکھنے کی روانی میں انہیں یاد کرتے

ہوئے اصل موضوع سے بھٹک جاتا ہوں۔صبح اُٹھ کر قلم اٹھانے کے بعد ارادہ فقط آپ کو یاد دلانے کا کیا تھا کہ 2018کے انتخاب کے بعد ’’تبدیلی‘‘ آچکی ہے۔عمران خان صاحب نے برطانوی استعمار کی متعارف کردہ ’’گورننس‘‘ کا متبادل چند اصولوں کی صورت ڈھونڈ لیا ہے جو انہوں نے اپنے تئیں ’’ریاست مدینہ‘‘ کی بابت دریافت کئے ہیں۔عثمان بزدار نے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ان اصولوں کا اطلاق کرتے ہوئے پنجاب کو بالآخر ’’گڈگورننس‘‘ کا حتمی ماڈل بنانا ہے۔وہ ’’نیویں نیویں‘‘ رہتے ہوئے اس مشن پر مامور ہیں۔عمرن خان صاحب کو ان کی دیانت اور صداقت پر کامل اعتبار ہے۔وہ ہر ہفتے بھی اپنا آئی جی بدلنا چاہیں تو انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔برطانوی دور میں متعارف ہوئے پولیس سروس کی بابت بنائے قواعد وضوابط اس تناظر میں ہرگز کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ بنیادی مسئلہ یہ بھی کھڑا ہوگیا کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں نواز شریف کی دُختر محترمہ مریم نواز صاحبہ کو نیب کے لاہور آفس نے چند قیمتی زمینوں کی خریداری کی بابت اٹھائے سوالات کا جواب فراہم کرنے کو ’’طلب‘‘ کیا تھا۔میرے اور آپ جیسے عام شہری کی طرح سرجھکائے نیب کے دفتر پہنچنے کے بجائے وہ اپنے حامیوں کے جلوس کے ہمراہ جاتی امراء سے رونہ ہوئیں۔اس کی وجہ سے ’’پُلس مقابلہ‘‘ ہوا۔ ہنگامہ اتنا بڑھا کہ نیب والوں نے گھبراکر محترمہ کو آگاہ کیا کہ ان کی طلبی درکار نہیں ہے۔لاہور میں ہوئے اس واقعہ کو ’’ریاست کی رٹ‘‘ ہر صورت قائم کرنے کی لگن میں مبتلا وزیر اعظم اور ان کے قریبی مصاحبین کو بہت اشتعال دلایا۔ بہت سوچ بچار کے بعد طے یہ بھی ہوا کہ شہباز شریف نے اپنے دس سالہ دورِ اقتدار میں پنجاب پولیس کو اپنے ’’چمچوں‘‘ سے بھردیا ہے۔’’گڈگورننس‘‘ کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے لہذا ’’عمر شیخ فارمولہ‘‘ کے موجد کا انتخاب ہوا۔لاہور میں یہ فارمولہ اب ہر صورت آزمایا جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.