مہنگے اور سکرین یا والوو والے فیس ماسک کا ناقابل یقین نقصان

لندن (ویب ڈیسک) کووڈ انیس کی وبا کے خلاف کامیابی کو اس سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والے تین حفاظتی اجزا سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ بات امریکی محققین نے ایک ریسرچ کے بعد بتائی ہے۔امریکی محققین کی ایک ٹیم نے یہ دکھایا ہے کہ N95 ماسک اور چہرے پر لگائی جانے والی

حفاظتی اسکرین یا شیلڈ نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتیں۔ انہوں نے اسی لیے متنبہ کیا ہے کہ ان چیزوں کے عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر استعمال سے کورونا وبا کو روکنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی (FAU) کے شعبہ ‘انجینیئرنگ اینڈ کمپیوٹر سائنسز‘ کے محققین کی طرف سے لیبارٹری میں کی جانے والی اس ریسرچ کا مقصد چہرے پر لگائی جانے والی اسکرینز اور والوو والے ماسک کی افادیت کا جائزہ لینا تھا۔ اس ریسرچ کے نتائج تحقیقی جریدے ‘فزکس آف فلوئڈز‘ میں منگل یکم ستمبر کو شائع ہوئے۔محققین نے اس مقصد کے لیے لیزر روشنی کا استعمال کیا جبکہ کھانسی یا چھینکنے کی صورت میں ہمارے ناک یا منہ سے نکلنے والے مہین قطروں یا ڈراپ لیٹس جیسی صورتحال کے لیے پانی اور گلیسرین کے مرکب کو استمعال کیا گیا۔اس اسٹڈی کے نتائج کے مطابق چہرے پر لگائی جانے والی شیلڈ یا اسکرین چھینکنے یا کھانسنے کی صورت میں ڈراپ لیٹس کے اولین جیٹ یا پریشر کو تو روک لیتی ہے مگر یہ مہین قطرے نسبتاﹰ زیادہ علاقے میں پھیل جاتے ہیں اور اس کا انحصار ارد گرد کی صورتحال پر ہوتا ہے۔اسی طرح چہرے کے ایسے ماسک جن میں والوو لگا ہوتا ہے جیسے N95، ان میں سے ڈراپ لیٹس کی بہت بڑی تعداد فلٹر ہوئے بغیر ہی گزر جاتی ہے جس کی وجہ سے اس وائرس کے خلاف ان کی افادیت بہت کم ہو جاتی ہے۔فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کے شعبہ ‘مکینیکل اینڈ اوشن انجینیئرنگ‘ کے پروفیسر اور اس تحقیق کے مصنف سدھارتھا ورما کے مطابق امریکا میں ”ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ عام لوگوں میں سرجیکل ماسکس کی بجائے چہرے پر پلاسٹک اسکرینز اور والوز لگے ماسکس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں، ”تاہم چہرے کی شیلڈز کے معاملے میں اس کے اطراف اور نیچے کی جانب سے کافی خلا موجود ہوتا ہے جبکہ والوو والے ماسک میں سے جب آپ سانس اندر کھینچتے ہیں تو یہ رکاوٹ کا سبب بنتا ہے مگر جب سانس خارج کرتے ہیں تو اس میں فلٹر ہوئے بغیر ہوا باہر نکل جاتی ہے۔‘‘

Sharing is caring!

Comments are closed.