میدان میں امیدوار نہ ہونے کے باوجود تحریک انصاف کیا شرمناک چالیں چل رہی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) کب تک کہیے، کب تک پکارتے رہیے۔ غالب ؔنے کہا تھا: حالِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلاؤں انگلیاں فگار اپنی خامہ خوں چکاں اپنا جمہوریت نہیں یہ نوٹنکی ہے۔ ایک سستا اور گھٹیا سا تماشہ، کبھی جس سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ سیالکوٹ کے الیکشن میں یہ واضح ہوا

اور اب لاہور کے حلقہ این اے 33میں آشکار ہے۔نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سیالکوٹ میں پریزائیڈنگ افسر غائب ہو گئے۔ الیکشن کمیشن نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ حکمران جماعت نے ڈٹ کر دھاندلی کی۔درجنوں سیاسی شخصیات ملوث تھیں۔ پھر ایک دوسرے حلقے میں قاف لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور خاندان کے فرزند کو ٹکٹ دیا گیا۔ نسبتاً کم عمر نوجوان۔ اس لیے کہ نامزد تو ان کے والدِ گرامی ہوئے تھے مگر وہ امریکی یا شاید برطانوی شہری نکلے۔ اوّل تو ایک دوسری پارٹی کا امیدوار۔ ثانیاً وہ نہیں تو اس کا فرزند۔ اس لیے کہ یہ دولت مند لوگ تھے، بے دریغ سرمایہ لٹا سکتے۔ سیالکوٹ چیمبر آ ف کامرس کا ایک بڑا گروپ ان کے ساتھ تھا۔ اس نے الگ سے سرمایہ کاری کی اور حکومت نے بھی۔مبینہ طور پر کئی گاڑیاں ہر روز انتخابی مہم پر روانہ ہوتیں اور ہر گاڑی میں دو لاکھ کی نقدی دھری ہوتی۔ کہا جاتاہے کہ اسّی کروڑ روپے صرف ہوئے۔ تحریکِ انصاف نے نون لیگ ہی کا چلن اختیار کر لیا، جو پٹواریوں، تحصیلداروں اور یونین کونسلوں کے عملے کی مدد سے کی اعانت سے ظفرمند ہوا کرتی۔جیتنے کو پی ٹی آئی جیت گئی مگر یہ کیسی فتح ہے؟پھر اس ناتجربہ کار آدمی کو وزیرِ اعلیٰ کا مشیر بنا کر کابینہ میں بٹھا دیا گیا، اپنے حلقے کا نمائندہ وہ کیسے ہو سکتاہے۔ الیکشن اس نے روپے کی مدد سے جیتا ہے۔ عام آدمی اور اس کے دکھوں کی اسے کیا پرواہ؟ حلقہ این اے 133میں ایک وڈیو سامنے آئی۔

نون لیگ کے لوگ دو ہزار روپے کے عوض مرد و خواتین سے قرآنِ کریم پہ حلف لیتے دکھائے گئے۔ پھر دوسری ویڈیو۔ ایک قطار میں کھڑے ہوئے لوگ پیپلزپارٹی سے رقوم وصول کرتے پائے گئے۔ دونوں پارٹیاں کہتی ہیں کہ وہ نہیں، ان کے حریفوں نے ڈرامہ رچایا۔اب وہ خرید و فروخت کے مرتکب ہوئے یا حریفوں نے جعل سازی کی، اس میں کوئی شبہ نہ رہا کہ کھلے عام لین دین برپا ہے۔اسد اللہ خاں غالبؔ نے کہا تھا کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ شرم تم کو مگر نہیں آتی شاعر کی خطاذاتی تھی، بالکل ذاتی۔ وہ معاف کر دیا جاتا کہ اللہ غفور الرحیم ہے۔ سیاستدانوں کا وطیرہ مختلف ہے، ان میں سے اکثر کا۔ رسول اللہ ؐکے قولِ مبارک کا ان پہ اطلاق ہوتاہے: بے شرم اپنی مرضی کرے۔ اسی مخلوق کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا: ابلیس کے فرزند ہیں اربابِ سیاست باقی نہیں اب میری ضروری تہہِ افلاک برپا نظام کی بہت سی خرابیاں ایسی ہیں، بار بار جن کی نشاندہی کی جا چکی۔ مثال کے طور پر حکومتی کاروباری ادارے۔ ہر سال کم از کم تین،ساڑھے تین سو ارب روپے کا خسارہ۔ پی آئی اے سب سے بڑی مثال ہے۔ قومی خزانے کے اوسطاً چالیس ارب روپے سالانہ لٹتے ہیں۔ جہازوں کے تناسب سے سب سے زیادہ عملہ رکھنے والی ائیر لائن۔ کبھی یہ دنیا کی سب سے اچھی فضائی کمپنی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے کئی ممالک میں نئی ائیر لائنوں کی تعمیر جس کی رہنمائی میں ممکن ہوئی۔تین ساڑھے تین عشرے قبل بگڑنے لگی۔

