میاں صاحب کو ایسی کیا بات کہی گئی کہ وہ طیش میں آگئے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ملکی سطح پر صحافیوں کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔اسی لئے وہ آئے دن کسی بھی اہم عہدے دار یا سیاسی شخصیت کے بارے میں انکشافات کرتے رہتے ہیں اسی سلسلے میں مشہور صحافی عارف حمید بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک قریبی دوست نے نواز شریف سے

ملاقات میں کہا کہ انہوں نے محمد زبیر کو لا کر غلطی کی ہے جس کے بعد نواز شریف اپنی غلطی پر غصے میں آگئے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی نے کہا کہ کل رات نواز شریف کے قریبی دوست نے لندن میں ان کے ساتھ ملاقات کی۔ اس شخص نے ملاقات میں کہا کہ سر آپ نے محمد زبیر کو لگا کر غلطی کی ہے کیونکہ یہ اصل میں ان کا آدمی ہے۔ عارف حمید بھٹی کے مطابق نواز شریف کے دوست نے سابق وزیر اعظم سے کہا کہ محمد زبیر آپ کو ڈبل کراس کر رہے ہیں۔ اس کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف سخت غصے میں تھے کہ یہ مجھ سے کیا ہو گیا ،واضح رہے کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر کو نواز شریف اور مریم نواز کا ترجمان مقرر کیا گیا۔مسلم لیگ ن نے پارٹی کی مرکزی ترجمان او سینٹرل انفارمیشن سیکرٹری کی سربراہی میں سپوکس پرسنز کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ محمد زبیر پارٹی قائد اور مریم نواز سے متعلق ترجمانی کی ذمہ داری انجام دیں گے۔سپوکس پرسنز کی کمیٹی میں مصدق ملک،محسن رانجھا،طلال چوہدری، عظمیٰ بخاری اور عطا اللہ تارڑ بھی شامل ہیں۔کمیٹی کی تشکیل سے قبل مریم ارنگزیب ہی تمام ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سپوکس پرسنز کمیٹی کی تشکیل پنجاب میں حکومت مخالف صف بندی کا حصہ ہے۔ن لیگ نہیں چاہتی کہ حکومت مخالف تحریک کے دوران ہر ن لیف کا رہنما الگ الگ بیان جاری کرے۔ ماضی میں اس طرح

کی افواہیں گردش کرتی رہیں کہ محمد زبیر نے نواز شریف کے نمائندے کی حیثیت سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اب قوم نے اپنا فیصلہ صادر کرنا ہے اور جب قوم فیصلہ سنائے گی تو سب فیصلے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ اٹھے، اگر 2، 4 مہینے کیلئے قید میں جانا بھی پڑے تو چلے جائیں۔لندن میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو اشتہاری قرار دینے اور ڈھول پیٹنے کے حوالے سے کہا کہ جو کچھ ہورہا ہے کیا قوم اس سے اتفاق کرتی ہے؟ اب تو قوم نے فیصلہ صادر کرنا ہے، سارے فیصلے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، قوم اپنا فیصلہ صادر کرکے رہے گی۔میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ میڈیا پر کچھ تو پابندیاں لگ رہی ہیں اور کچھ میڈیا خود اپنے آپ پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ میڈیا بھی اٹھے، گھٹنے نہ ٹیکے، ہم تو اٹھ گئے ہیں، عوام کو بھی اٹھنے کیلئے کہا ہے، میڈیا بھی اٹھے، کیا ہوجائے گا اگر 2 سے 4 مہینے کیلئے قید میں جانا بھی پڑ جائے، اس سے میڈیا ہمیشہ کیلئے آزاد ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ قوم کا مینڈیٹ چوری کرکے ظلم کیا گیا ہے، میرا ووٹ ان کے اور ان کا ووٹ میرے باکس میں ڈال دیا گیا، جیتا میں تھا ڈکلیئر ان کو کردیا گیا۔ جو میں باتیں کر رہا ہوں وہ ٹی وی پر دکھائی نہیں جاسکتیں، اگر بوجھ برداشت کرسکتے ہیں تو میں اور بھی باتیں کرسکتا ہوں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *