میاں نواز شریف کے اس دعوے کا ایک غیرت مند کشمیری خاتون نے کیا جواب دیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آدمی کا کوئی ہنر ہے اور نہ کامرانی۔ عطا و بخشش ہوتی ہے، عطا و بخشش۔ چرواہے بادشاہ ہو جاتے ہیں بلکہ بادشاہوں سے بڑھ کر۔ عمر فاروقِ اعظم ؓنے کہا تھا: ہم کیاتھے؟ اسلام نے ہمیں عزت بخش دی۔

کہا: اونی چولا پہنے، میں اونٹ چرایا کرتا اور میرا باپ مجھے زدوکوب کرتا کہ مجھے سلیقہ نہیں۔ اپنے ایک گورنر کو معزول کرتے ہوئے رنج سے ارشاد کیا تھا: تیری ماں تجھے روئے، وہ تجھے چرواہے کے سوا کیا بناتی۔ آدمی نہیں جانتا اور غور نہیں کرتا۔ راولپنڈی کی ایک محترم خاتون، جو ایک ممتاز کشمیری لیڈر کی خوش دامن ہیں، میاں محمد نواز شریف کے ہاں تشریف لے گئیں۔ وضع داری کا انہوں نے مظاہرہ کیا۔برائے احترام محترمہ کلثوم نواز اور محترمہ مریم نواز بھی کھانے کی میز پر موجود تھیں۔ اچانک وہ بولے: کشمیریوں کی پوری تاریخ نے مجھ سے بڑا لیڈر پیدا نہیں کیا۔ وہ اکل کھری، بڑبولی خاتون۔ تاب اس میں کہاں تھی۔ بولی: میاں صاحب، آپ کو یہ بات نہ کہنا چاہیے تھی۔ کشمیریوں میں اقبالؔ ہوگزرے ہیں۔ میاں صاحب حکم لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ علم اور ادراک کے بغیر۔ اہلِ علم کی صحبت کبھی نصیب نہ ہوئی۔کتاب کبھی پڑھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر طاہر القادری، شریف خاندان کی مدد سے جو اجاگر ہوئے۔ سنسنی پھیلانے کا، چندہ جمع کرنے کا فن سیکھا۔ ارب پتی بنے تو شیخ الاسلام ہو گئے اور اب نیلسن منڈیلا کے مقام پر فائز ہونے کے آرزومند ہیں۔ سیّد ابو الاعلیٰ مودودی کبھی ان کے لیے نمونہ ء عمل تھے،پھر آیت اللہ خمینی اور اب نیلسن منڈیلا۔ ارے بھائی، ہیرو وہ آدمی ہوتاہے، جو خدمت میں یکسو ہو جائے، عظمت کا آرزومند نہیں۔ اہلِ عظمت چیختے کبھی نہیں۔ ہیجان کا شکار نہیں ہوتے ۔ سودائے عشق اور ہے، وحشت کچھ اور شے مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا فرمایا: اب فیصلہ ہو گا کہ یہ جمہوری ملک ہے یا نہیں؟اسٹیبلشمنٹ سے آپ کا تنازع اپنی جگہ مگر جمہوریت؟ کیا یہ جمہوری پولیس ہے؟ جمہوری عدالتیں؟ کیا آپ کی جماعت جمہوری ہے؟ لیڈر دیوتا اور بادشاہت خاندانوں کی۔ بلاول زرداری،ذوالفقار علی بھٹو کے مجاور ہیں، اسفند یار باچا خان کے۔ مولانا فضل الرحمٰن مفتی محمود کے وارث، محمود اچکزئی اپنے آبا کے۔ محترمہ مریم نوازعالی جناب کی۔جنرل پرویز مشرف اپنے انجام کو پہنچے۔ جنابِ زرداری، شریف خاندان اور ان کے بعد عمران خاں چند برسوں میں جا پہنچیں گے۔ صوفی تو کیا، شاعر وہ باکمال تھا، حسین بن منصور حلّاج۔اس نے کہا تھا: میں ان کے لیے روتا ہوں، جو چلے گئے اور ان کے لیے جو راستوں میں سرگرداں ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *