مگر کچھ عرصے بعد اگر بلوچستان والوں نے بھی یہی مطالبہ کردیا تو کیا ہو گا؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے وزیر اعظم ریفرنڈم میں بھارت کو مسترد کر کے پاکستان کے حق میں فیصلہ سنانے والے کشمیریوں کو مزید ایک ریفرنڈم کی پیشکش کر رہے ہیں جس میں کشمیریوں کو الحاق پاکستان کے فیصلے پر نظرثانی کرنے

اور آزاد ریاست کے قیام کا حق حاصل ہو گا‘ سبحان اللہ!یعنی پاکستان کے حق میں کشمیری عوام کی رائے کو عمران خان کی حکومت بالائے طاق رکھ کر ایک مرتبہ پھر پوچھے گی کہ ’’کیا آپ ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد ریاست کے قیام کا ارادہ رکھتے ہیں‘‘عمران خان کو یہ راہ جس نے بھی سجھائی اس کی عقل ودانش اور پاکستان سے وفاداری کو تیس توپوں کی سلامی۔بلوچستان کے کسی سیاستدان نے عمران خان سے یہ حق مانگ لیا تو جواب کیا ہو گا؟ کاش کوئی سوچ لیتا۔ 1990ء کے عشرے میں جب کشمیر کی لے تیز ہوئی اور کشمیری عوام نے سرفروشی کی تاریخ رقم کی تو بھارتی حکومت نے امریکی اور برطانوی سفارت کاروں کے ذریعے خود مختار کشمیر کی پیش کش کی مگر پاکستانی اور کشمیری قیادت نے اسے یکسر مسترد کر دیا کہ یہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں‘ کشمیری عوام کی آرزوئوں اور پاکستان کے قومی مفاد سے یکسر متصادم تجویز تھی۔مریم نواز ‘ راجہ فاروق حیدر نے صوبے کی تشکیل کا شوشہ چھوڑا اور اپنے طور پر عمران خان کو دبائو میں لانے کی کوشش کی مگر ووٹروں کا ردعمل منفی رہا‘ مریم نواز کشمیری عوام کو ورغلا رہی ہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت ریاست کی برائے نام آزاد حیثیت ختم کرکے اسے پاکستان کا صوبہ بنانا چاہتی ہے اور وزیر اعظم پاکستان نے مریم نواز کے نہلے پہ دہلا پھینکا کہ کشمیری چاہیں تو اپنی قربانیاں فراموش‘ آرزوئیں دفن اور پاکستان سے تعلق توڑ کر نیپال‘ بھوٹان کی طرح طفیلی ریاست قائم کر لیں عالمی سازشوں کی آماجگاہ اور بھارتی عسکری جارحیت کے خطرے سے دوچار ریاست ؎ حیراں ہوںدل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

Comments are closed.