مگر یہ اعتزاز احسن اور کرسٹینا والا کیا قصہ تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) فریفتہ ہونا مردوں کا شیوہ ہے لیکن گوری رنگت کی غیر ملکی خواتین کے سامنے بچھ جانا اور اپنا باقاعدہ الو بنانا یہ اسلام آباد اور ہماری حکمران اشرافیہ کا خاصہ رہا ہے۔ سنتھیا رچی (Cynthia Ritchie) پہلی غیر ملکی خاتون نہیں ہیں جنہوں نے اسلام آباد میں طوفان برپا کیا۔

نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہاں کوئی غیر ملکی جرنلسٹ آئے اور اس کی تھوڑی سی شکل ہو تو فوراً ہی اس کی پہنچ بڑوں بڑوں تک ہو جاتی ہے۔ بینظیر بھٹو کے پہلے دورِ اقتدار میں کرسٹینا لیمب یہاں ہوا کرتی تھی اورگو اُسے مس یونیورس کا تاج شاید ہی کوئی پہناتا‘ لیکن اس نے بھی یہاں تہلکہ مچا دیا تھا‘ حتیٰ کہ ہمارے چوہدری اعتزاز احسن‘ جو خود باہر کے پڑھے ہوئے ہیں اور تب وزیرِ داخلہ تھے‘ اُن پہ فدا ہو گئے‘ کم از کم کرسٹینا لیمب اپنی کتاب ویٹنگ فار اللہ میں یہی دعویٰ کرتی ہے اور ایک دو باتیں چوہدری صاحب کے بارے میں اس نے ایسی لکھ دیں جنہیں پڑھ کے ہنسی آتی ہے مثلاً انگریزی کا ایک لفظ ہے diminutive جس کا مطلب ہے چھوٹے پیمانے یا چھوٹے قد کا۔ اپنی کتاب میں کرسٹینا لیمب یہ خطاب چوہدری صاحب کیلئے استعمال کرتی ہے۔ اور بھی کئی آئیں یہاں پہ اور اُن کی رسائی بھی آنکھ جھپکنے میں اونچی سطحوں تک ہو جاتی تھی۔ ایسی مضحکہ خیزداستانیں جنم لیتی ہیں جیسی سنتھیا رچی کی ہے۔ ہمارے بڑے امریکا یا برطانیہ جائیں تو وہاں اُن کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہوتی۔ وہاں سے کوئی خاتون یہاں آئے تو بڑے سے بڑے قلعوں کے دروازے اُس کیلئے کھل جاتے ہیں۔ اوریہ روش کسی ایک کونے تک محدود نہیں‘ across-the-board ہے۔ میاں نوازشریف جب2008ء کی انتخابی مہم میں مصروف تھے تو اسلام آباد میں ایک امریکی جرنلسٹ تھیں کِم بارکر (Kim Barker)۔ میاں صاحب سے شناسائی کیا ہونا تھی میاں صاحب کِم پہ فریفتہ ہی ہوگئے۔ ایک دفعہ انٹرویو کیلئے بلایا تو ایک عدد مہنگا کمپیوٹر نما گفٹ دینے کی کوشش کی۔ بقول کِم بارکر‘ اُس نے گفٹ لینے سے انکارکیا اوریہ احتیاط بھی کی کہ میاں صاحب کے پاس اکیلے نہ جائے بلکہ اپناایک پاکستانی معاون اُس کے ساتھ ہو۔ کئی ایک جلسوں میں میاں صاحب کِم بارکر کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اپنے پاکستان کے قیام کے بارے میں کِم بارکر نے ایک کتاب لکھی جو بہت دلچسپ ہے اوریہ سارے واقعات اُس میں درج ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ شریف فیملی یا نون لیگ میں سے کسی نے بھی کِم بارکر کی کسی ایک بات کی تردید نہیں کی۔ ویسے سمجھدار لوگ کبھی ایسی باتوں کی تردید نہیں کرتے‘ نہ ذکر کرتے ہیں۔ ملک غلام مصطفی کھر کولے لیجیے۔ اُن کے بارے میں مائی فیوڈل لارڈ میں اُن کی سابقہ اہلیہ تہمینہ درانی نے کیا کچھ نہیں کہا۔ کسی ایک بات کی بھی ملک صاحب نے تردید نہیں کی۔ یوسف رضا گیلانی کو کیا پڑی ہے کہ تردید کرتے پھریں۔ ایسی باتوں کو نہ ہی چھیڑا جائے تواچھا رہتاہے۔(

Sharing is caring!

Comments are closed.