میرا مشورہ ہے کہ خان صاحب غیر ضروری نہ بولیں اور آندھیوں پر نظر رکھیں ۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے ریٹائرڈ عہدیدار میجر جنرل (ر) زاہد مبشر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ افواج پاکستان کو جو چیز پاکستان کے دوسرے اداروں سے ممتاز کرتی ہے وہ انسانی حد تک میرٹ کی حکمرانی ہے۔اندرونی طور پر بھی فوج کے مختلف اداروں کو اپنے ادارے کے فیصلے کرنے

کی آزادی حاصل ہے۔آرمی چیف ہر فیصلے میں دخل اندازی نہیں کرتے۔مثال کے طور پر پچھلے دنوں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں پاسنگ آئوٹ پریڈ ہوئی جس میں نوشکی کے دور افتادہ علاقے کے ایک کیڈٹ کو شمشیر اعزاز عطا کی گئی۔یہ بلوچستان کے لئے بھی ایک اعزاز کی بات ہے اور کیڈٹ کالج سوئی کیلئے بھی کہ یہ نوجوان کیڈٹ کالج سوئی سے تعلیم یافتہ تھا۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کورس میں کیڈٹ ایسے ہوں گے جن کے والد فوج میں سینئر عہدوں پر فائز ہیں لیکن اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔میں یہ بھی یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس فیصلے میں آرمی چیف کا بھی کوئی ہاتھ نہیں ہے۔اس کا حتمی فیصلہ پی ایم اے کے کمانڈنٹ کی سرکردگی میں کیڈٹس کے اساتذہ یعنی پلٹون کمانڈرز کرتے ہیں جن کا اپنا عہدہ کیپٹن یا میجر ہوتا ہے۔ایک پورا سسٹم موجود ہے اور میرٹ کے خلاف کام کرنے کی گنجائش بہت کم ہے۔پاکستان کے سیاستدانوں نے فوج کے اس سسٹم میں نقب لگانے کی بارہا کوشش کی لیکن خوش قسمتی سے وہ کامیاب نہیں ہوئے۔سابق وزیر اعظم اسی وجہ سے کسی آرمی چیف سے بھی حتمی طور پر خوش نہیں رہے۔جنرل جہانگیر کرامت صرف ایک صائب مشورہ دینے کی پاداش میں ان کے عتاب کا شکار ہوئے اور انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔اس کے بعد ان کا حوصلہ اور بڑھ گیا اور انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو ایک غیر ملکی دورے کے دوران معزول کرنے کا حکم جاری کر دیا جو ان کے گلے پڑ گیا اور انہیں لینے کے دینے پڑ گئے۔

باقی سب تاریخ ہے۔ آج کل ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی ہر جگہ زیر بحث ہے حکومت کا تقریباً ہر وزیر اور مشیر اپنی رائے دے رہا ہے۔ پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کا یہ پسندیدہ موضوع ہے۔حکومت کے وزیر اور مشیر پوری قوم کو یہ یقین دلانے میں مصروف ہیں کہ کوئی مسئلہ موجود ہی نہیں ہے۔بس تھوڑا سا پروسیجر معاملہ ہے یا ٹیکنیکل معاملہ ہے جسے حل کر لیا گیا ہے۔ایک دن تو اخبارات نے یہ اطلاع بھی دے دی کہ وزارت دفاع نے سمری بھیج دی ہے اور ایک دن بعد وزیر اعظم دستخط کر دیں گے۔اس میں تین نام بھی بتا دیے گئے جو سمری میں موجود ہیں۔اس کے بعد شاید کچھ تبدیلی آئی کہ حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹیلی ویژن پر اپنے تفصیلی انٹرویو میں مسئلہ حل ہو جانے کی نوید تو سنائی لیکن ٹائم فریم دینے سے گریز کیا۔اگرچہ ان کی اپنی خواہش یہی تھی کہ یہ فیصلہ جتنی جلدی ہو جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن انہوں نے کوئی حتمی وقت نہیں دیا کہ ان کے مطابق انہیں معلوم ہی نہیں تھا۔ اس کھینچا تانی میں پی ڈی ایم کو بھی اپنے زندہ ہونے کا احساس ہوا اور مولانا فضل الرحمن‘شہباز شریف اور مریم نواز نے اپنی اپنی ڈفلی بجائی اور اس معاملے کو ہوا دینے کی مقدور بھر کوشش کی۔مولانا کا کہنا ہے کہ ملک کو جنات کی رہنمائی میں چلایا جا رہا ہے اور مریم نواز نے بھی جادو ٹونے کی کہانیاں سنائیں۔جواب آں غزل کے طور پر شہباز گل نے چڑیل کی داستان سنائی ہے اور سوشل میڈیا پر مریم اورنگزیب کی ایک ویڈیو وائرل ہے