یہ ٹریڈ یونین کے طفیل تھا۔ سیاسی پارٹیوں کی تشکیل کردہ مزدور انجمنیں۔میرٹ کو نظر انداز کر کے عملہ ان کے ایما پر بھرتی کیا جاتا۔مزدور لیڈر خود کام کرتے اور نہ ان کے حلقہ بگوش۔بنیادی ذمہ داری اگرچہ ایف آئی اے کی تھی، جس کا عملہ پاسپورٹ اور ویزے کھنگالتا ہے۔ فضائی کمپنی سے ملی بھگت کے بغیر لیکن یہ ممکن نہ تھا۔ ایک آدھ نہیں، درجنوں بار کمپنی کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ کے اخلاقی مسائل کا حل کیا ہے؟ نصف صدی ہوتی ہے، جب یہ سوال نوم چومسکی ایسے کسی دانشور سے پوچھا گیا۔جواب یہ تھا: یہی کہ اسے سمندر میں غرق کر دیا جائے۔پی آئی اے سمیت سرکاری کاروباری اداروں کا علاج فقط نجکاری ہے۔بیچنی پڑے تو پی آئی اے ایک روپے کے عوض بیچ دینی چاہئیے۔ایسا کیوں ممکن نہیں۔ جب بھی سوال کیا جائے، دو جواب سامنے آتے ہیں۔ اوّل یہ اس عمل کو شفاف بنانے کی تدابیر کی جارہی ہیں۔ثانیاً یہ کہ اداروں کوبہتر بنا کر فروخت کیا جائے گا تاکہ قومی سرمایہ ضائع نہ ہو۔ قیامت کا دن آگیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے ایک موہوم خواب، جو کبھی متشکل نہ ہوگا۔ خود فریبی سی خودفریبی ہے۔ دھوکہ دہی سی دھوکہ دہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ٹھیکیداری نظام میں گھپلا ہی گھپلا ہے۔شاید ہی کوئی سڑک، کوئی پل، کوئی عمارت، کوئی گلی ہو،جس پہ کم از کم ایک تہائی زائد اخراجات نہ ہوں۔ بلوچستان اور سندھ میں یہ شرح اکثر پچاس فیصد سے بڑھ جاتی ہے۔ریلوے کا محکمہ کبھی منافع کمایا کرتا۔سامنے کی بات یہ ہے

کہ آمدنی مسافر نہیں، مال گاڑیوں سے ہوتی ہے۔ ٹرک کے مقابلے میں ٹرین سے سامان لانے لے جانے کے اخراجات صرف ایک تہائی ہیں۔بعض صورتوں میں اس سے بھی کم۔ سب جانتے ہیں۔ شیخ رشید مد ظلہ العالی مسافر گاڑیوں کی تعداد بڑھاتے گئے، بڑھاتے ہی چلے گئے۔ رشوت ستانی اس کے سوا۔ اب جنابِ اعظم سواتی سوارہیں۔ ان کی استعداد ہی نہیں کہ اتنا بڑا ادارہ چلا سکیں جو دراصل اٹھارہ بیس بڑے بڑے محکموں کا مجموعہ ہے۔ پچھلے دنوں آنجناب نے لاہور کے کئی افسر معطل کر دیے کہ ریلوے سٹیشن پر منتظم مسافروں کے لیے کرسیاں کیوں نہیں۔ریلوے کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس جرم پر کوئی سزا کا مستحق ٹہرا ہو۔ سادہ سی بات وہ نہیں سمجھتے کہ اوّل انہیں محکمے کو سمجھنا چاہئیے۔ اس کی خرابیوں کا ادراک کرنا چاہئیے۔ اصلاح کے لیے پھر ایک جامع لائحہ عمل طے کرنا چاہئیے جو ایک باصلاحیت اور قابلِ اعتماد ٹیم کے بغیر ممکن نہیں۔وہ جذبات ابھارتے اوروارننگز دیتے، حتیٰ کہ تمسخر اڑاتے ہیں۔ کوئی بتلانے اور سمجھانے والا نہیں۔ نکالاچاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پہ مہرباں کیوں ہو آج ایک صاحب نے خوب تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا: بزدار کو آپ روتے ہیں، عمران خاں بھی تو ایک طرح کے بزدار ہی ہیں۔سنتے کسی کی نہیں، سنانے پہ ہمیشہ تلے رہتے ہیں۔ وعظ اور مسلسل وعظ۔ تلقین اور پیہم تلقین۔ کب تک کہیے، کب تک پکارتے رہیے۔ غالبؔ ہی نے کہا تھا: حالِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلاؤں انگلیاں فگار اپنی خامہ خوں چکاں اپنا

Comments are closed.