میجر جنرل بابر افتخار کی اہم گفتگو

لاہور (ویب ڈیسک) افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘افغانستان کے اندر جو بھی ہو رہا ہے اس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ پنجشیر ہو یا کہیں اور’۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بی بی سی سے پنجشیر

سے آنے والی ان اطلاعات کے بارے میں بات کی جو گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ان افواہوں میں ایک افغان صحافی تاج الدین سروش کے اکاؤنٹ سے منسوب وہ بیان ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ‘انھیں پنجشیر کے گورنر کمال الدین نظامی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ڈرون طیاروں سے افغانستان کی وادی پنجشیر میں کاروائی کی ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ان افواہوں کو ‘مکمل طور پر جھوٹ اور انڈیا کا نامعقول پراپیگنڈہ’ قرار دیتے ہوئے ان افواہوں کو رد کیا ہے۔‘فوجی حکام کا یہ بھی کہ پاکستان کے پاس طویل فاصلے تک ٹارگٹ والی ڈرون ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ بی بی سی نے پاکستان کی ڈرون صلاحیت سے متعلق تحقیق کی اور سمجھنے کی کوشش کی کہ کیا پاکستان پنجشیر میں ایسی کسی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ مارچ 2015 میں اعلان کیا کہ فوج نے ڈرون طیاروں کا باقاعدہ استعمال کرتے ہوئے شرپسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان میں تیار کیے گئے ڈرون طیارے براق اور اس سے منسلک فضا سے زمین پر تارگٹ کرنے والے لیزر گائیڈڈ میزائل برق کا ہدف وادی شوال میں تالبان کے ٹھکانہ تھا۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ پاکستان نے درمیانے فاصلے تک ٹارگٹ کرنے والے (جنھیں میل یعنی میڈیم آلٹیٹیوڈ لانگ انڈیورینس یو اے وی بھی کہا جاتا ہے) ڈرون طیارے حاصل کیے ہیں جس میں اسے ترکی یا چین یا دونوں ممالک کی مدد حاصل رہی ہے۔ فوجی حکام نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس طویل فاصلے اور دورانیے تک اٹیک کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون طیارے فی الحال موجود نہیں ہیں۔

Comments are closed.