جس میں وہ انڈوں کی مدد سے اپنی نظر اتار رہی ہیں یا مزید کامیابی کے لئے کوئی ٹونہ کروا رہی ہیں۔توہمات کا ایک شہر ہے جو ہمارے اردگرد آباد ہے۔لوگ عمران خان کے ایک صوفی بشیر احمد کو بھی یاد کر رہے ہیں اور نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے مشترکہ پیر دھنکا شریف کا بھی ذکر رہے ہیں جو ایک چھڑی سے اپنے مریدوں میں اپنی فیوض و برکات بانٹتے تھے۔سابق صدر آصف زرداری کے پیر اعجاز احمد تو قصر صدارت میں مقیم رہتے تھے اور جناب زرداری کو اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے تھے۔پتہ نہیں آج کل یہ پیر صاحب آصف زرداری کی ضمانت لینے میں کیوں مدد نہیں کر رہے۔عام طور پر اس طرح کے پیر فقیر عہد اقتدار میں ہی اپنے مریدوں کو اپنی برکات سے نوازتے ہیں اور خود بھی فیض یاب ہوتے ہیں۔ یادش بخیر جب چیف آف آرمی سٹاف کی ایکسٹینشن کا مرحلہ درپیش تھا اس وقت بھی وزیر اعظم کی خواہش تھی کہ ان کی ایک چٹ ہی آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے لئے کافی ہو گی۔پھر عدالت عظمیٰ کی مداخلت ہوئی اور ایک لمبا پروسیجر اختیار کرنا پڑا اور آخر کار بات قومی اسمبلی تک پہنچی۔جس سرعت کے ساتھ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے ایکسٹینشن کے حق میں ووٹ دیے وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ وزیر اعظم اب ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے لئے پورے پینل کے انٹرویو کریں گے اور پھر اپنا فیصلہ صادر کریں گے۔وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ انٹرویو نہیں ہوں گے بلکہ نوٹیفکیشن ہو گا۔بہرحال جس طرح عمران خان معاملات کو طول دینے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں

‘گمان غالب ہے کہ وقت گزاری کے لئے طویل پروسیجر ہی اختیار کیا جائے گا۔شاید تقرر کا وقت مناسب نہیں ہے۔وزیر اعظم نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ لوگوں کو سمجھا نہیں پا رہے کہ مہنگائی کی اصل وجوہات کیا ہیں۔انہوں نے اپنے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کو بھی اپنے اپنے حلقے میں جا کر لوگوں کو مہنگائی کی اصل وجوہات سمجھانے کی ہدایات دی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بین الاقوامی طور پر بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس راقم کی ناقص رائے میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ ہماری حکومت کی بری حکمت عملی اور بری گورننس کی وجہ سے ہے۔تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی پی ٹی آئی کی حکومت بیورو کریسی اور پولیس کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔افسر ہر وقت اپنے ٹرانسفر کے لئے تیار رہتے ہیں اور دلجمعی سے اپنا کام نہیں کرتے۔حکومت افسروں کا اعتماد جیتنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔اسی لئے کوئی افسر شاہی کا پرخلوص تعاون حاصل نہیں۔میڈیا سے بھی حکومت کے تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں۔میڈیا کی تمام تر کمزوریوں کے باوجود یہ حکومت ہی کا کام ہے کہ وہ میڈیا کو اپنی حکومت کے حق میں ہموار کرے تاکہ ان کی کارکردگی بھی اجاگر ہو سکے۔ امریکہ کے ساتھ ہماری حکومت کے تعلقات جس نہج پر چل رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم نے Absolutely notکا نعرہ لگا کر عوا کے دل جیتے ہیں لیکن اس کے مضمرات پر غور کرنا بھی حکومت ہی کا کام ہے۔امریکی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ بھی عوام میں مقبول ہوا خاص طور پر جب اس نے اپنے دورہ بھارت میں پاکستان کے لئے کسی خیر سگالی کا تاثر نہیں دیا تھا۔اب غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس نازک صورت حال میں امریکی ناظم الامور انجیلا ایگلر کو کیا ضرورت محسوس ہوئی ہے کہ وہ شہباز شریف اور مریم نواز سے پے درپے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔قائم مقام گورنر جناب پرویز الٰہی سے بھی ملاقات کی ہے اور وہ فرما رہے ہیں کہ مختلف شعبوں میں امریکی تعاون قابل تعریف ہے۔یہ تعاون باقی قوم کو کیوں نظر نہیں آ رہا۔عمران خان آزاد خارجہ پالیسی ضرور بنائیں لیکن غیر ضروری نعرے لگانے سے گریز کریں اور آندھیوں کے رخ پر نظر رکھیں۔